کرکٹ محض کھیل نہیں رہا۔ خاص طور پر جب میدان میں بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں‘ تو پھر یہ جذباتی جنگ‘ سیاسی بیانیہ‘ معاشی منصوبہ اور حب الوطنی کے نام پر کی جانے والی مارکیٹنگ مہم بن جاتی ہے۔ ایشیا کپ کا حالیہ مقابلہ بھی انہی خصوصیات کا مجموعہ تھا اُور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دونوں ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔ توجہ طلب ہے کہ کوئی میچ (کرکٹ مقابلہ) فرق صرف رنز اور وکٹوں کا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک منظم ’’تھیٹر (تماشا)‘‘ ہوتا ہے‘ جہاں ضمیر اُور مافی الضمیر کو تجارتی مفادات کی خوشنما پرت میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے البتہ ایسے میچز (مقابلوں) میں جیت کو فوجی مہمات‘ عسکری قربانیوں کے نام‘ پہلگام حملے کے متاثرین کو سلام اور حب الوطنی کے جذبات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا ایک نئی اختراع ہے۔ یہ منظر جذباتی ضرور ہے لیکن اس کی حقیقت تضادات سے بھرپور ہے کیونکہ اصل میدان ’’پچ‘‘ نہیں ہوتی بلکہ میدانوں سے دور کمرے اور ٹی وی اسکرینز کے اشتہاری وقفے ہوتے ہیں۔
کرکٹ شائقین کے لئے کسی ایک نظریئے پر اکٹھا ہونے کا نام ہے لیکن یہ بیک وقت تضادات کا بھی مجموعہ ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کوئی ملک ایک ہی وقت میں ثقافتی تعلقات پر پابندی لگا سکتا ہے‘ دو طرفہ سیریز کو مسترد کر سکتا ہے لیکن پھر اسی پڑوسی کے خلاف میدان میں جیت کو قومی فخر کے طور پر پیش کرے تو کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہلائے گا؟ بھارت کا رویہ اس سوال کا جواب خود دیتا ہے۔ یہ محض فکری نکتہ نہیں بلکہ خطرناک تضاد ہے جو کھیل کی روح کو کھوکھلا کئے ہوئے ہے اور حب الوطنی کو مصنوعی مارکیٹ برانڈ میں تبدیل کئے ہوئے ہے۔
پاکستان بھارت کرکٹ دراصل تاریخ کی دلدل میں دھنسی اُور ’تقسیم کی تاریخ‘ کا مجموعہ ہے۔ 1950 کی دہائی میں ہونے والے ابتدائی ٹیسٹ میچز‘ دشمنی کو رسمی اور محدود دائرے میں رکھنے کی کوششیں تھیں۔ کئی دہائیوں تک کرکٹ نے سفارتی تعلقات کی عکاسی بھی کی۔ جب سیاسی کشیدگی بڑھی تو میچ رک گئے اور جب حالات بہتر ہوئے تو دوبارہ شروع ہوئے۔ شارجہ کے مشہور میچ‘ آخری اوور کی سنسنی اور یادگار چھکے صرف کھیل نہیں تھے بلکہ یہ قوموں کے درمیان ثقافتی روابط بھی تھے۔ اعداد و شمار کچھ بھی کہیں لیکن یہ سیاق و سباق کے بغیر وہ بے معنی ہوتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو کبھی بھی ون ڈے ورلڈ کپ میں شکست نہیں کھانے دی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر میچ ایک قومی فتح یا شکست ہے۔ یہ کھیل کی درجہ بندی ہے‘ جنگ نہیں۔
ٹیلی ویژن براڈکاسٹرز اور اشتہاری کمپنیوں کے مفادات بھی دیگر کھیلوں کی طرح کرکٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔
پاک بھارت میچ کو ’بلاک بسٹر‘ کے طور پر پیش کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ (کروڑوں) لوگ اِس جانب متوجہ ہوں اُور یوں اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی (ریونیو) ہر مرتبہ ریکارڈ توڑ دیتا ہے۔ ٹکٹ بلیک میں فروخت ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہی میڈیا ہائپ ہوتی ہے۔ کھیل سے جڑے مالی مفادات میں ممالک (قومی فیصلہ ساز) بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ وہ ممالک جو ایک دوسرے کے ثقافتی تعلقات پر پابندی عائد کرتے ہیں لیکن وہ کھیل کے لئے دروازہ (امکان) تھوڑا سا کھلا رکھتے ہیں تاکہ مالی مفادات متاثر نہ ہوں۔ جیت کو فوج کے نام کرنا یا حب الوطنی کا لیبل دینا‘ جب کہ اس سے قبل ایک دوسرے سے تعلقات کو مسترد کرنا‘ نہ صرف تضاد ہے بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن بھی ہے۔ یہ حب الوطنی نہیں بلکہ مارکیٹنگ ہی کی چال ہے جو قومی پرچم میں لپٹی دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں کھلاڑی صرف کھیل نہیں رہے ہوتے بلکہ وہ کسی قومی بیانیے کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ جیت جائیں تو ہیرو کہلاتے ہیں۔ ہار جائیں تو انہیں غدار کہا جانے لگتا ہے۔ ان سے ایک ایسی ذمہ داری نبھانے کی توقع کی جاتی ہے جو ان کی صلاحیتوں کے دائرہ کار سے بڑھ کر ہوتی ہے اُور یہی وہ نکتہ ہے کہ جو کھلاڑیوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور یہ رویہ کھیل کے تقدس پر بھی بدنما داغ ہے۔
