تحریر: علامہ سید جواد نقوی
فلسطین کا زخم ایک صدی سے رس رہا ہے، مگر آج جو لہو بہہ رہا ہے، وہ ایک نظریے اور مزاحمت کی آواز کو دفن کرنے کی دانستہ اور منظم کوشش ہے۔ غزہ کی سرزمین لہو رنگ ہو چکی ہے، اور بمباریوں کی زد میں آئے خیمے صرف مٹی کے ڈھیر نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی غیرت کے آخری نشان ہیں۔ ہر گرتا ہوا خیمہ، ہر روتا بچہ، ہر خون آلود لاشہ نہ صرف اسرائیلی جارحیت کی دلیل ہے، بلکہ اْن خاموش زبانوں کی بھی گواہی ہے جو تین دہائیوں سے مسئلے کے دو ریاستی حل کو بطور راستہ پیش کرتے آئے ہیں۔پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں 50 ہزار سے زائد کٹی پھٹی لاشوں کے باوجود دو ریاستی حل کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں جسے 1993 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے کرائے کے نمائندوں کے ذریعے عالمی سیاست کا حصہ بنایا گیا۔ اس حل کے مطابق، اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ایک "آزاد ریاست" کا خواب دکھایا گیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہونا تھا۔ مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ خواب محض ایک سراب تھا، ایک ایسا فریب، جو فلسطینی زمین کو ہڑپنے کے اسرائیلی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی، منظم تاخیر اور سفارتی پردہ تھا، جس کے پیچھے فلسطینی مزاحمت کو بتدریج دفن کرنا مقصود تھا۔ یہ ایک طے شدہ شکست کا کاغذی مسودہ تھا، جسے فلسطین فروشوں نے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر تیار کیا۔ جس "حل" کی پہلی شرط اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا ہو، وہ انصاف کے اصولوں کو ہی مٹا دیتا ہے۔1993 کے اوسلو معاہدے کے بعد وجود میں آنے والی فلسطینی اتھارٹی عملاً اسرائیلی مفادات کی محافظ بن گئی۔ اسرائیل نے اس عرصے میں نہ صرف دو ریاستی حل کی طرف کوئی عملی پیش رفت نہ کی، بلکہ اسی سلسلے کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کوئی اہمیت نہ دی۔ انسانی حقوق کے عالمی دعویداروں نے منافقت اور دوغلے معیار کو اپنا شعار بنا لیا۔ بستیوں کی توسیع، غزہ پر وحشیانہ بمباری، اور فلسطین کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی مسلسل کوششیں جاری رہیں۔ عرب حکمران اس ظلم کے سامنے خاموش تماشائی بنے رہے، اور اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی دھجیاں اڑانے اور ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے کے باوجود مزاحمت کا راستہ اختیار نہ کیا، حالانکہ یہی ایک فطری ردعمل بنتا تھا۔آج بھی جب دو ریاستی حل کی رٹ لگائی جاتی ہے، تو درحقیقت مزاحمت کے بیانیے کو دبانے، فلسطینی عوام کی قربانیوں کو غیر مؤثر بنانے، اور ظالم و مظلوم کے درمیان جھوٹا توازن قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصل ہدف اپنے مفادات کی خاطر مظلوم کو تنہا کرنا، یا اس خطے سے اپنے معاشی و سیاسی منصوبوں کی تکمیل میں حائل اس داستان کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان جیسے ممالک نے مزید "حقیقت پسند" ہونے کا مظاہرہ کیا اور ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ کسی فلسطینی ریاست کے وجود کی شرط کے بغیر پیمانِ ابراہیمی کے تحت ہاتھ ملا لیے۔ اس معاہدے کو دین کے مقدس نام پر ایک نیا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ معاہدہ تینوں الہامی مذاہب کے مشترکہ مذہبی ورثے پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کے دینی جذبات کو سہلا کر اس سیاسی سودے کو آسانی سے ایک مقدس رنگ دے دیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ نہ دین کے کسی اصول پر مبنی ہے، نہ حضرت ابراہیم? کی اْس سیرت سے مطابقت رکھتا ہے جو نمرود کے دربار میں باطل کے خلاف علمِ حق بلند کرتی ہے، خدا کی راہ میں عزیز ترین چیز کو قربان کرتی ہے، بتوں کو پاش پاش کرتی اور شیطانوں کو سنگسار کرتی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی، دفاعی اور اقتصادی مفادات کا سودا ہے، جس میں فلسطین کی جدوجہدِ آزادی کو قربان کر کے ایک غاصب ریاست کے وجود کو سندِ قبولیت عطا کی گئی۔