گورنر راج کی آوازیں 230

گورنر راج کی آوازیں

ملک کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ’’نوٹیفکیشن‘‘ کی بازگشت ہے۔ اکتوبر 2021ء میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی تھی جب اْس وقت کی حکومت ایک اہم عہدے پر تقرری کے معاملے میں پس و پیش سے کام لے رہی تھی، اور یہی تذبذب بعد میں کشیدگی کا سبب بنا۔ آج پانچ سال بعد کچھ ایسا ہی ماحول محسوس ہو رہا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر سیاسی ماہرین کے مطابق پردے کے پیچھے کوئی نہ کوئی الجھاؤ بہرحال موجود ہے۔ 27 نومبر کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سبکدوش ہونے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وفاق نئی آئینی ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ لیکن 29 نومبر کی تاریخ گزرنے کے باوجود نوٹیفکیشن سامنے نہ آسکا، جس نے حکومتی مشینری کی رفتار اور اس معاملے کے آئینی پہلوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ شاید سیاسی درجہ حرارت میں اچانک اضافہ نہ ہو اس لیے کچھ فیصلوں میں تاخیر اختیار کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین سے پارٹی ممبران، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقاتیں بھی روکی ہوئی ہیں، حالانکہ وہ متعدد بار اڈیالہ جیل کا چکر لگا چکے ہیں۔ عدالت نے ہفتے میں دو روز ملاقات کی اجازت بھی دے رکھی ہے، مگر عملاً یہ سہولت فراہم نہیں ہو رہی، جس نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس عمومی بے سمتی میں ایک تاثر یہ بھی گہرا ہو رہا ہے کہ ملک جیسے ’’اللہ توکل‘‘ چل رہا ہو۔ نہ کوئی پالیسی کی سمت واضح، نہ معاشی حکمت عملی، نہ گورننس کی مضبوطی، نہ عوامی مسائل کی شنوائی۔ سیاسی قیادت اور انتظامی ڈھانچہ دونوں تھکن، الجھن اور بے ربطی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر ایسے موقع پر جب مرکز اور صوبے کے درمیان اعتماد کی فصیلیں پہلے ہی کمزور ہو چکی ہوں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خیبرپختونخوا کے معاملات اْس وقت زیادہ بگڑے جب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ نئے وزیر اعلیٰ کے مرکز کے ساتھ تعلقات ابھی تک ہم آہنگی کی سطح تک نہیں پہنچ سکے، اور ملاقاتیں نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی قیادت اتنی بڑی قیمت پر یہ عدم رابطہ کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے؟ ملاقات نہ کرانا کوئی مضبوط یا دیرپا حکمت عملی نہیں بن سکتا۔ اگر ملک میں پچھلے تین برسوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ کوئی بڑا پالیسی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ادارہ جاتی اصلاحات رْکی رہیں، معیشت مستقل دباؤ کا شکار رہی، عدالتی اور انتخابی نظام تک کئی سطحوں پر عدم فعالیت کا شکار رہے۔ اقربا پروری اور انتظامی کمزوری نے کئی اداروں کو نیم مردہ حالت میں پہنچا دیا۔ ان حالات میں اگر کسی صوبے میں گورنر راج کی بات کی جائے تو یہ سوچے سمجھے بغیر لیا گیا قدم محسوس ہوتا ہے جس کے نتائج زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان کی مثال سامنے ہے جہاں حکومتیں عملاً چند شہروں تک محدود رہتی ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا میں بھی ایسا ہوا تو قومی یکجہتی مزید کمزور ہوگی۔ سیاسی تصادم کے اس ماحول میں سب سے آسان راستہ مکالمہ ہے، اور سب سے مشکل بھی۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ ہر مسئلے کا حل مکالمے ہی سے نکلتا ہے۔ سیاسی قیادت اگر انا اور ضد سے بالاتر ہو کر بات چیت کے دروازے کھولے تو کئی مشکلات ازخود کم ہو سکتی ہیں۔ یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جس رہنما کو عدالتوں نے سزا دے دی ہے، اس کی قانونی حیثیت پہلے ہی واضح ہے۔ اب ملاقات جیسی بنیادی سہولت روکنے کا جواز کمزور ہے، کیونکہ یہ حق ہر قیدی کو حاصل ہے چاہے وہ سنگین مقدمات میں ہو یا معمولی الزامات میں۔ اڈیالہ جیل میں ہزاروں قیدیوں کو ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت ہے، وکلاء سے رابطے کا حق دستور کا حصہ ہے، اور یہ سہولت کسی سے نہیں چھینی جاتی۔ ایسے میں اگر ایک سیاسی قیدی کو ملاقاتوں سے محروم رکھا جائے تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ایسا کرنے کا فائدہ کس کو ہے؟ اور اس کے سیاسی اثرات کس پر پڑیں گے؟ میڈیا میں بڑھتی ہوئی چہ مگوئیاں اسی خلا کا نتیجہ ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ دبائو بڑھانے سے سیاسی نقصان بھی بڑھتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی سرگرمیوں کا موقع دیا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بڑے جلسے اور تحریکیں روکنے کے بجائے انہیں ایک حد تک جاری رہنے دیا جائے تو وہ اپنی شدت کھو دیتی ہیں۔ 1986ء میں بے نظیر بھٹو کی آمد پر بڑے مظاہرے ہوئے، مگر اْس وقت کی حکومت نے ٹکرائو کے بجائے سیاسی گنجائش دی جس سے ماحول خود ہی معتدل ہوتا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے لیے جگہ پیدا کرنا ہمیشہ سیاسی استحکام کا ذریعہ بنتا ہے، نہ کہ کمزوری کی علامت۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ گورنر راج لگانے، سخت اقدامات کرنے یا آئینی ترامیم کے ذریعے راستے تبدیل کرنے سے مطلوبہ نتائج کب حاصل ہوئے؟ یہ اقدامات وقتی طور پر تو ماحول بدل دیتے ہیں مگر مستقل حل کبھی نہیں بنتے۔ آج اگر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سب ادارے ایک جانب کھڑے ہیں اور سیاسی فیصلے ایک رخ پر ہیں تو اس کے باوجود مستقبل غیر یقینی ہی رہتا ہے۔ سیاست میں طاقت کبھی مستقل نہیں رہتی، اور آج کے فیصلے کل کے حالات بدل سکتے ہیں۔ ملک اس وقت جس سیاسی انتشار کا سامنا کر رہا ہے، اس میں مزید سختی لانا نہ حکمت ہے اور نہ قومی مفاد۔ بہتر یہی ہے کہ سیاسی قیادت وسیع تر سوچ اپنائے، ملاقاتوں اور سیاسی سرگرمیوں کے دروازے بند نہ کرے، اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے۔ تحریک انصاف ہو یا کوئی اور جماعت، سیاسی حقیقت یہی ہے کہ عوامی مقبولیت کا فیصلہ شفاف انتخابات ہی کرتے ہیں۔ اگر حکومت کو یقین ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر جلسوں اور ملاقاتوں سے کیا خوف؟ آزادانہ سیاسی ماحول کسی بھی ریاست کی طاقت بڑھاتا ہے، کم نہیں کرتا۔ یہ وقت ٹکرائو نہیں، دور اندیشی کا ہے۔ سوچنے کا ہے کہ ملک پہلے بھی سخت فیصلوں کی قیمت ادا کر چکا ہے، اور مزید دباؤ اسے مزید کمزور بنا سکتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے تو سیاسی استحکام بھی آئے گا اور معیشت بھی سانس لے سکے گی۔ گورنر راج کی چھڑی گھمانے کے بجائے بات چیت کا راستہ کھولا جائے، یہی واحد راستہ ہے جو ملک کو مزید انتشار سے بچا سکتا ہے۔ آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم