مائیکل جیکسن، عبدالرشید اور جی سی یونیورسٹی 238

مائیکل جیکسن، عبدالرشید اور جی سی یونیورسٹی

اقبال نے کہا تھا

ہے عیاںیورشِ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

چنگیز و ہلاکو جنہوں نےمسلمانوں کے سروں کے مینار بنا دئیے تھے ۔آخرکار اسلام سے ہار گئے ۔ چنگیز خان کے پوتے برقائی خان نے اپنی قوم سمیت اسلام قبول کرلیا ۔بے شک اسلام بہت طاقتور مذہب ہے ۔جب مائیکل جیکسن کے بھائی نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھاکہ مائیکل جیکسن نےنومبر دوہزار آٹھ کو اسلام قبول کر لیا تھامگر اعلان نہیں کیا تو مجھے اپنا امریکی دوست تصور حسین بہت شدت سے یاد آیا۔جب اس نے مجھ سے کہا تھاکہ مائیکل جیکسن کو اس لئے قتل کر دیاگیا کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کے اعلان کے ساتھ اپنے تمام چاہنے والوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینے والا تھا ۔ تب میں نے اس کا کھل کر مذاق اڑایا تھا ۔اس کا خیال تھا کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مائیکل جیکسن کے مسلمان ہونے کے اعلان کے ساتھ ہزاروں عیسائی لڑکیاں اور لڑکے اسلام قبول کرلیں گے اور اس نے اسلام کی تبلیغ شروع کردی تو یہ عیسائیت کیلئے بہت خطرناک ہوگا ۔

دنیا میں کئی اہم ترین لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا مگر اپنی مجبوریوں کے سبب اعلان نہ کر سکے۔آج کا کالم ایک ایسے شخص کے نام ۔یہ گورنمنٹ کالج لاہورکے پہلے پرنسپل تھے۔ان کا نام گوٹلیب ولیم لیٹنر تھا ۔انہوں نے نوجوانی میں ہی ترکی میں اسلام قبول کر لیاتھا اور اپنانام عبدالرشید رکھا مگراعلان نہیں کیا تھا۔صرف ان کےاقربا جانتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔یہ یقین سےنہیں کہا جا سکتا کہ وہ حافظ ِ قرآن بھی تھے لیکن یہ بات طے ہے کہ انہیں قرآن حکیم کی کئی سورتیں حفظ تھیں۔انہوں نے لندن میں مسجد بھی تعمیرکرائی تھی ۔ان کا انتقال 22 مارچ 1899 ء کو بون میں ہوا۔ ان کی لندن میں اسی مسجد کے قریب تدفین ہوئی لیکن تدفین ہوئی عیسائی مذہب کے مطابق۔ بالکل اسی طرح جیسے مائیکل جیکسن کی تدفین بھی بحیثیت کرسچن ہوئی ۔ ان کی قبر کے کتبے پر عربی جملہ ’’العلموخیرم من المال‘‘لکھا ہے جس کا مطلب ہے ’’علم دولت سے بہتر ہے‘‘۔

کہتے ہیں لیٹنرپیغمبر اسلام کے پیغام کے بے خوف دفاع کرنے والے کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ وہ 1841 ءمیں بوڈاپیسٹ میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے اور دس سال کی عمر میں قسطنطنیہ میں ترکی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل کر لیا ۔1859ءمیں، لیٹنر کنگز کالج، لندن میں عربی، ترکی اور جدید یونانی کے لیکچرر بن گئے، اور دو سال بعد، تیئس سال کی عمر میں، وہ عربی اور محمڈن لا کے پروفیسر بن گئے۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے سوچا کہ برصغیر کے شمال مغربی حصوں میں بھی مغربی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے لیٹنر کو1864ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دینے کی پیشکش کی جسے لیٹنر نے بخوشی قبول کر لیااورپھرپنجاب یونیورسٹی اور دیگر اہم اداروں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔

لیٹنر کی لسانی صلاحیتیں حیران کن تھیں، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے 1911ءکے ایڈیشن میں لکھاہے کہ وہ پچیس زبانوں میں بولتے، پڑھتے اور لکھتے تھے۔ انہوں نے عربی گرامر اور نسلیات اورموجودہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے رسم و رواج پر بھی بہت کچھ لکھا۔یہ وہ وقت تھا جب اسلام نوآبادیاتی حکمرانی کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار تھا۔ لیٹنر نے محمد حسین آزاد کی مدد سے اردو میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور مقام و مرتبے پر ایک مفصل کتاب تصنیف کی۔یہ کتاب 1871 اور 1876 ءمیں دو جلدوں میں شائع ہوئی ۔ اس سے متعلق کہا جا تا ہے کہ یہ لیٹنر کے عقیدے کی گہرائی کا کھلا ثبوت تھی۔

انگلستان واپس آنے کے بعد، لیٹنر نے اپنی فکری جستجو کو جاری رکھا اور لندن کے جنوب میں اورینٹل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، جس میں برصغیر کے طلباء کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ انہوں نے اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنےکیلئے مذاہب پر سیمینارز اور مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1889 ءمیں لندن میں ہونے والی ایک گفتگو میں لیٹنر نے اسلام کو ایک عظیم اور کامل مذہب قرار دیااوراپنے عیسائیوں سے کہا کہ تم محمدﷺ کی طرف سے بیان کی گئی سچائیوں کو تسلیم کرکے، ان کی تعظیم کر کے ایک بہتر عیسائی بن سکتے ہو۔انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اسلام پر ہونے والے حملوں کو بھی روکا۔ مغرب کی طرف سے اسلام کے ساتھ منصفانہ سلوک کی انتھک وکالت کی۔

عبدالرشید (گوٹلیب ولیم لیٹنر )ایک غیر معمولی شخص اور ایک عظیم عالم تھے۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہورجیسی عظیم درسگاہ قائم کی جو اس وقت ایک یونیورسٹی کے طور پر ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور جب سے ڈاکٹر اصغر زیدی اس کے وائس چانسلر بنے ہیں ۔اس یونیورسٹی نے نئی منزلوں کو چھوا ہے ۔ نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں ۔ میں ڈاکٹر اصغر زیدی سے کہوں گا کہ وہ یونیورسٹی میں عبدالرشید چیئر قائم کریں جواس عظیم مسلمان اسکالر کے تمام پوشیدہ گوشوں کو منظر عام پر لائے۔انہوں نے جو کتاب اسلام سےمتعلق لکھی تھی۔ یونیورسٹی اس کی دوبارہ اشاعت کا بندوبست کرے ۔اس شخصیت کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کرے ۔ وہ جس نے غلامی کے دور میں لاہو رکو علم و ادب کا گہوارہ بنایا اس کا اتنا حق تو ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم