کلمہ طیبہ ہماری پارلیمنٹ کی پیشانی پر رقم ہے،ماخوذ ہے یہ اسلامی ریاست ہے،اس کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا،یہ اس بات کی گواہی ہے کہ کلمہ کی بنیاد پر بننے والی اس مملکت میں تمام قواعدو ضوابط بھی اسلامی ہی ہوں گے،جن کا یہ دعویٰ ہے کہ بانی پاکستان نے اسلامی مملکت بنانے کے لئے ساری جدوجہد کی تھی، وہ حوالہ کے طور پروہ قائد اعظم کی تقاریر ،فرمودات پیش کرتے ہیں،ترقی پسند طبقہ کا موقف ہے کہ وہ مذہبی نہیں سیکولر ریاست کے حامی تھے ، دلیل کے طور پران کے پاس11اگست ١٩٤٧کی واحد تقریر ہے، مذہبی جماعتوں کے اجتماعات میں اسی نظریہ کو دہرایا جاتا ہے،طویل عرصہ تک اسلا می نظام کے نفاذ کا نعرہ بھی لگتا اور اس کی بنیاد پر سیاسی اتحاد بھی وجود میں آتے رہے،دوسری طرف ترقی پسند جماعتیں برسرا قتدار بھی رہی ہیں، مگر یہ ریاست نہ اسلامی بن سکی نہ ہی سیکولرازم کی'' فیوض و برکات'' سے مستفید ہو سکی ہے۔
مملکت کے76 برس پورے ہونے پر کوئی بھی سیاسی ،مذہبی،روشن خیال،باوردی طبقہ دعویٰ کرنے سے قاصر ہے کہ اس کی شبانہ روز کاوشوں سے ملک کے باسی مایہ ناز شہری ہیں،بہترین کردار میں ان کا کوئی ثانی نہیں ،،اس کا تاجر دنیا کا بہترین سوداگر ہے
انتظامی امور میں مہارت لاجواب ، جذبہ حب الوطنی افسر شاہی میںکوٹ کوٹ کر بھرا ہے، ملکی اثاثہ جات کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کرتے ہیں ،بیرون ملک جائیداد خرید کرنے کا تصور بھی محال ہے، ریاست کی جامعات کا شمار دنیا کی اولین درسگاہوں میں ہوتا ہے ،اسکے اساتذہ میں قرون اولی ٰ کی جھلک نظر آتی ہے، شب وروز وہ اس غم میں غرق ہیں کہ نسل نو کی کردار سازی میں کوئی کسر باقی نہ رہے،صنف نازک پر مشتمل نصف آبادی بھی ایسی نسل کو جنم دے رہی ہے کہ ہر بچہ مہتاب آفتاب ،نئے زمانہ کی خرافات سے دور بھاگتا ہے ،ان مائوں کو یہ ناز کہ پہلی درس گاہ میں تربیت کے تمام تقاضے پورے کئے تو بچہ قوم کی صف میں شامل ہوا ہے۔
کسان مطمئن ہے اس نے عشر کی ادائیگی میں کبھی ڈنڈی نہیں ماری، جاگیر دار خوش کہ جاگیر اللہ کی عنایت ہے کسی کی حق تلفی میں ان کا کوئی کردار نہیں،علماء کو یہ زعم کہ جس طرح وہ وعظ فرما رہے ہیں ،کرہ ارض پر اس سے بہترین امت کی تیاری ممکن ہی نہیں،کاروبارسے وابستہ افراد اس خوش فہمی میں مبتلا کہ دنیا بھر میں ملک کی ساکھ ان کی صاف شفاف تجارت اور ٹیکس کی مکمل ادائیگی کی بدولت ہے ، عدلیہ کے منصفین اپنے فیصلہ جات پر اس قدر نازاں کہ شاہی خاندانوں کے بعد ان کے عدل کا ڈنکا بجتا ہے،پولیس جس محبت سے مجرمان سے پیش آتی ہے اسکی مثال پیش کرنے سے دوسرے معاشرے عاجز ہیں۔ٹریفک کا ایسا منظم نظام کہ دنیا نکالی کی خواہش کرے۔
آپ پڑھ کر سوچ میں گم ہیں کہ کس معاشرہ کے اوصاف حمیدہ ہیں ہمارا گمان ہے آپ کو کامل یقین کہ ہمارا سماج ایسی خوبیوں سے مزین تو ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے بھی کہ ہماری سیاسی،عسکری قیادتوں نے سنہری اصولوںاور اُس کردار اپنایا ہی نہیں جو بانی پاکستان کا خاصہ تھا۔
جاپان سے خبر ہے ڈبل روٹی میں چوہوں کی باقیات برآمد ہونے پر سٹور پر فروخت کے لئے موجود ایک لاکھ چار ہزار ڈبل روٹیاں معروف