کرکٹ کے انتظامی امور میں حکومتوں کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیئے۔ اِس ضرورت کو دہائیوں پہلے محسوس کر لیا گیا تھا اُور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس سلسلے میں تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو آگاہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ اپنے اپنے ہاں کرکٹ بورڈز کو ’حکومتی مداخلت‘ سے الگ کریں اُور صرف کھیل کو کھیل سمجھ کر ترجیح دیں لیکن کرکٹ اُور کاروبار‘ کرکٹ اُور مالی مفادات‘ کرکٹ اُور پسند و ناپسند‘ کرکٹ اُور سیاست لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فنکار‘ موسیقار اور فلم ساز جب سرحد پار جا کر کام کرتے ہیں تو انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا بلکہ اُنہیں ’’فاتح (ہیرو)‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ بن جاتے ہیں۔ یہ دہرا معیار ناقابل ِفہم ہے۔ اگر ممالک کے درمیان تعلقات کسی وجہ سے زہر آلود ہیں تو پھر کرکٹ کو بھی ان سے الگ نہیں ہونا چاہیئے اُور الگ الگ عینک سے ایک ہی تصویر کے دو رخ نہیں دیکھے جانے چاہیئں۔
حقیقت کھیل اُور کھیل حقیقت سے بڑے بن چکے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات‘ سیاسی دباؤ‘ اشتہاری دباؤ‘ مالی دباؤ اُور مفادات سب اپنی اپنی جگہ حقیقتیں ہیں مگر یہ حقیقتیں اخلاقی معیار کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ اگر مسئلہ سیکیورٹی ہے تو پھر کھل کر بتایا جائے لیکن اگر مسئلہ مالی مفاد کا ہے تو شائقین کرکٹ کو چاہیئے کہ وہ جذبات سے نہیں بلکہ عقل و فہم کے استعمال سے کھیل کی قیمت کو سمجھیں۔ اگر ماضی و حال کا موازنہ کریں تو نئی نسل کرکٹ سے زیادہ جذباتی وابستگی نہیں رکھتی۔ موبائل فون نے دیگر بہت سے شوق پیدا کر رکھے ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت کسی بھی ٹیم کی حامی نہیں ہوتی بلکہ وہ اچھے کھیل کو سراہتی ہے۔ وہ کوہلی کی اننگز ہوں یا بابر اعظم کا کور ڈرائیو نوجوانوں کے لئے یہ سب سیاست نہیں بلکہ ’’کھیل کی خوبصورتی‘‘ ہے۔ نوجوان نسل خود کو سرحدوں میں قید بھی نہیں رکھنا چاہتی۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سرحدوں سے پار دوستیاں کرتی ہے اُور ان کے لئے کرکٹ ہو یا کوئی بھی دوسرا کھیل‘ یہ نہ تو دشمنی ہے نہ ہتھیار اُور نہ ہی عزت و بے عزتی کا معاملہ۔
کرکٹ کے کھیل کو پاکستان کے قومی تناظر میں دیکھیں تو اِس کی بہتری کے لئے بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ کرکٹ کی طرح قومی کھیل ہاکی کو بھی حکومتی توجہ ملنی چاہیئے اُور جب تک یہ سب ہوتا ہے اُس وقت تک کھیل اُور کھیلوں کا وقار برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اگر صرف علامتوں کو بیچا جاتا رہا اور کھیل کی روح کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے تو ممالک کے درمیان دشمنی بھی صرف ’’برانڈ‘‘ بن کر رہ جائے گی یعنی خالی‘ کھوکھلا اور غیر متعلقہ بیانیہ۔ یہی وہ مرحلۂ فکر ہے جہاں ذرائع ابلاغ بشمول اخبارات اور صحافیوں کا کردار شروع ہوتا ہے جنہیں خاموشی ترک کر کے کرکٹ اور سیاست کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیئے۔ شائقین کو بیدار کیا جائے کہ کس طرح کرکٹ کے اصولوں اُور اس کی روح کو مجروح کر دیا گیا ہے۔ ٹیم ورک‘ عاجزی اور ایمانداری کیوں کھیل کا حصہ نہیں رہے۔ اگر کرکٹ کو ایسے ہی رہنے دیا گیا تو اِسے مفادات کا زنگ مزید آلود کر دے گا۔ پاکستان اور بھارت کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور کرکٹ کھیلنا بند بھی کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں امکانات حقیقی ہیں۔ سمجھنا ہو گا کہ آج کی دنیا میں کچھ بھی خالص نہیں‘ یہاں تک کہ حب الوطنی میں ملاوٹ ملتی ہے۔ کھیل خالص نہیں رہے بلکہ مالی مفادات کی بازی گری بن چکے ہیں۔ کرکٹ مقدس ہے۔ اگر مقدس ہے تو پھر اسے حکومتی مداخلت‘ سیاست اُور مالی مفادات سے پاک رکھنا چاہیئے۔
اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ
میں کون ہوں‘ کہاں سے چلا تھا کہاں گیا
(شاعر حیرت الہ آبادی)
کرکٹ: تلخ تماشا....