معتوب کتابیں 280

معتوب کتابیں

عقیل عباس جعفری سے پہلی ملاقات کب ہوئی مجھے تو یاد نہیں لیکن انہیں خوب یاد ہے، وہ بتاتے ہیں کہ 1980ء میں وہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں پڑھتے تھے اور مجھ سے ملنے کیلئے نوائے وقت کے دفتر آیا کرتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں میرے پاس ویسپا اسکوٹر ہوا کرتا تھا اور میں علامہ اقبال ٹائون میں اپنا گھر بنوارہا تھا۔ اسی زمانے میں، میں نے معاصر کے نام سے ایک ادبی پرچہ بھی جاری کیا تھا جس کا پہلا شمارہ میں نے انہیں پیش کیا تھا۔ اتنے حوالوں کے بعد مجھے یہ ماننے میں تامل نہیں کہ یقیناً وہ درست کہہ رہے ہیں۔ مجھے ان سے جو پہلی ملاقات یاد ہے وہ اسلام آباد میں ہوئی تھی، اس زمانے میں ان کی کتاب ’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘ دھوم مچا چکی تھی۔ وہ مقتدرہ قومی زبان سے وابستہ تھے اور ان دنوں اخبارِ جہاں میں ان کا سلسلہ پاکستان سال بہ سال شائع ہو رہا تھا۔ ان کی اگلی اطلاع کراچی سے ملی جہاں انہوں نے ’ورثہ‘ کے نام سے اپنا اشاعتی ادارہ قائم کیا اور پاکستان کرونیکل نامی انسائیکلوپیڈیا شائع کیا۔ انہوں نے اس کا ایک نسخہ مجھے بھی ارسال کیا اور میں نے اس پر ایک کالم بھی تحریر کیا۔ بعد میں ثقافتی اور ادبی اداروں کیلئے ایک نیا ڈویژن قائم کیا گیا جس کی سربراہی عرفان صدیقی کے سپرد ہوئی۔ انہوں نے کراچی میں اہلِ علم کی ایک کمیٹی تشکیل دی، اس کمیٹی نے بھی عقیل عباس جعفری کو اردو لغت بورڈ کا مدیرِ اعلیٰ مقرر کرنے کی سفارش کی اور یوں عقیل عباس جعفری اردو لغت بورڈ کے مدیرِ اعلیٰ بن گئے۔ اس ادارے میں انہوں نے حیران کن کام کئے۔ سب سے پہلے تو باون جلدوں پر مشتمل اردو لغت کو ازسرنو کمپوز کروا کے انٹرنیٹ کے حوالے کر دیا جہاں ہر شخص اس سے بڑی آسانی سے استفادہ کر سکتا ہے۔ پھر انہوں نے اس لغت کو آواز سے ہم آہنگ کر دیا، یوں ہر شخص کی اردو کے ہر لفظ کے درست تلفظ تک رسائی ہو گئی۔ اردو لغت بورڈ میں انہوں نے اور بھی کئی کارنامے انجام دیے مگر پھر یہ ادارہ جو خدا خدا کر کے فعال ہوا تھا ایک سابقہ حکومت کی پالیسیوں کی نذر ہو گیا اور یہ ادارہ، ادارۂ فروغِ قومی زبان میں ضم کر دیا گیا۔ کووڈ کے زمانے میں سب لوگ گھر میں قید تھے مگر عقیل عباس جعفری پاکستان کی اردو فلمی صنعت کے موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کر رہے تھے۔2021ء میں وہ اپنے اس مقالے پر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ مقالہ گزشتہ برس کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ اسی دوران وہ بی بی سی سے بھی وابستہ رہے جہاں چونکا دینے والے موضوعات پر ان کے کالم دھوم مچاتے رہے۔ اب عقیل عباس جعفری جو خیر سے ڈاکٹر عقیل عباس جعفری ہو گئے ہیں اور جنہیں حکومتِ پاکستان بھی تمغۂ امتیاز سے سرفراز کر چکی ہے اپنی نئی کتاب ’’معتوب کتابیں‘‘ کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ کتاب بذات خود کسی مقالے سے کم نہیں۔ عقیل عباس جعفری بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کے لوازمے کی جمع آوری میں کم و بیش دس برس صرف کئے ہیں۔ اس میں نہ صرف مغربی دنیا میں پابندی کی زد میں آنے والی سوا سو کتابوں کا ذکر ہے بلکہ خود برصغیر (بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں ضبط ہونے والی سولہ، سترہ کتابوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کی امہات الامہ کے حوالے سے عقیل عباس جعفری نے ایک بڑی دلچسپ بات لکھی ہے اور وہ یہ کہ اس کتاب کے مصنف نے اپنے مشہور ناول توبتہ النصوح میں دکھایا ہے کہ وہ کس طرح ناول کا مرکزی کردار نصوح اپنے بڑے بیٹے کلیم کا کتب خانہ نذر آتش کرتا ہے، مگر جب خود ڈپٹی نذیر احمد کی اپنی کتاب امہات الامہ برسرعام نذر آتش کی گئی تو انہیں اس بات کا ایسا صدمہ ہوا کہ پھر انہوں نے باقی زندگی کچھ نہیں لکھا۔عقیل عباس جعفری نے خیبرپختونخوا کے مرد آہن کہلانے والے سیاست دان خان عبدالقیوم خان کی کتاب گولڈ اینڈ گنز کا بھی ذکر کیا ہے جو قیوم خان نے اس وقت لکھی تھی جب وہ خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ تھے۔ اس وقت انہیں دنیا زمانے کی ساری خوبیاں اس تحریک اور اسکے روح رواں خان عبدالغفار خان میں نظر آتی تھیں مگر جب پاکستان بننے کے بعد وہاںکی صوبائی حکومت برخاست کی گئی اور قیوم خان اس صوبے کے وزیراعلیٰ بن گئے تو انہیں اپنی ہی کتاب کے مندرجات کھلنے لگے۔ یہ پوری کتاب ڈاکٹر خان صاحب اور خان عبدالغفار خان کی تاریخ و توصیف اور آل انڈیا مسلم لیگ کی مخالفت سے بھری ہوئی تھی، نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے بطور وزیراعلیٰ خود اپنی ہی لکھی ہوئی کتاب پر پابندی عائد کردی۔ عقیل عباس جعفری کے مطابق یہ دنیا کی تاریخ میں غالباً واحد واقعہ ہےکہ کسی شخص نے خود اپنے ہی قلم سے اپنی ہی لکھی ہوئی کتاب پر پابندی عائد کی تھی۔عقیل عباس جعفری یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکا اور دوسرے ممالک میں پابندی کی زد میں آنے والی بہت سی کتابیں ایسی بھی ہیں جو ان ممالک کے کسی ایک حصے میں پابندی کی زد میں آئیں اور اسی ملک کے دوسرے حصے میں فروخت ہوتی رہی ہیں۔ خود پاکستان میں فرخ سہیل گوندی نے صدر الدین ہاشوانی کی جو کتاب لاہور سے شائع کی تھی وہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں تو فروخت ہوتی رہی مگراس کتاب اور اس کے اردو اور سندھی ترجمے پر صوبہ سندھ میں پابندی عائد کردی گئی ۔ اسکے باوجود یہ کتاب صوبہ سندھ میں بہ آسانی دستیاب رہی جو انہیں لاہور سے ڈاک سے بھیجی جاتی رہی۔ایسا ہی معاملہ محمد حنیف کے انگریزی ناول A Case of Exploding Mangoes کے ساتھ ہوا جو گیارہ برس تک پاکستان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں فروخت ہوتا رہا مگر جب اس کا اردو ترجمہ ’’پھٹتے آموں کا کیس‘‘ منظرعام پر آیا توایک حساس ادارے نے ناشر کے دفتر پر چھاپہ مار کرپورا اسٹاک ضبط کرلیا۔عقیل عباس جعفری نے کتاب کے پیش لفظ میں چند ایسی کتابوں اور رسالوں کی نشاندہی بھی کی ہے جن میں ضبط شدہ کتابوں کے موضوع پر مضامین موجود ہیں۔ انہوں نے ستار طاہر کے رسالے خیالات کا ذکر بھی کیا ہے۔ انہوں نے یہ بتایاہےکہ اس موضوع پر ضمیر نیازی بھی انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھنے کے خواہش مند تھے مگر ان کی طویل علالت اور وفات کی وجہ سے یہ کام منظرعام پر نہ آسکا۔ عقیل عباس جعفری نے ضمیر نیازی کی اس خواہش کومدنظر رکھتے ہوئے اپنی کتاب کا انتساب بھی ضمیر نیازی کے نام کیا ہے۔ یہ بلاشبہ ان کی سعادت مندی اور ایک پیش رو کی خدمات کا بجا اعتراف ہے۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز