ثواب دارین کے لغوی معنی دنیا و آخرت کا ثواب ، دین و دنیا کی بھلائی یا سادہ لفظوں میں دونوں جہاں کا ثواب کہا جاسکتا ہے۔ اور یہ الفاظ اکثر اوقات ہمیں مساجد و مدارس و دینی محفلوں میں علماء کرام سے سننے کو ملتے ہیں۔ چاہے مسجد و مدرسہ کے لئے چندہ کا اعلان ہو، کسی دینی محفل میں شمولیت کی دعوت یا پھر کسی مسلمان کے نماز جنازہ کے اعلان میں ،شمولیت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں، کے الفاظ سننے کو ضرور ملیں گے ۔یقینی طور پر نیکی کے ہر کا م کی جزاء صرف اللہ کریم ہی دے سکتے ہیں مگر اک مسلمان دوسرے مسلمان کی دلجوئی اور شکریہ کے لئے ثواب دارین کے دعا ئیہ کلمات ضرور ادا کرسکتا ہے ۔ نیکی کے کاموں کی ترویج و اشاعت میں جہاں سوشل میڈیا نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے وہیں پر سوشل میڈیا پر بدی کے کاموں میں بھی دل کھول کر ترقی کی ہے۔ نیکی اور بدی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یقینی طور نیکی اور بدی کا ساتھ ازل سے چل رہا ہے اور تاقیامت ہی ختم ہوپائے گا۔ پاکستان جیسی سوسائٹی میں سوشل میڈیا کی آمد کسی انقلاب سےکم نہ ہےمگر اسکے منفی اثرات سے پاکستانی قوم بچ نہ پائی۔ خصوصا پاکستان میں پائی جانے والی مذہبی اور سیاسی فرقہ پرستی نے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔ پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پارٹی اکائونٹس سے اکثر جعلی و من گھڑت خبروں اور ویڈیوز کی اشاعت کرتے ہیں اور انکی دیکھا دیکھی پارٹی کی محبت میں اندھی تقلید کرنے والے پیروکار اپنے قائدین و پارٹی کی محبت اور مخالف سیاسی لیڈرشپ و پارٹی کی مخالفت میں بغیر کسی تحقیق کئے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شائد ثواب دارین کا کام سمجھ کر کرتے ہیں۔ اگر راقم کی بات کا یقین نہ آئے تو تقریبا ایک ہفتہ سے سوشل میڈیا نے ایسی دو شخصیات کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا ہے جنکو کچھ عرصہ پہلے شائد پوری پاکستانی قوم نہ جانتی تھی اور نہ ہی پہنچانتی تھی۔ میری مراد کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور تجزیہ نگار نجم سیٹھی کے فرزند گلوکار علی سیٹھی اور دوسری شخصیت لندن میں بسنے والے پاکستانی صحافی سید کوثر کاظمی ۔ کسی نے یہ خبر اُڑا دی کہ نجم سیٹھی کے بیٹے علی سیٹھی نے اپنے مرد دوست سلمان طُور سے ہم جنس پرست شادی کرلی ہے۔ پھر کیا تھا یہ خبر طوفان بدتمیزی کی طرح سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہی، یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے حوالہ سے اس خبرکو ہاتھوں ہاتھ کئی نامی گرامی اخبارات نے بغیر تحقیق کئے چھاپ بھی دیا۔ ہمارا لبڑل طبقہ اور مذہبی طبقہ اپنی اپنی بھڑاس نکالتا رہا۔ ایک طرف لبڑل طبقہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کا سہارہ لیتے ہوئے علی سیٹھی کی ہم جنس پرست شادی کی خبر پر بغیر تحقیق کئے خوشی کے شادیانے بجاتا دیکھائی دیا تو دوسری طرف مذہبی حلقوں کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے و تجزئیے جاری ہوئے۔ جبکہ بالآخر علی سیٹھی نے اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی اسٹوری میں کہا کہ میں شادی شدہ نہیں ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ افواہ کس نے پھیلائی ہے، لیکن اس افواہ سے میرے نئے آنے والے گانے کو شہرت مل جائے گی، ساتھ ہی انہوں نے اپنے نئے گانے کا لنک بھی شیئر کردیا۔ اب علی سیٹھی کے اس تردیدی بیان سے ایک بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس فرد کو پہلے کوئی جانتا نہیں تھا اب اس فرد کو پوری دنیا جان چکی ہے اور موصوف نے اپنے گانے کا لنک بھی شیئر کردیا۔ اب موصوف کے گانے کی مفت میں پبلسٹی بھی ہوگئی۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ یہ افواہ کس نے پھیلائی ہوگی؟ بعض ناقدین کا کہنا کہ یہ افواہ بھی علی سیٹھی کے قریبی حلقوں نے پھیلائی ہوگی۔اسی طرح عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور سے منسوب ویڈیوز اور تصاویر بھی اس وقت سوشل میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔ اور تحریک انصاف کے دوست ان تصاویر اور ویڈیوز کو بغیر تحقیق کئے سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت حال ہے کہ جج ہمایوں دلاور سے منسوب ویڈیوز اور تصاویر میں نظر آنے والے افراد میں ایک ذیشان ملک ہیں جو مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے پولیٹکل سیکرٹری ہیں جبکہ دوسرے فرد برطانیہ میں رہنے والے مشہور پاکستانی صحافی سید کوثر کاظمی ہیں۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے محبت کرنے والے کئی نامور صحافی حضرات بھی سید کوثر کاظمی اور ذیشان ملک کی ویڈیوز اور تصاویر کو جج ہمایوں دلاور سے منسوب کرکے سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں۔ یہ میرا خیال ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے کہ ہم پاکستانی سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کسی بھی بات کو شیئر کرنا اس پر تجزیہ ،تبصرہ، تنقیدیا تعریف کرنا شاید ثواب دارین سمجھ کر کرتے ہیں۔ جبکہ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات میں بغیر تحقیق بات کرنے/شیئر کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ طور پر نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو"، کیونکہ ماضی قریب میں پاکستان ، سانحہ سیالکوٹ جیسے بہت سے سانحات کا شکار ہوچکا ہے جسکی وجہ صرف بغیر تحقیق کئے سنی سنائی بات کو آگے شئیر کردینا تھا۔ اللہ کریم ہم سب کو ہدایت نصیب عطا فرمائے آمین ثم آمین
245