سعودی عرب اگرچہ اب تک کھل کر ابراہیمی معاہدات میں شریک نہیں ہوا، مگر "دو ریاستی حل" کی بے جان لاش کو اپنی سیاست کی ڈھال بنا رکھا ہے اور اسے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ایک شرط کے طور پر پیش کرتا ہے، ذلت کو استقامت کا رنگ دے کر عالم اسلام پر اپنی قیادت کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس غبار میں امت کے اندر فلسطین کے نام پر پیدا ہونے والے اضطراب کو دبایا جا سکے، امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنایا جا سکے اور اسرائیل سے خفیہ اقتصادی و دفاعی مفادات کا حصول بھی جاری ہے۔ پاکستان بھی اسی ماڈل پر گامزن ہے؛ نہ مزاحمت کو راہِ نجات کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ اس کی کھل کر حمایت کرتا ہے۔ نرم لہجے میں اسرائیلی جرائم کی مذمت، امداد کی فراہمی، اور دو ریاستی حل کا مردہ بیانیہ دہرا کر اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں وہ مذہبی طبقات جو طویل عرصے سے سعودی عرب کے زیرِ اثر ہیں، اب حماس اور حزب اللہ جیسی قابلِ فخر مزاحمتی تحریکوں کی پذیرائی کی بدولت دو ریاستی حل کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، ان کا عملی رویہ اور پالیسیاں اب بھی اسی خیانت کا تسلسل ہیں، جس پر عرب حکمران کاربند ہیں۔ 19 ماہ سے جاری جنگ کے دوران پاکستان سے اسرائیل کے لیے سب سے بڑا سہارا انہی علما کی خاموشی رہی ہے۔ آج طاقتور سامراجی طاقتیں، مادی و عسکری وسائل اور ذرائع ابلاغ کی وسیع تبلیغات کے باوجود اسلامی مزاحمت کے سامنے مغلوب ہو چکی ہیں۔ ایران، حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن، کتائب حزب اللہ عراق، اور حماس جیسی تحریکوں نے ایک وسیع مزاحمتی بلاک تشکیل دیا، جن کی قربانیوں نے امریکی و صیہونی عزائم کے برعکس، پوری دنیا کو فلسطین سے مربوط اور ہم آہنگ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں فلسطین کا مسئلہ فراموشی کی نذر ہونے سے محفوظ رہا ہے۔ آج امام خمینی کا قدس کے محور پر مبنی بین الاقوامی ہم آہنگی اور مزاحمت کا نظریہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خصوصاً اب اسرائیل کی درندگی سے پردہ اٹھنے اور ان مقدس قربانیوں کی بدولت امت کو یہ کم از کم اور لازمی اقدام کرنا ہوگا کہ ان کے حکمرانوں کی مصلحت پسندی اور منافقت کا دور ختم ہونا چاہیے۔لیکن امت اسلامیہ کو خیانت کار حکمرانوں کا منتظر نہیں رہنا چاہیے، اور نہ ہی اس خوش فہمی میں مبتلا ہونا چاہیے کہ وہ کوئی اقدام کریں گے۔ یہ ضروری ہے کہ امت مسلمہ فلسطین، کشمیر اور تمام اسلامی سرزمینوں کی آزادی کے لیے اپنا الگ راستہ اپنائے؛ وہ راستہ جو امام خمینی? نے تجویز کیا تھا۔ غاصب صہیونی حکومت نے اپنے اہداف کو طفل کشی، قتل و غارت، آہنی مکے اور وحشیانہ تشدد کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسی ریاست، جو سوچ اور تخیل سے بھی بعید جرائم کا ارتکاب کرتی ہے، کے مقابلے کا واحد ذریعہ پرعزم اور مسلح مزاحمت ہے۔ فلسطین اسلام کا مسئلہ ہے۔ آج جو ابراہیمی معاہدات کی قینچی سے قبلہ اول کے نقشے کاٹ رہے ہیں، امت اسلامیہ کو جان لینا چاہیے کہ کل انہی ہاتھوں سے حرمین شریفین کا سودا بھی ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلسطین کی جدوجہد: دو ریاستی حل اور پیمانِ ابراہیمی