برینڈ نے وآپس منگوانے ،گاہکوں سے معذرت کرنے کے ساتھ انھیں اسکی قیمت ادا کرنے کا اعلان کیا ہے،بیان میں کہا ڈبل روٹی کھانے
سے کسی کی صحت متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ملی،کمپنی کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنائے گی تاکہ دوبارہ واقعہ پیش نہ آئے۔ تاجر برادری سے ایسی خبر ہمیں کب ملے گی؟
جاپانیوں کا سرکاری طور پر کوئی مذہب نہیں، راہنمائی کے لئے کوئی الہامی کتاب اور پیغمبر بھی نہیں،پھر بھی ایمانداری، اخلاقی اقدارکے اعتبار سے دنیا میں صف اول کی یہ قوم ہے، اس کو تبلیغ کے لئے الفاظ کا سہار ا نہیں لینا پڑتا۔
راقم جب جامعہ اسلامیہ بہاولپور پی ایچ ڈی سیاسیات میں زیر تعلیم تھا، استاد محترم ڈاکٹر محمد اعجاز جنہوںنے جاپان سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، فرماتے پانچ سالوں میں نے کسی کو جھوٹ بولتے،دھوکہ اور بے جا اذیت دیتے نہیںدیکھا،بے ہودگی کی وہاں کوئی اجازت نہیں، وقت کے پابند، کوئی سیاح اگر راستہ بھول جائے تو منزل تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ۔
ایٹم بم کی تباہی کے ملبے سے نکل کر دنیا کی بڑی میشعت بننے کے پیچھے جاپانیوں کی وطن سے غیر متزلل محبت، بہترین کردار،ر وحانی تربیت اور قانون کی حکمرانی بھی ہے،کسی فرد نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر جاپان میں over stay کیا ہو،کسی جرم میں سزا پائی ہو وہ دوبارہ اس ملک میں داخل نہیں ہو سکتا،روایت ہے کہ جدید معاشرت کے لئے نئی قانون سازی میں حضرت عمر کی مناسبت سےUmer Laws کو سرکار نے کلیدی اہمیت دی ہے۔قدرتی آفات اور کم وسائل کے باوجود وہاں رزق کی فراوانی ہے جس کے لئے ہمارے شہری مارے مارے پھرتے ہیں۔
ہمارامعاشرہ جس کی٩٩ فیصد آبادی مسلم مگرشمار دنیا کی بدعنوان ترین اقوام میں ہو، حجاج کی تعدا د دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ ہو،
ہر گلی، محلہ میں نماز جمعہ کا خطاب ہوتا ہو ،محافل عید میلا النبی ۖ، سیرتۖ کانفرنسیں، درس قرآن کے اجتماعا ت،درباروں پر اولیاء کی تعلیم کا اہتمام ہو، دنیا بھر میں تبلیغی وفود یہاں سے روانہ ہوتے ہو ،اس کے باوجود ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی یہ رپورٹ شرمندہ ہونے کے لئے کافی ہے کہ٣٠ کروڑ لٹر سے زیادہ ملاوٹ شدہ دودھ فروخت یہاں ہوتاہے،ملاوٹ کا وہ فعل جو کبھی انفرادی تھا اب صنعتی سطح پر پروان چڑھ رہا ہے، ناقص اور مضر صحت اشیاء کھانے سے گیسٹرو کے مریضوں سے ہسپتال بھر جاتے ہیں المیہ یہ ہے کہ صارف کو پتہ ہی نہیں کہ وہ جس چیز کی قیمت ادا کر رہا ہے وہ اصلی ہے یا جعلی،کیونکہ بازار، مارکیٹیں ایسی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں۔یہ گورکھ د ھندہ انتظامیہ کی ناک کے بالکل نیچے برسوں سے جاری ۔ بیچنے والوں کا ضمیر بھی نہیں جاگتا ، جہاں مافیا کا راج ہو وہاں قانون کا کوڑا کیوں برسے گا ۔مبلغین کے لئے بھی تو سوالیہ نشان ہے۔
اقبال کاپڑھایا ہوا عدالت اور صداقت کا سبق قوم نے نہ صرف بھلا دیا بلکہ بانی پاکستان کی شخصیت جن اوصاف حمیدہ کی مالک تھی ،اس سے بھی صرف نظر کیا ، اس کی ادنیٰ سی جھلک بھی قوم کے کردار میں نہیں ملتی، غیر مسلم عوام کے اعلیٰ کردار اور دیانتداری کے بعد ندامت کے آنسو ہماری آنکھوں سے کب چھلکیں گے؟زمانہ منتظر ہے۔