اٹھارویں صدی کے سیاسی مفکر روسوکا خیال کہ نمائندہ نظام میں چند سال میں ایک مرتبہ لوگ انتخاب کے وقت آزاد ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ اپنے حکمرانوں کی ماتحتی میں وآپس غلامی میں پہنچ جاتے ہیں، جو غلامی سے بہتر نہیں ہوتی، اسی طرح سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی اختیار اِس وقت پر اثر ہو گا جب انتخابات آزادانہ اور غیر جانبدار ہوں،سرکار کھلی پالیسی پر عمل پیرا ہو ،اور عملی طور پر پارلیمان کو اتنی قوت حاصل ہو کہ وہ حکومت کے کاموں کو پرکھ سکے اور انکی نگرانی کر سکے،جمہوریت میں دو جڑواں سنہری اصول ہیں ایک اجتماعی فیصلوں پر عوامی اختیار، دوسرا ان کے نفاذ میںعوام کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔
اس کسوٹی کو سامنے رکھیں تو ہمارا نمائندہ نظام اِس پر پورا اترنے سے قاصر ہے، اس وقت بھی تمام تر صلاحتیں'' کنگ پارٹی''کی فارمنگ پر صرف کی جارہی ہیں،مختلف سیاسی قائدین الگ الگ شہروں میں متحرک ہیں،نئے نئے گروپ تشکیل پارہے ہیں، شکست و ریخت کا لا متناہی سلسلہ عروج پر ہے، ان کاوشوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس بابت مورخ خاموش ہے، کیونکہ روسو کے تخیل کے مطابق تو یہاں کے عوام کو کبھی بھی آزادانہ انتخابات میں حصہ لینے کی'' سعادت ''نصیب نہیں ہوئی، گذشتہ انتخابات کی شفافیت پرتاحال انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔سابقہ سرکار کو عوام پر مسلط کرنے والے بھی اپنی غلطی کا دبے لفظوں اظہار کر تے ہوئے '' کفارہ'' ادا کر رہے ہیں،اس کے باوجود عوامی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں کہ اب بھی بہت سے سیاسی پنڈت اقتدار کا مزہ چکھنے کے لئے اپنا اپنا کندھا پیش کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔
9 مئی کے واقعات نے جہاں بہت سے اداروں کی آنکھیں کھولی ہیں وہاں سیاسی قائدین کو بھی احساس ہوا ہے کہ سیاسی جماعت کی چلانے کے لئے محض ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا کافی نہیں ہے بلکہ ورکرز کی سیاسی اور اخلاقی تربیت بھی ناگزیر ہے۔
یونانی قدیم کہاوت ہے کہ جوتا کاریگر بناتا ہے، مگر اس کا نقص پہننے والا نکالتا ہے، ہماری قومی سیاسی قیادت کو تواپنی مرضی سے ''سیاسی جوتا'' پہننے کی اجازت ملی ہی کب ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی مضبوطی کا تعلق پارٹی میں مسند جمہوری روایات سے عبارت ہے،ایک پارٹی سے دوسری میںہجرت کرنے والے افراد بتدریج اپنی سیاسی اہمیت کھو رہے ہیں۔چند معدودے لوگ ہر پارٹی میں نظر آتے ہیں، ان کے نزدیک یہی جمہوریت کا '' حسن'' ہے تاہم سوشل میڈیا کی موجودگی میں انھیں اچھے الفاظ یاد نہیں کیا جاتا ہے،اسی کا فیض ہے کہ پریس کانفرنس کرنے والے اب پارٹی کے علاوہ سیاست کو بھی خیر آباد کہہ رہے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایسے بے شتر بے مہار خو د ساختہ سیاسی لوگ جمہوریت کے ماتھے پر بد نما داغ ہیں اور غیر جمہوری قوتوں کے لئے آسان ٹارگٹ ہیں جن کی خدمات ا پنی مرضی کی سرکار بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کے چار اجزاء ترکیبی ہیں، جن میں قابل ذکر آزاد انتخاب،صاف گو اور جواب دہ سرکار،سیاسی جمہوری حقوق اور شہری معاشرہ،ہمارے سماج میں یہ تراکیب افسانوی لگتی ہیں،کتابوں میں بھلے اچھی ہوں مگرعملی طور پر ان کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا،مقبولیت
کے گراف سے نیچے آنی والی پارٹی کا ایک ٹکٹ کروڑ روپئے میں فروخت ہونے کی شنید ہے، دیگر میں بھی پارٹی فنڈ کے نام پر بھاری بھر مالی
قیمت امیدواران کو انتخابی میدان میں اترنے کے لئے ادا کرنا پڑتی ہے،ماضی کی تلخ روایات بتاتی ہیں کہ ایسے امیدواران نے اس سے کئی گنا زیادہ مالی فوائد ''عوامی خدمت'' کی پاداش میں اپنے نام کئے ہیں۔
