حرمتِ قرآن ، امت مسلمہ کا احتجاج رنگ لے آیا 227

حرمتِ قرآن ، امت مسلمہ کا احتجاج رنگ لے آیا

عید الاضحی کے دن سویڈنمیں قرآن کریم کی بے حرمتی کا دل خراش واقعہ پیش آیا جس میں ایک ملعون عراقی نژاد شخص نے سویڈن میں عید الاضحی کے روز مسجد کے سامنے مسلمانوںکے دیکھتے ہوئے قران کریم کا نسخہ جلا کر مسلمانوں کی دل آزاری کی۔ پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا لیکن سویڈن کی حکومت نے اسے آزادی اظہار رائے قرار دیتے ہوئے اسے جرم قرار دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے ملعونوں کی جرأت بڑھ گئی اور انہوں نے پھر قران کریم کے نسخے جلانے کا اعلان کیا۔ان کی دیکھا دیکھی ڈنمارک میں بھی چند شر پسندوں نے قران کریم کے نسخے جلا کر قران کریم کی بے حرمتی کی۔ ان واقعات پر پوری امت مسلمہ نے شدید احتجاج کیا مسلمانوں حکمرانوں نے اس کی مذمت کی ، عراق میں سویڈن کا سفارت خانہ جلا دیا گیا اور سویڈن کے سفیر کو ملک بدر کر دیا گیا اسی طرح مراکش نے بھی سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے اس کے سفیر کو ملک سے نکال دیا۔ ان دلخراش واقعات کی وجہ سے پوری امت مسلمہ کی دل آزاری ہوئی جس پر مسلمانوں نے ہر ملک کے اندر احتجاجی مظاہرے کیے ۔ عوام نے ہر شہر ہر گلی کوچے میں سویڈن اور ڈنمارک کے خلاف احتجاج کیے۔ مسلمانوں نے بھرپور طریقے سے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم قران کریم کی بے حرمتی کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے اور یہ دنیا کے اربوں مسلمانوں کے لیے کس قدر دل آزاری کا باعث بن رہا ہے۔ الحمدللہ! امت مسلمہ کا یہ احتجاج رنگ لایا اور ڈنمارک نے قران کریم کی بے حرمتی کو جرم قرار دینے کا قانون لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قران کریم کی بے حرمتی یا کسی بھی مذہب کی توہین جرم قرار دی جائے گی ۔ ڈنمارک کے وزیر انصاف پیٹر ہملگارڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے کسی بھی مذہب کی توہین یا بے حرمتی پر پابندی عائد کی جائے گی اور اس قانون کے تحت کسی مذہب یا اس کی مقدس اشیا کی بے حرمتی پر 2سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔ دراصل ڈنمارک کے لیے خود بھی مسئلہ پیدا ہو گیا تھا جب سے قران کریم کی بے حرمتی ہوئی اور امت مسلمہ نے احتجاج شروع کیا تو ڈنمارک کی حکومت کو ملک کی سکیورٹی سخت کرنی پڑی اور انہیں سرحدوں کی سیکیورٹی کو بھی انہیں سخت کرنا پڑا لیکن جیسے ہی انہوں نے قانون بنانے کا اعلان کیا توساتھ ہی انہوں نے سکیورٹی بھی نرم کر دی۔ قوی امید ہے کہ ڈنمارک میں جلد ہی قران کریم کی بے حرمتی کو جرم قرار دیا جائے گا پھر اس کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی دیگر یورپی ممالک بھی مذہبی توہین کو جرم قرار دیں گے۔ جس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شان اقدس میں گستاخی ،قرآن کریم کی بے حرمتی اور دیگر اسلامی شعائر کے استہزا کا سلسلہ رک جائے گا۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی برس سے جاری ہے جس میں کبھی (نعوذباللہ) رسول اللہ ۖ کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے کی جسارت کی جاتی ہے اور کبھی قرآن کریم کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی ہے جو مسلمانوں کے لیے کسی طرح قابل قبول نہیں ہے ۔ مسلمان ہمیشہ ان کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن مغرب کے نام نہاد روشن خیال اور سیکولر طبقے اسے آزادی اظہار رائے قرار دے کر درست قرار دیتے ہیں۔ آزادیٔ اظہار رائے کا نعرہ لگانے والوں کے پاس اس کی خود بھی کوئی تعریف یا تشریح نہیں ہے کیونکہ ان کے ہاں بھی آزادیٔ اظہار رائے لامحدود نہیں ہے بلکہ اس کی حدود و قیود ضرورہیں۔ اگر کوئی شخص ان کی قومی سلامتی کے خلاف بات کرے تو کیا وہ اسے آزادیٔ اظہار رائے قرار دے کر خاموش رہیں گے؟ ہرگزنہیں بلکہ وہ اس کے خلاف سخت کاروائی کریں گے۔ اسی طرح یورپ کے کئی ممالک میں ہولوکاسٹ کے خلاف گفتگو کرنے پر پابندی عائد ہے ۔ یہ سب باتیں اس بات کو پختہ کرتی ہیں کہ مغرب میں بھی اظہار رائے آزادی لا محدود نہیں ہے بلکہ اس کے لیے حدود و قیود ہیں لیکن جب اسلام اور شعائر اسلام کی توہین کا معاملہ آتا ہے تو وہاں آزادیٔ اظہار رائے لا محدود ہو جاتی ہے۔ بہرحال اس مرتبہ امت مسلمہ نے جو شدید احتجاج کرتے ہوئے مغربی دنیا کو تنبیہ کی کہ ہم کسی صورت قرآن کریم اور شعائر اسلام توہین برداشت نہیں کریں گے تو اس پر مغربی ممالک نے بھی سوچنا شروع کر دیا اور بالآخر ڈنمارک نے قرآن کریم کی بے حرمتی اور کسی بھی مذہب کی توہین کو روکنے کے لیے قانون لانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو کسی بھی مسئلہ پر خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اس پر شدید احتجاج کرنا چاہیے اور اپنی بساط کے مطابق آواز بلند کرنی چاہیے۔ اس طرح جب تمام مسلمانوں کی آوازیں ملتی ہیں تو وہ ایک زبردست تحریک کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جس سے کفار خوفزدہ ہو جاتے ہیںاور مسلمانوں کو ان کا حق دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جب بھی امت مسلمہ کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو تمام مسلمانوں کو اپنے اپنے حلقہ کے اندرآواز بلند کرتے رہنا چاہیے اور دنیا کو اپنے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کرنا چاہیے۔

بشکریہ اردو کالمز