مزدوروں کے خون میں ترسرخ جھنڈے کی کہانی 135

 مزدوروں کے خون میں ترسرخ جھنڈے کی کہانی

شکاگواپنی بلند ترین عمارات کے باعث دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔یہ آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا تیسرا بڑا شہر ہے جسے سن 1833میں عظیم جھیلوں کودنیا کے تیسرے بڑے دریا ”دریائے مسیسپی“کے نظام کے ساتھ منسلک کرنے  کے لئے قائم کیا گیا تھا۔شکاگو کی سڑکوں اور بلندو بالا عمارتوں کے نیچے ان ہزاروں مزدوروں کا خون بہہ چکا ہے جنھوں نے اپنے حق کی آواز بلند کی تھی۔یہ کہانی انیس ویں صدی کی ہے جب شکاگوا یک نیا صنعتی شہر بن رہا تھا یہاں مختلف ممالک سے آئے ہزاروں کی تعداد میں مزدور کام کرتے تھے جن کی زبان اور مذہب مختلف تھا۔مزدوروں سے 10سے اٹھارہ گھنٹے کام کروایا جاتا اور بدلے میں بہت معمولی دیہاڑی دی جاتی تھی۔ سرمایہ داروں اور فیکٹری مالکان کا وہاں اس قدر رعب اور دبدبہ تھا کہ مزدوروں کے خلاف کی جانے والی زیادتی پرکسی حکومتی ادارے کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہ تھی، ان دنوں چند اخبارات بھی شائع ہوتے تھے لیکن وہ بھی سرمایہ داروں کے خلاف لکھنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ سرمایہ داروں نے مزدوروں کے درمیان اپنے جاسوس بھی چھوڑ رکھے تھے تاکہ انھیں اطلاع ملتی رہی کہ مزدور احتجاج تو نہیں کررہے۔سرمایہ داروں نے غنڈے بھی پال رکھے تھے اگر کوئی مزدور احتجاج کرنے کا سوچتا تو غنڈے بھیج کر اس پر تشدد کروایا جاتا اس مقصد کے لئے پولیس کو بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ مزدور کسی احتجاج کا حصہ بننے لگتے تو ان سب کو نکال دیا جاتا تھا۔ ان سخت حالات کے باوجود مزدور ایک یونین بنانے میں کامیاب ہوگئے جس کا نام تھا (Knights of labor) یعنی مزدوروں کے سپاہی۔ابتداء میں اس یونین کے اراکین کی تعداد 28ہزار تھی جو بعد میں آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی۔Knights of laborیونین کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ ان سے آٹھ گھنٹے کام لیا جائے انھوں نے ایک اشتہار بھی شائع کروایا۔ مزدوروں کی قائم ہونے والی دیگر ٹریڈ یونینز بھی ”Knights of labor“یونین کے ساتھ مل گئیں اور ایک فیڈریشن بنائی گئی جس کا نام تھا”Fedration of organized trade labor unions“ اس فیڈریشن نے بھی مزدوروں کے کام کے اوقات آٹھ گھنٹے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یکم مئی سن1886میں امریکہ بھر میں پانچ لاکھ مزدوروں نے مکمل ہڑتال کرتے ہوئے پرُامن مظاہرے کئے،ادھر سرمایہ داروں کو خدشات پیدا ہونے لگے کہ اب مزدور ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں انھوں نے مزدوروں کو ڈرانے اور مظاہروں سے باز رکھنے کے لئے 3مئی کو ایک ہونے والے مظاہرے پرپولیس کے ذریعے فائرنگ کروادی جس کے نتیجہ میں چھ مزدور ہلاک ہوگئے۔اس واقعہ کے بعد مزدور وں نے راتوں رات پچیس ہزار اشتہار چھپواکر تمام مزدوروں کو اگلے روز شام ساڑھے سات بجے (Haymarket Square) یعنی بھوسے کی مارکیٹ کے پاس اکٹھے ہونے کی ہدایت کی۔پروگرام کے مطابق اگلے روز وہاں تین ہزارمزدور اکٹھے ہوگئے، ہلکی بارش کے دوران بھی مزدوروں نے مظاہرہ جاری رکھا۔اچانک پولیس کی بھاری نفری نے وہاں دھاوا بول دیاکسی مزدور نے ایک بم پولیس کی طرف پھینکا جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، سینکڑوں مزدور گولیوں کی زد میں آکر زخمی ہوگئے جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق چار ہزار مزدور ہلاک ہوگئے۔تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں شریک مزدوروں پرپولیس نے اس قدر گولیاں برسائیں کہ آج تک مرنے والے مزدوروں کی تعداد کا تعین نہیں ہوسکا۔ مظاہرے کے دوران مزدوروں کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ پرامن مظاہرہ کررہے ہیں لیکن جب پولیس نے نہتے مزدوروں پپر گولیاں چلا کر انھیں خون میں نہلا دیا،اس خون سے تر ہوکرمزدوروں کے سفید جھنڈے سرخ ہوگئے جبکہ بارش نے بھی مزدوروں کا بہنے والا خون سڑکوں پر اس طرح پھیلا دیا جیسے قیامت آگئی ہوہر طرف انسانی لاشیں اور خون نظر آرہا تھا۔ ان مزدوروں کی قربانی کی یاد میں علامت کے طور پر تب سے مزدوروں کے جھنڈے کا رنگ سرخ ہے۔اس واقعہ بعد زندہ بچ جانے والے مزدوروں نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے خون میں شرابورکپڑے شکاگو کے گلی محلوں اور چوراہوں پر لٹکا دیئے۔شکاگو کے رہائشی صبح آٹھے تو ہر طرف خون آلود کپڑے لٹکے ہوئے دیکھے۔ادھر پولیس نے مزدوروں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی اور آٹھ مزدور یونین لیڈروں کوپرجھوٹا مقدمہ کرکے انھیں موت کی سزا سنا دی جس میں سے ایک مزدور نے خود کشی کرلی۔باقی سات مزدوروں کو دردناک انداز میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔مزدوروں کی فیکٹری مالکان،سرمایہ کاروں اورحکومتی اداروں کے خلاف پہلا ایسا ملک گیر مظاہرہ تھا جس میں لاتعداد قربانیاں دی گئیں،اس تاریخی واقعہ نے دنیا بھر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور بلاآخر نتیجہ یہ نکلا کہ مزدوروں کے کام کے اوقات  دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے ہوگئے۔اگر وہ مزدور احتجاج نہ کرتے،قربانیاں نہ دیتے تو شائد آج بھی فیکٹری مالکان، سرمایہ کار مزدوروں سے سولہ سولہ گھنٹے کام لیتے۔اس تاریخی دن اور مزدوروں کی قربانیوں کو کراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہرسال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے لیکن ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ اور عزرائیل میں آج تک یہ دن نہیں منایا جاتا اور نہ ہی وہ منانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ امریکہ کی سیاہ تاریخ کا دن کہلاتا ہے۔Heymarket Squareمیں جس جگہ مزدور لیڈروں نے مال بردار گاڑی کے اوپر تقریریں کیں تھیں اسی مقام پر ان کی یادگار کے طور پر مال بردار گاڑی پر سوار مزدور لیڈروں کابنایا گیامجسمہ آج بھی موجود ہے

بشکریہ اردو کالمز