"میں پل صراط پہ کھڑا ہوں " 63

"میں پل صراط پہ کھڑا ہوں "

پل صراط کی حقیقت کیا ہے علماء و فقہاء جانیں، لیکن اس کا تصور خوفناک ضرور ہے، جہاں بے بسی ہوتی ہے، بے حسی آنکھوں اور روح میں اتر آتی ہے،پکار و فریاد سننے والے کے کان بند اور دیکھنے و رحم کرنے والی آنکھیں بصارت کھو چکی ہوتی ہیں، پل صراط پہ کھڑے ہو کے بھی "خود احتسابی" کی چکی ایسے چلتی ہے کہ پیس پیس کر جسم و روح کو چھلنی کرتی ہے، پھر کوئی آکر جوڑ دیتا اور پھر دوبارہ چکی کے حوالے، وہ جو چکی چلانے والا ہے نا،! وہ نہ دیکھتا ہے نہ سنتا ہے، 
کیا ایسے میں جینے کا کوئی امکان ہوتا ہے، معاشرہ جو پل صراط جیسا ہو، جہاں ظلم کا آخری حصہ بھی اتار دیا گیا ہو، شکر کریں پل تو ہے، پھر کبھی جڑے تو شاید پار بھی ہو جائیں، کوئی مسیحا باقی ہے، کوئی راہ گیر اور راہ نما ایسا ہو جو پل سے گزار دے، پل سے گزرا جائے یا گزارا جائے، کیسے؟ جہاں اتنی تقسیم ہو، منافقت ڈاڑھی سے ساڑھی تک ڈھانپ دی گئی ہو، دین و مذہب کو سیلنگ پراڈکٹ بنا کر مارکیٹنگ کی جاتی ہو، جہاں سچ کی قید یا ناپید ہو، جہاں رحم و انصاف نہیں، ظلم و تعدی عام ہو، معاش کی ہی نہیں اخلاق و اعمال کی فکر بھی ہو، جھوٹ کا گھوڑا سیارتر اور پرندہ مضبوط پروں کے ساتھ آسمان چھوتا ہو، چراغِ راہ کوئی نہ ہو اور گھپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماری جائیں، ایسا پل صراط کہ خود آئینہ ہونے کی کوشش میں کرچیاں کرچیاں کر کے تیزاب میں جلا دیا جائے، حیا کا لباس اتروا دیا جائے، جینے کا ساماں چھین لیا جائے تو کیا فریاد کوئی سننے والا ہو گا؟ نہ کان نہ آنکھیں،نہ احساس، بس آٹا پیستے جاؤ اور پھر جوڑ کر توڑتے رہو، یہ چھلنی یہ پل صراط کا تصور لا سکتے ہیں؟ 
تہذیبوں نے سیکھا ہے، ماحول نے سکھایا ہے مگر ہمارے مسیحا،ہمارے فرشتوں کو خبر نہیں ہوئی، یہ اس ایندھن سے بنے ہیں جن کی مٹی اور پیراہن کسی اور سیارے کا ہے، جہاں کا ہے یا آسماں کا، تہوں کا ہے یا بلندیوں کا، مگر پل صراط پہ متعین عملہ، کملا نہیں بے حس ہے اور مفعول بے بس، کون ہے اے انسان تو جس ڈیوٹی پل صراط پہ لگا دی، وہ بانو قدسیہ نے مشہور ناول راجہ گدھ میں ایک تصور دیا تھا کہ گدھ نے مردار کھانا پہلی مرتبہ انسانوں کی بستی سے سیکھا تھا، یہاں یہ احساس بھی نہیں، چونکہ بصیرت و بصارت، سماعت و گویائی نہ رکھنے والے متعین کر دئیے گئے ہیں، کیا آپ نے خود احتسابی کا پل صراط دیکھا ہے؟
بڑا ڈاڈا ہے، خوفناک ہے، چھلنی بنا کر جوڑتا پھر گوند کر پکاتا اور پھر کھا جاتا ہے، کہ یہ سلسلہ رکتا نہیں، نیا پیراہن پہنا کر پھر یہ وظیفہ اور طریقہ شروع، اس پل صراط کی دھار باریک نہیں نوکیلی اور چٹیل ہے، دکھا دیتی ہے پھر جلا دیتی ہے اور پھر زندہ کر دیتی ہے، اس زندگی اور موت کے کھیل کا روز جشن منایا جاتا ہے وہ خود بے حس اور تماش بین کوئی اور ہوتے ہیں،ساقی و جام ، محفل رندانہ سب مختلف، ہم پیمانہ مشق بن کر کھائے اور پئیے جاتے