جب میرے مریض نے مجھے اپنا جنسی راز بتایا 484

جب میرے مریض نے مجھے اپنا جنسی راز بتایا

ہمارے ارد گرد نجانے کتنے مرد اور عورتیں ایسے ہیں جنہیں ہم ہفتوں ’مہینوں‘ برسوں بلکہ دہائیوں سے جاننے کے باوجود نہیں جانتے کیونکہ انہوں نے کبھی اپنا راز ہمیں نہیں بتایا کیونکہ وہ اپنے سچ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں خود سے بھی چھپائے رکھتے ہیں۔

 

وہ لوگ ایک دوہری زندگی گزارتے ہیں
وہ سماجی رشتوں کی دنیا میں کچھ اور ہوتے ہیں
اور اپنے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں کچھ اور

اور پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب وہ کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جسے وہ اپنے دل میں برسوں کا چھپایا ہوا راز بتا دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ خود بھی حیران ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی حیران کرتے ہیں۔

مجھے بھی اپنے کلینک میں ایک ایسے ہی سچ سے واسطہ پڑا جب میرے ایک مریض اینتھونی نے چند ماہ کے ڈپریشن کے علاج کے بعد مجھ سے کہا

میں آپ کو اپنا ایک راز بتانا چاہتا ہوں
ضرور بتائیں

میری عمر پچاس برس ہو گئی ہے اور آج میں پہلی دفعہ کسی انسان سے کہہ رہا ہوں۔ میں گے ہوں۔
اگر آپ گے ہیں تو پھر آپ نے شادی کیوں کی بچے کیوں پیدا کیے؟

شادی میں نے گھر والوں کو خوش کرنے کے لیے کی تھی۔ اس وقت مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں گھر والوں کو اپنا سچ بتا سکوں۔

اگر آپ سچ بتا دیتے تو کیا ہوتا؟

کیا ہوتا؟ مجھے ملازمت نہ ملتی۔ میرے دوست نہ بنتے اور میری تحقیر و تذلیل کر کے مجھے گھر سے نکال دیا جاتا۔ عاق کر دیا جاتا۔

تو آج آپ کو کیسے ہمت ہوئی؟
آپ کی تھراپی نے مجھے اتنی ہمت دی اتنا حوصلہ دیا کہ میں دل کی بات زبان پر لا سکوں۔

 

گے مردوں اور لیسبین عورتوں کے بارے میں لوگوں کا کیا رویہ ہے؟
کوئی اسے گناہ سمجھتا ہے
کوئی اسے غیر اخلاقی سمجھتا ہے
کوئی اسے غیر قانونی سمجھتا ہے
اور کوئی اسے غیر فطری قرار دیتا ہے۔

آپ کی اپنی کیا رائے ہے؟

میں سب انسانوں کو برابر سمجھتا ہوں۔ گے ہوں یا سٹریٹ ہوموسیکشول ہوں ہیٹروسیکشول ہوں یا بائی سیکشول
ہم سب خدا کے بچے ہیں اور قابل احترام ہیں۔

میں نے مریض سے کہا کہ وہ ہماری گروپ تھراپی میں شرکت کریں اور دوسرے مریضوں کو اپنی کہانی سنائیں۔
پہلے تو وہ مریض ہچکچایا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں گروپ کے ممبروں کا رد عمل جارحانہ نہ ہو جائے۔

 

چند ہفتوں کے بعد جب اس مریض نے گروپ تھراپی میں اپنی دلخراش کہانی سنائی تو دوسرے ممبروں کا رویہ ہمدردانہ تھا۔

ایک بزرگ مریضہ نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں اور دونوں لیسبین ہیں۔ ایک کی تو اپنی محبوبہ سے شادی ہو گئی ہے کیونکہ کینیڈا میں نیا قانون بنا ہے جس کی رو سے دو لیسبن عورتیں یا دو گے مرد شادی کر سکتے ہیں اور ایک ہی گھر میں ہنسی خوشی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

اگلے ہفتے گروپ کے ایک بزرگ ممبر نے اعتراف کیا کہ جوانی میں وہ
ہوموفوبک HOMOPHOBIC
تھا۔ وہ گے مردوں سے اتنی نفرت کرتا تھا کہ وین کوور میں وہ ہفتے کی شام کسی گے کلب میں جاتا تھا اور کسی گے مرد کو اپنے گھر لا کر اس کی پٹائی کرتا تھا۔

پھر کیا ہوا کہ اس کے ہاں دو بیٹیوں کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا۔
وہ اپنے بیٹے سے حد سے زیادہ پیار کرتا تھا۔
وہ بیٹا جب جوان ہوا تو اس نے ایک دن اپنے باپ سے کہا
بابا میں گے ہوں

اس ایک جملے سے ایک بیٹے نے باپ کے متعصبانہ اور جارحانہ لہجے میں اہم تبدیلی پیدا کی۔
باپ نے بیٹے کو گلے لگایا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

 

گروپ تھراپی میں اپنے راز کے اظہار کے بعد میرا مریض اینتھونی بہتر محسوس کرنے لگا
چند ماہ کی تھراپی کے بعد وہ صحتمند ہو گیا اور ایک پرسکوں زندگی گزارنے لگا۔

ہمارے ارد گرد نجانے کتنے گے مرد اور لیسبین عورتیں اپنے سچ کا اظہار نہیں کر پاتے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ

لوگ ان پر فتوے لگائیں گے
اور
انہیں سنگسار کر دیں گے

اب آپ سے سوال
کیا آپ کسی گے مرد یا لیسبین عورت کو جانتے ہیں؟
کیا آپ کا ان لوگوں کے بارے میں رویہ جارحانہ ہے یا ہمدردانہ؟

بشکریہ ہم سب