سرکار بنانے کے لئے اراکین کے جہاز بھر کر پارلیمنٹ میں اتارنے کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے، اب بھی وہی ''ہستی ''متحرک ہے، انکی اس ''جمہوری خدمت'' کا فائدہ کون اٹھاتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا، تاہم ایوان بالا میں چیرمین کا عہدہ پانے کے لئے جو کچھ ہوا، اس پر صرف عوام شرمندہ ہیں۔
قارئین بتاتے ہیں کہ پارٹی سربراہان نے میثاق جمہوریت اور گذشتہ انتخابات سے سبق نہیں لیا ہے، مجبوری کے عالم میں پارٹی چھوڑنے والوں کے گلے میں پارٹی پرچم ڈال کر '' جمہوریت کی فتح'' کا جشن منایا جارہے، اسی بوسیدہ نظام میں رہتے ہوئے چہرے بدلنے کی تدابیر کی جارہی ہیں۔
کراچی میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات میں جماعت اسلامی کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی دانستہ کاوش کی جارہی ہے،نیز کامیابی کی صورت میں اختیارات نہ دینے کی در پردہ دھمکی میڈیا پر دی جارہی ہے، جمہوریت پروان چڑھانے کا یہ کون سا طریقہ ہے،راوی خاموش ہے، یہ اقدامات اس پارٹی کے ہاتھوں انجام پا رہے ہیں جمہوریت کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دینے پر جو نازاںہے، تو پھر قومی انتخابات کس طرح آزادانہ ہوں گے، ووٹر کے سامنے یہ ایک اہم سوال ہے، کیا وہاں بھی حکومتیں بے اختیار ہوں گی، جیسے سابق وزیر اعظم اپنی بے بسی کا رونا اقتدار سے الگ ہو کر روتے رہے؟کہ ان کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں تھا۔
آمرانہ دور میں تو جمہوریت بات کرنا کفر بکنے کے مترادف ہے مگر جمہوری دور میں بھی نیم مارشل لاء کی سی کیفیت کا اعتراف اِنکی شکست خوردگی کو نمایاں کرتا ہے، یہ اس لئے بھی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت مل بیٹھنے کو تیار نہیں، لولی لنگڑی سرکار کا زیادہ فائدہ کون اٹھاتا ہے اب یہ کوئی راز نہیں رہا، اس کے باوجود نہ تو انتخابی اصلاحات کو لازم سمجھاجا رہا ہے نہ ہی متناسب نمائندگی کے طرز انتخاب پر کوئی بات کرنے کو تیار ہے، یہی معاملہ انتخابی اخراجات کا بھی ہے، ایک ایک کڑور میں پارٹی ٹکٹ خرید کرنے کا مقصد تو'' انتخابی سرمایہ کاری'' لگتا ہے، ان حالات میں بھلا عام فرد کیسے پارلیمنٹ میں پہنچے گا۔
سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ معاشرتی اور اقتصادی عدم مساوات جمہوریت کے لئے تضحیک کا باعث بنتی ہے، معاشرے میں معاشی مساوات کی ایک مخصوص سطح کے بغیر حقیقی جمہوریت کا تصور بھی محال ہے۔جب تلک یہ عدم مساوات ختم نہ ہوجائیںتب تک شہری معاشرت خود کو جمہوری کہلوانے کا دعویٰ نہیں کر سکتی ہے، جاگیردارانہ،سرمایہ دارانہ، وڈیرہ شاہی کی موجودگی میں جمہوریت کے لئے قربانیاں دینے کا عزم خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔
نئے انتخابات کی آمد کا بگل بجنے کو ہے، مگر نہ تو سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر آباد کرنے کی کوئی سبیل نظر آتی ہے نہ ہی پارٹی قائدین کسی روڈ میپ پر متفق دکھائی دیتے ہیں جس سے غیر جموری قوت کا گذر نا بھی محال ہو، اس سے عوام یہ قیاس کریں کہ 75سال سے بلی چوہے کا کھیل اسی طرح جاری رہے گا، عوام صرف زندہ اور مردہ باد کے نعرے لگانے کی مجرم قرار پائے گی اور مراعات صرف اشرافیہ کا مقدر ہوں
گے،یا انتقامی سیاست کا چلن رہے گا،جس کا فائدہ مقتدر ہ اٹھائے گی۔
، قرضوں کے بوجھ تلے شہری، بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور نوجوان،اپنی چھت سے محروم لوگ،کاروبار سے وابستہ مایوس تاجر متفکر ہیں کہ کیا اگلے پانچ سال بھی ایسی ہی سیاسی کشمکش میں گزر جائیں گے اور چند معدودے خاندانوں کے چشم و چراغ پھر اِن پر مسلط کر دئے جائیں گے۔ قومی انتخابات بغیر انتخابی اصلاحات کے منعقد ہوں گے ،آئین میں دیئے گئے معیارات پر امیدواران کو پرکھا نہیں جائے گا۔ اداروں کی باہم آئینی مداخلت پر کیا عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں بقول مظفر وارثی مرحوم۔
کہ جرم قانون کرے اور سزا میں کاٹوں۔