مشرقی پاکستان کی علیحدگی، کیا دو سانحات کا دشمن اور سبب ایک ھے؟ 201

مشرقی پاکستان کی علیحدگی، کیا دو سانحات کا دشمن اور سبب ایک ھے؟

تاریخ نقش ضرور چھوڑتی ہے لیکن کوئی نقش دیکھنے والا یا پڑھنے والا ھو تو بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، تاریخ کی کھینچی لیکیر پیٹی نہیں جاتی، بلکہ پڑھی جاتی ہے تاکہ حد فاصل کو برقرار رکھا جائے، 16 دسمبر,71 کے سانحے کو 52 سال بیت گئے ، جب پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے، اور مشرقی پاکستان ھم سے جدا ھو گیا، بروقت فیصلے نہ ہونے سے فاصلے بڑھ گئے، قیام پاکستان کے لیے اہل بنگال نے بہت قربانیاں دی تھیں، مگر اقتدار کی بھوک نے ان قربانیوں کو خاطر میں نہ لایا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، جیسے سقوط ڈھاکہ کے نام سے شہرت حاصل ہے، اپنے پیچھے کئی تلخ حقائق رکھتی ہے، پاکستان ایک نوزائیدہ مملکت تھی، جیسے بھارت نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور پہلے دن سے ہی اسے کمزور کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، دوسری طرف مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان عصبیت کی لکیر کھینچ گئی جو اتنی واضح ھو گئی کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ھونے لگے اس لکیر کو مٹانے کی بجائے عوامی سطح پر اس کو مزید گہراکیا گیا،لسانی اور علاقائی عصیبت نے جب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی سیاست کا رخ کیا تو حالات نے بھارت کے لئے آسانی پیدا کر دی، تاکہ وہ اس سے فایدہ اٹھا سکے، مبالغوں اور مغالطوں نے فضا اور نفرت میں بدل دی، مغربی پاکستان چونکہ اقتدار کے ایوانوں اور اداروں کی مرکزیت کا حامل تھا اس لئے ہر انگلی ادھر کو اٹھنے لگی، جنرل یحیٰی خان نے 1969ء میں عام انتخابات کا اعلان کیا تو یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ الیکشن سے لوگوں کا غصہ نکل جائے گا مگر شیخ مجیب الرحمن نے اس کارڈ کو خوب استعمال کیا اور خفیہ طور پر بھارت کی طرف سے بنائی گئی مکتی باہنی کی تحریک کا حصہ بن گئے، بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ 1970ء کے الیکشن کے نتائج پر شیخ مجیب الرحمن کی بات مان لی جاتی اور عوامی لیگ کی اکثریت کے مطابق اقتدار دیا جاتا تو یہ سانحہ نہ ھوتا مگر یہ صرف قیاس ہے کیونکہ شیخ مجیب الرحمن کی پہلے ہی بھارت کے ساتھ ڈیل ھو چکی تھی بلکہ وہ اس نقطے پر بھی سوچ رہے تھے کہ باقاعدہ ھندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جائے، اقتدار، چھ نکات اور لسانی عصیبت کو وجہ بنا کر مشرقی پاکستان میں ھنگامے شروع کروا دیئے گئے، جس کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج اور رضا کار فورس سرگرم ھوگئی، جس پر الزام عائد کیا گیا کہ لاکھوں لوگوں کو قتل کر دیا گیا، لاکھوں ھجرت کرکے بھارت پہنچ گئے، ھزاروں خواتین کی عصمت دری ھوئی، حالانکہ یہ سارے مبالغے تھے، برطانیہ سے آنے والی ٹیم نے لکھا تھا کہ سو سے بھی زائد خواتین اس سانحے کا شکار نہیں ھوئیں، جس میں مکتی باہنی کے بھارتی کارکنوں نے فوجی لباس کا بھیس بدل کر یہ ظالمانہ طریقے استعمال کیے، فوج کی تعداد کے بارے میں بھی مبالغہ آرائی کی گئی، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ھو یا عالمی ذرائع سب یہ کہتے ہیں کہ فوج کی تعداد 23 ھزار سے زیادہ نہیں تھی ،دوسری طرف ڈیڑھ لاکھ سے زائد مکتی باہنی کے کارکن لڑ رہے تھے، جن کو دفاعی، اخلاقی اور سیاسی حمایت بھارت سے مل رہی تھی، جس میں بعد ازاں امن و امان کی صورتحال اور مہاجرین کی آمد کا بہانہ بنا کر انڈیا نے 5 لاکھ تک فوج اتار دی، پاکستان دفاعی اعتبار سے ابھی اتنا مضبوط بھی نہیں تھا، دوسری بڑی وجہ مشرقی پاکستان تک جانے کے لیے 16 ھزار کلومیٹر کا راستہ اور خلیج بنگال کا سامنا دفاعی کمزوری کا باعث بن رہا تھا، مشرقی پاکستان میں لڑنے کے لیے مکتی باہنی کی بھرتی پورے ھندوستان اور ناراض مشرقی پاکستان کے نوجوانوں سے کی گئی، خود بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے عالمی ذرائع ابلاغ کے سامنے تسلیم کیا کہ مکتی باہنی ھم نے بنائی تھی، آج نریندرا مودی دورہ بنگلہ دیش کے دوران کئی بار کہہ چکے ہیں کہ میں خود مکتی باہنی کارکن تھا اور بنگلہ دیش ھم نے بنایا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انتخابات، اقتدار، چھ نکات اور مبالغے محض سیاست تھی، فیصلہ ھو چکا تھا، جس کو دشمن نے انجام دیا، ھم نے عصیبت ختم کرنے،حقوق دینے اور دفاع کے لیے کوئی مضبوط پالیسی نہیں بنائی، اقتدار کے پیچھے بھاگ بھاگ کر دشمن اور اپنے اندر کی کمزوریوں کو بھول گئے، 26 مارچ 1971ء کو شروع ہونے والی جنگ 16 دسمبر 71 کو بنگلہ دیش کی صورت میں ختم ہوئی، مغالطوں نے پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑا، پاکستان نے چین اور امریکہ کے کہنے پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے جس کو شکست تسلیم کرنے کا ڈھول گلے میں ڈال کر پیٹا گیا، اور چوبیس ھزار فوجی وہاں موجود تھے جنہیں 90 ھزار کا نفسیاتی ھدف بنایا گیا، یہ وہ اعداد و شمار ہیں جسے عالمی ذرائع ابلاغ نے بیان کیا ہے، غلطیاں وہی بنیادی ہیں جن کی نشاندھی حمود الرحمن کمیشن نے بھی کی، اور تاریخ بھی کہتی ہے کہ اقتدار کی ہوس، طاقت کا حصول، نفرت اور گروہی تقسیم نے ھمیں شدید نقصان پہنچایا، جس سے مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ھوا، وہی اسباب اور وجوہات آج بھی سیاست اور علاقائی سوچ میں پائے جاتے ہیں فرق یہ ہے کہ آج پاکستان دفاعی اور علاقائی طور زیادہ مضبوط ھے، مگر سیاست، اقتدار اور نفرت کا چلن نہیں بدلا یہی سانحہ ھماری رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا کہ16 دسمبر 2014ء میں سانحہ اے پی ایس۔ نے ھماری بنیادیں ھلا دئیں، رقص خزاں نے معصوم بچوں کو موت کی نئید سلا دیا، سوچنا یہ چائیے کہ کیا دشمن اور سبب وہی کمزوری ھے یا کوئی اور اگر ماضی سے سبق حاصل نہ کیا جائے تو کیا ھم ایسے سانحات کے متحمل ھو سکتے ھیں؟

بشکریہ اردو کالمز