ہیں، سن تو اے ساقی محفل ذرا آرام سے، سکون سے پیش کرنا اس جام میں ہمارا خون جگر شامل ہے، پل صراط پہ مارا گیا، خون نکالا گیا اور جام میں رکھ کر رندوں کو پلایا جا رہا ہے، جو یہ خون پی کے پھر بدمست ہو کر انسانوں کو اسی پل صراط پہ پہنچا دیتے ہیں، لہذا اے ساقی جام چھلکے گا تو درد ہمیں ہوگا، تو ہی کچھ تھوڑا سا خیال کر لے، کہ آتش محفل بننے سے پہلے کچھ تو سہارا ملے، ہم نے پل صراط سے گزرنا یا گزارا کرنا ہے ۔
کیا گزر جائیں گے؟؟؟؟
لاہور میں ایک باپ اور بیٹے نے مل کر بیٹی کا جنسی استحصال کیا، لوہے کے راڈ سے جلایا، ہسپتال پھینک کر فرار، کیا زمین کانپی نہیں، ایک آیا وہ روح کا تالا توڑ کر سب کچھ لوٹ کر لے گیا کس کے ہاں مقدمہ کریں، ایک ڈیڑھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل، غیر ملکی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی، تعلیمی اداروں کے واقعات و سانحات، معاشرہ اندھے اور بہرے ہی نہیں، جنگلی جانوروں سے بھی گر چکا ہے، ہم ہوں آپ ہوں، چپ چاپ سہتے جاتے ہیں، بول نہیں سکتے، کچھ کر نہیں سکتے، فریاد نہیں، تو کیا اس سے بڑا کوئی پل صراط ہے؟ دھار اتنی باریک،تیز کے کاٹ کر گڑھے میں پھینک رہی ہے 
"عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں " یہ کب ہوتی ہے، نظر نہیں آ رہی، معاشرہ تیز رفتاری سے پیچھے کی طرف دوڑ رہا ہے، بہتا جا رہا ہے، گوہر کہاں سے نکلے گا دور فتن آخر پہ پہنچ گیا افسوس اور دکھ یہ ہے کہ کوئی کچھ کر نہیں رہا ایک وقت تھا مذہبی جماعتیں دعوت اور تربیت کے لیے کچھ نہ کچھ کرتی تھیں اب وہ بھی سیاست اور مفاد کی نظر ہو گیا، مادیت پرستی کا جال ایسا بن دیا گیا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکا ایسے میں ایک سوال یہ کہ کیا انسان کی تخلیق صرف معاش کے لیے ہوئی؟ جواب ہر کوئی نہیں میں دے گا لیکن عمل وہی ہوگا یہ تضاد ایک دوسرے پہ کھل گیا، نقاب اتر گیا اس لئے بے حسی اور بوکھلاہٹ بڑھ گئی ہے، علاج یقینی طور پر خواہشات کی کمی اور اعتدال میں ہے مگر اس کے لیے مساوات اور عدل کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر جگہ ناپید ہو چکا ہے، کیا دنیا تباہی یا کسی قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے؟ تاریخ اس کا الٹ بتاتی ہے کہ ایسے حالات کئی مرتبہ دنیا میں پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ نے نئی مخلوق پیدا کی،نئے حالات پیدا ہوئے، اب کی بار بھی ایسا ہو سکتا ہے! "ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر" فردا سب ہیں مگر اپنا اپنا حصہ ڈالیں تو حالات کا رخ بدل سکتا ہے، خود احتسابی کا پل صراط، عمل پر متحرک کرے تو ضرور بتائیں، میں تو اس پل صراط پہ کھڑا ہوں اور ہر لمحہ روح کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں آگے مرضی میرے مالک کی، بہا کر لے جاتا ہے یا کشتی یا پل صراط کی دھار رستہ دے دیتی ہے ۔

بشکریہ اردو کالمز