مقبولیت بمقابلہ قبولیت 163

مقبولیت بمقابلہ قبولیت

سانحۂ 16دسمبر، قیامت خیز منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے ، آخری نسل جو اس جاں گسل، خُوں چکاں داستان کی عینی شاہد، زندگی بدل گیا۔وارداتیوں نے سبق کیا سیکھنا تھا، نئی واردات میں جُت گئے۔1951 سے شروع دخل در معقولات آج تک جاری و ساری۔’’مقبولیت کافی نہیں، قبولیت کا ہونا ضروری ہے‘‘ ، برادرم سہیل وڑائچ نے وطنی تاریخ کو ایک فقرے میں سمو دیا۔ عمران خان صاحب نے کل(بدھ) اپنے خطاب میں معمول کی باتیں دہرائیں۔ کاش تحریک انصاف کے اندر کوئی تو حقائق کو توڑنے مروڑنے سے عمران خان کو ر وک پاتا۔ کل کی کہی باتوں پر حقائق کا احاطہ ضروری کہ جھوٹ کے انبوہ میں ’’حال‘‘بے دم نہ ہو پائے۔کل کے بیان کا بنیادی نکتہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے ارادے کا اعادہ تھا۔مقصد دباؤ بڑھاناتا کہ جنرل الیکشن وقت سے پہلے ہوں، اپنے خلاف قائم کیسز ختم ہوں اور نا اہلی سے بچا جا سکے۔ پچھلے آٹھ ماہ سے الیکشن کے لئے سارے’’ ہنر اورکرتب‘‘ استعمال کئے، نتیجہ صفر رہا ۔کل اسمبلیاں تحلیل کرنے اور اس سے پیدا ہونے والے بحران کے سارے فضائل بیان کرنے پڑے جبکہ حکومتی اتحاد ان کی باتوں کوسنجیدہ لینے سے انکاری ہے۔اگر اسمبلیاں تحلیل کرنے میں موصوف سنجیدہ ہوتے تو26 نومبر کو تحلیل کر چکے ہوتے یا کل کے اعلامیے میں 17 دسمبر کو تحلیل کا دن بتاتے۔بنفس نفیس تحلیل کے عمل کو مشکل بنا رکھا ہے۔وقت ڈھونڈا جا رہا ہے کہ بچ بچا ہو جائےجبکہ چوہدری پرویز الٰہی بھی چکمہ دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔مزید گویا ہوئے توکرپشن کے بیانیے میں تھوڑا ردوبدل اور ترمیم کر دی۔پہلی دفعہ اپنے آپ کو نواز شریف کی صف کا حصہ بنایا۔ فرق بتایا، نواز شریف کی کرپشن اور میری کرپشن کا کوئی مقابلہ نہیں،یعنی توشہ خانہ کیس کومعمولی بتایا۔ ممنوعہ پارٹی فنڈنگ کیس پر بھی ہکلانہ پڑا۔فنانشل ٹائمز میں اپنے خلاف چھپنے والے کچہ چٹھا کا ذکر تک نہیں ،چپ سادھ رکھی ہے ۔بلا شرکت غیرے عمران خان کا دور حکومت کرپشن اور نا اہلی ملکی تاریخ میں ایک مثال ہے۔جنرل باجوہ اور سکندر سلطان اعصاب پر سوار ، دونوں کی وجوہات فرق ہیں۔راجہ سکندر سلطان کو گالی دے کرالیکشن اور عدالتوں پر دباؤ بڑھانا اور اپنے مقدمات سے جان چھڑوانا مقصد ہے۔جنرل باجوہ کے خلاف دشنام طرازی براہ راست ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ملوث رکھنا ہے ۔نیوٹرل کی نئی توجیہہ ، اگر میری حمایت نہ کی تو جانور اور دوسری طرف نیوٹرل ہوجاؤ اور مجھے حکومت سے الیکشن دلاؤ ۔ عمران خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے ایک ڈرائونا خواب ہیں۔ دعویٰ کہ تحریک انصاف فیڈریشن کی بڑی پارٹی ہے۔ چاروں صوبوں مع گلگت بلتستان اور کشمیر میں حکومت ہے۔درست فرمایا، ماننے میں عار نہیں ہے۔ کھوکھلا اس لئے کہ وطنی تاریخ میں مقبول ترین، ماضی میں نظیر نہیں ملتی،حقائق کے منافی ہے۔نواز شریف 1997میں مقبول اور افواج کاپوسٹر بوائے رہ چکا ہے۔آل انڈیا مسلم لیگ کی حکومت کے بعد تاریخ میں سب سے مضبوط وزیر اعظم بنے پھیلاؤ دیکھیں،دو تہائی اکثریت مرکز میں،چاروں صوبوں اور کشمیر میں موجود مضبوط حکومتیں تھیں۔ عمران خان کے پاس سندھ حکومت نہیں تھی اور نہ ملنی تھی۔2017میں نواز شریف کی چھٹی اس وقت ہوئی جب وہ مقبول تھاجبکہ عمران خان کی آخری دنوں میں مقبولیت زمین بوس، سات فیصد پر آ چکی تھی۔ مقبولیت کا سلسلہ چل نکلا ہے تو ذکر حسین شہید سہروردی کی عوامی لیگ کا بھی ہو جائے۔ تحریک پاکستان کے آخری سال آزادی میں بہت اہم رول تھا ۔سہروردی کا ذکر اس لئے کہ مقبولیت کی کڑی کے پہلے رہنما، 1949میں عوامی مسلم لیگ کی داغ بیل ڈالی۔ 1953میں مسلم نکال کر عوامی لیگ وجود میں آئی۔ 1953 سے 1966تک شیخ مجیب الرحمٰن اس کے جنرل سیکرٹری تھے،بعد ازاں صدر بنے اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے بد قسمتی سے قبولیت نہ ملی۔ مقبول لیڈر کو مشرقی پاکستان تک محدود، جب اقتدار ملا تو پاکستان دو لخت، بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ اگرچہ 1971میں بھٹو صاحب پنجاب اور سندھ میں بلا شرکت غیرے مقبول ترین رہنما بن کرابھرے۔KP اور بلو چستان میں ناکام رہے۔مقبولیت پھانسی سے نہ بچا سکی ۔ بے نظیر کی صورت میں پارٹی آگے بڑھی ضرور،چند جھٹکوں میں سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی۔ وفاقی جماعتیں یکے بعد دیگرے صوبائی یا علاقائی جماعتیں بن گئیں۔ سیاستدانوں کی کردار کُشی کانہ ختم ہونے والا سلسلہ لیاقت علی خان سے شروع ،آج تک جاری ہے۔ عمران خان کا اس کی گرفت میں آنا فطری عمل ہے۔ سب سے زیادہ خمیازہ عمران خان کو بھگتنا ہو گا۔75سال بیتنے کو، روزِ اول سے سیاستدانوں کے ذریعے سیاستدانوں کی کردار کُشی کی گئی۔اجزائے ترکیبی تین ہی(۱) کرپٹ(۲) نااہل(۳) بھارت کےلئے نرم گوشہ۔ عمران خان مجرم اس لئے کہ اسٹیبلشمنٹ کے جھوٹے پروپیگنڈاکو فنونِ لطیفہ کا درجہ دیا۔سیاستدانوں کے خلاف استعمال ہوا، جھوٹ، مبالغہ، بہتان کے ریکارڈ قائم کئے۔میڈیا زیر نگیں،ماتحت، مطیع بنا تو بہیمانہ طریقے سے سیاستدانوں کی کردار کُشی میں بے دریغ استعمال کیا۔آج موصوف کی اپنی ذات چور، کرپشن میں مشہوری ،بغیر میڈیا کے استعمال کے زبان زد عام ہے۔ وطنی تاریخ کا سبق اتنا ’’مقبولیت بمقابلہ قبولیتـ‘‘، مقبولیت کی شکست یقینی ہے۔ چاہے جان گئی،چاہے جلا وطنی ، چاہے ملک دو لخت ہو، ازل سے فیصلہ اٹل ہے۔اول رو زسے سازشیوں کی سر توڑ کوشش کہ قومی ، سیاسی، لسانی، علاقائی عصبیت کو ہوا دی جائے۔ تقسیم اور کمزور کر کے اپنے مفادات اوراقتدار پرتسلط مضبوط رکھا۔ ماضی کے سارے مقبول رہنما جب مقبولیت کے معیار پر پورا نہ اترے تو صوبائی اور علاقائی حدود اندر اپاہج کر دئیے گئے۔اس سے پہلے احتساب ، جیل، جلا وطنی ، ذہنی اذیت و مشقت سب کچھ جھیلنا، سزا کے نصاب کا جزو لاینفک ہے۔عمران خان کو ابھی ان سارے مراحل سے گزرنا ہے۔ صدافسوس آج کے حالات ،16دسمبر 1971ء سے ملتے جلتے ہی تو ہیں۔جب مسلم لیگ ن تحریک عدم اعتمادلائی تو عرض کر دیا تھا کہ آپ کی سیاسی موت کا پروانہ اورعمران خان تاحیات آباد، زندہ جاویدرہیں گے۔عمران خان کی بد قسمتی ان کی مقبولیت تھی، کھوہ کھاتے کہ جناب کی قبولیت کا دور دور تک آثار نہیں ۔تحریک انصاف دسمبر1971سے ملتے جلتے ہیں۔ 1971ءمیں ہمارے پاس مغربی پاکستان ایک ملک تھا۔ حاکمِ بدھن آج مغربی پاکستان کو کچھ ہوا، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم