عرب نما جزیرہ کے شہر طائف کے معروف بازا ر عکاظ میں عرب کلچرکا خرافات سے بھرپور میلہ مگر منعقد ہوتا، دور دراز سے قبائل شرکت کرتے، شعروسخن کے علاوہ تجارت بھی ہوتی ، لہو لعب ،عیش و نشاط اس کے اہم جزیات تھے، قبائلی سرداروں کی مداح سرائی کی جاتی ، بطحا کے میدان میں سجے اس میلہ میں فقرہ بازی سے دھینگا مشتی کا وہ بازار گرم ہوتا اور یہ سلسلہ طویل لڑائیوں پر جاکر ختم ہوتا، یہ میلہ ہرسال حج سے قبل منعقد ہوتا تھا۔
بنیۖ مہربان نے جب خطبہ حجہة الوداع دیا تو ان تمام خرافات کو دفن کر دیا،آپۖ نے فرمایا کہ حسب و نسل کی تمام فضیلتیں میرے پائوں کے نیچے ہیں، جو عہد جہالت میں تھیں،کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں
مگرزیاہ تقریم والا وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے
انسانو! اللہ نے سب کو ایک مرد اور عورت سے پید کیا ہے،تمیں قبیلوں میں اس لئے بانٹ دیا کہ محض تمھاری شناخت ہو، لوگو،اللہ تعالیٰ نے تمھاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا ہے،باپ دادا کے کار ناموں پر تمھارے لئے فخرو مباہات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
تاریخ کے اورق گواہ ہیں کہ حضرت بلال حبشی، حبشہ سے، حضرت سلیمان فارسی، فارس اور حضرت صہیب رومی روم سے تھے ان جید صحابہ اکرام کا تعلق مختلف علاقہ جات اور قبائل سے تھا،مگر یہ محترم ہستیاں کسی بھی عصبیت کا شکار دکھائی نہیں دیتیں، فتح مکہ کے موقع پر عرب کے سرداروں کے سامنے حضرت بلال کو آپ ۖ نے سیدنا کے نام سے پکارا اور کعبہ کی چھت پر چڑھ کر آذان دینے کوکہا، تمام تر عصبیت کو پائوں تلے ورندھ کر آدم انسانیت کو بلند وبالا کیا۔
سورةہجرات میں جو چند اجتماعی اُصول بیان ہوئے ہیں اس میں کہا گیا ہے کہ محض خاندانی، قبائلی اور گروہی عصبیت کے جوش میں کسی کے ساتھی اور کسی کے مخالف نہ بن جائیں۔ابن خلدون نے عصبیت کو اجتماعیت کی اساس قرار دیا ہے،ان کے خیال میں عصبیت اقوام کے درمیان مقابلہ کی فضا کے مثبت رحجان کو بھی فروغ دینے کا نام بھی ہے،کسی گروہ کو مطلوبہ عصبیت جب تک حاصل رہتی ہے تو اس کا عروج قائم رہتا ہے عکاظ کے میلہ میں مگر قبائلی عصبیت ترقی کی ترجمان نہیں بلکہ تعصب، تنگ نظری اور جہالت کی عکاس تھی۔
کہا جاتا ہے کہ جب تلک سلطنت عثمانیہ کی شکل میں امت میں باہمی عصبیت قائم رہی کسی نہ کسی صورت میں خلافت کا عنصر ان میں با قی رہا، جیسے جیسے نیشنل ازم کا تعصب غالب آتا گیا امت کا عروج زوال میں بدلتا رہا۔
وہ قوتیں جو اس سازشی تھیوری کے پیچھے تھی، آج اِنکی آماجگاہ ہمارے تعلیمی ادارے ہیں، جہاں خرافات کے ساتھ '' کلچر ڈے '' کے نام پر تعصب پھیلایا جارہا ہے،بانی پاکستان کے نام سے منسوب وفاقی دارالحکومت میں قائم جامعہ میں کچھ طلبائ'' وطالبات کلچر کے بخار ''میں ایسے مبتلا ہیں کہ دیگر میں حد فاصل واضع دکھائی دیتی ہے۔
محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں 65 زبانیں بولی جاتی ہیں، اور ہر زبان اپنا کلچر اور تہذیب رکھتی ہے، کیا ہمارے تعلیمی ادارے
'' کلچر ڈے'' کے نام پر ہرزبان بولنے والے طلبا ء وطالبات کو یہ موقع اور اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ بھی اپنے کلچر ڈے منائیں،یقینا ایسا ممکن ہی نہیں ،تعلیمی ادارے اس سرگرمی کے لئے موضوع مقامات نہیںہیں جہاں اس طرح کی خرافات کو فروغ دیا جا ئے، تعلیمی ادارے تو قومی یکجہتی کوپروان چڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔
قوم کو محض ،کلچر اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنا اور اسکی سرپرستی تو انکے فرائض منصبی میں شامل نہیں ۔یہ وباء اب دیگر جامعات پھیل رہی ہے، بعض طلباء نے عالمی میڈیا کو بتایا ہے کہ اس طرح کے ایام کی آڑ میں نہ صرف عسکری قومی اداروں کے خلاف برملا اظہار کیا جاتا ہے ،حاکم بدہن ریاست کے حوالہ سے بھی یہ گروہ تبرہ بھیجتا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسے طلباء کے کیا عزائم ہیں ایسے ایام منانے پر کیوں اصرار کیا جاتا ہے،جامعہ کراچی میں لسانیت کے نام پر جو گمراہی پھیلائی اس کی بھاری قیمت طلباء نے ادا کی ہے۔
زبان تو جذبات اور خیالات کے اظہار کا ذریعہ ہے،اہل دانش وہ ہوتے ہیں جو ایک سے زائد زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں۔
اسلام کی عالم گیریت کا وصف یہی ہے کہ اس نے ہر کلچر اور تہذیب کو اپنے اندر پناہ دی ہے،،روایات، اقدار،رہن سہن اور موسم کے مطابق ہرطبقہ اپنے اپنے انداز میں جذبات کی عکاسی کر سکتا ہے اسلامی تہذیب میں چندحدود کے ساتھ پسند کے لباس پر بھی کوئی قدغن نہیں، اس کے اوصاف حمیدہ کی کوکھ سے کوئی تعصب جنم نہیں لیتا، نہ ہی تکبر اسکی میراث ہے، آپ ۖ نے گروہی ، لسانی فخرو انبساط سے منع فرمایا ۔
وہ دن کب آئے گا جب کلچر ڈے کے دلدادہ طلبا ء و طالبات اپنے علاقہ کے سردارو ں، وڈیروں ،جاگیر داروں سے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی پر سوال کی جسارت کریں گے، اسلامی تہذیب کی روشنی میں انھیں ہر معاملہ میں مساوات اپنانے پر مجبور کریں گے۔معاشی مجبوریوں کے تحت ان کے ہاتھوں کھیلنے اور پہاڑوں پر برا جمان بلوچ نوجوان اپنی بے بسی پر انھیں مورد الزام ٹھرانے سے نجانے کیوں کتراتے ہیں،،وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے لئے یہ طلباء و طالبات آواز کیوں نہیںاُٹھاتے۔
ایسے طلباء کی تان کلچر ڈے پر آکر ہی کیوں ٹوٹتی ہے؟ محرومیوںسے نجات کے لئے انھیں ہر اس فورم پر آواز اٹھانے کا حق ہے، کس قدر شرمناک ہے کہ مغربی ممالک میں ہمارے ہر صوبہ کا طالب علم زیر تعلیم ہے، مگر اپنی جامعات میں داخلہ ڈی این اے کی بنیاد پر دیا جاتاہے کلچر ڈے منانے والوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟
آرٹس کونسل،کلچرل سوسائیٹیز،کلب وہ مقامات ہیں جہاں ہر طبقہ کلچر ڈے بخوبی مناسکتا ہے، تعلیمی اداروں میں اتحاد ،تنظیم، ایمان کی وہ عملی شکل دکھائی دینی چاہئے جس کا درس بانی پاکستان نے دیا ہے۔ کم از کم انھیں لسانی گروہوں کا آکھاڑا نہ بننے دیا جائے، اس قماش کے لوگوں کی سر پرستی جو کرتے ہیں انکا بے نقاب ہونا بھی لازم ہے۔ اداروں کے تقدس کی بدولت ایسی سرگرمیوں کی کو روا رکھا جائے جس سے محبت، اخوت، مساوات ،ہمدردری، ایمانداری کی خوشبو آتی ہو۔
قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہا ں۔ایک مقدس فریضہ کی تکمیل ہوتی ہے یہاں۔
اس شعر کا مصداق ہی ہماری درگاہوں کو ہوناہے، جس طرح کاکلچر پروان چڑھایا جارہا ہے، اس میں عکاظ میلہ کی خرافات کی ایک جھلک ضرور ملتی ہیں۔