نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔۔ مگر مجھے تو مینو پاز ہے۔۔۔ 583

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔۔ مگر مجھے تو مینو پاز ہے۔۔۔

 

 

جب میں نے خوب تحقیق کر لی تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اب وقت ہے کہ گھر والوں کو بتا دینا چاہئے کہ مجھ میں ایک موذی بیماری کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔۔  قدرتی اس جمعہ کو میری بیٹی بھی آئی ہوئی تھی جو ڈاکٹر ہے اور میری بہو کی بھی ہسپتال سے چھٹی تھی تو میں نے  سوچا رات کے کھانے پر سب سے ایک بار گفتگو کر ہی لوں۔۔ 

سب کھانے دوران خوشی  گپیوں میں مصروف تھے۔۔ کھانا ختم ہوا تو بہو پلیٹیں سمیٹنے لگی ،میں نے ہمت جوڑ کر کہا میں آپ سب سے اپنی صحت کے متعلق  کچھ سنجیدہ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔ 

یہ سنتے ہی میری بیگم آٹھ کر فوری کچن کی طرف چل پڑی ۔۔ میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔ بچو!!! مجھے ایک ایسی بیماری لاحق ہو گئی ہے جو میری عمر کے ہر بندے تقریبا   ہوتی ہے۔۔ 

بہو نے کہا ۔۔ ابو جی خدا خیر کرے۔۔ ماشاءاللہ آپ صحت مند ہیں ۔۔ ایسا نہ کہیں۔۔ 

میں نے کہا۔۔ نہیں بہو مجھے "مینو پاز" ہو گیا ہے!!!

کیا۔۔ بہو کے منہ سے چیخ کی طرح نکلا۔۔ بیٹا ۔۔ جو سلاد کے آخری پتے چبا رہا تھا۔۔ اس کا منہ کسی گھوڑے کی طرح اوپر کا جبڑا دائیں اور  نیچے کا جبڑا بائیں رک گیا۔۔۔ اور پتہ لٹکا رہ گیا۔۔ بیٹی نے اپنے بچے کو جلدی جلدی کہا کہ جاو بیٹا اپنے کمرے میں۔۔ داماد جلدی سے فون میں میسجز  پڑھنے لگا۔۔ 

اچانک کچن سے بیگم نے زور سے چمچ زمین پر گرایا اس paused ماحول اور سناٹے میں چمچہ کسی بم کی طرح گرا ۔ سب چونک گئے۔۔ بیوی کی آواز آئی۔۔ یہ کیڑا ہر چھ ماہ بعد نکل آتا ہے۔۔ مار دیا۔۔۔ میں نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بہو کی طرف دیکھا ۔۔

بہو۔۔ نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔ابو جی۔۔ یہ آپ کی بیماری نہیں۔۔ آپ کو نہیں ہو سکتی۔۔ 

مجھے ہے۔۔ میں نے پر یقین انداز میں کہا ۔۔

اس نے میری بیٹی کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔ بیٹی چونکہ گائنا کالوجسٹ  ہیں تو بولی ۔۔بابا۔۔ میرے پیارے بابا آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔ یہ خواتین کی بیماری ہے اور 45 سال سے 50 سال کے دوران شروع ہوتی ہے اور 55 سال تک اپنا پورا اثر دکھا دیتی ہے۔۔ 

مجھے معلوم ہے۔۔ میں نے مثبت انداز سے کہا۔۔ لیکن مجھ میں وہ تمام علامتیں ہیں جو مونوپاز  کی بیماری میں ہو جاتی ہیں۔ 

مثلا۔۔۔ بیٹی نے کہا۔۔ کچن سے بیوی بولی چھوڑو اسے یہ بس اہم بننے کے ہہانے  سوچتا رہتا ہے۔۔ چند مہینے پہلے مجھے رات کو اٹھا کر کہہ رہے تھے۔۔کہ مجھے ہسٹیریا  ہو گیا ہے۔۔ پھر بیٹے نے سمجھایا کہ بابا آپ کو اس عمر میں اتنے بچے پیدا کرنے کے بعد ہسٹریا نہیں ہو سکتا۔۔ اور اب اسے (مونوپاز ) ...حد ہے چوول  پن کی۔۔ 

داماد نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا اور آنکھوں آنکھوں میں ہمدردی کا اظہار کیا۔۔ 

بیٹے نے صرف سلاد پر ہی زور رکھا۔۔

 

بہو بولی۔۔ ابو جی۔۔ انشاءاللہ میں دوائیاں لا دوں گی آپ کہہ رہے تھے ,کہ اس کی تمام علامات آپ میں ہیں تو بتائیں گے کہ کیا کیا ہو رہا ہے۔۔تب  بیٹی نے مایوسی سے سر جھٹک دیا۔۔ 

 

میں نے کہا۔۔دیکھو ۔۔بیٹی مجھے اس کی علامات میں جسم میں سے اچانک نکلنے والی گرم لہروں کے ساتھ ساتھ یہ علامات بھی ہیں

 انتہائی بے خوابی،وزن میں اضافہ،ڈپریشن،بے چینی،یاداشت کی کمزوری،بار بار پیشاب کا آنا،سر کے بالوں کا پتلا ہو جانا ۔۔اور  ہاں میں یہ مانتا ہوں کہ کچھ علامات اور ایسی ہیں جو میرے جسم میں نہی ہو سکتیں لیکن 

جسم کے میٹا بولک نظام کا سست ہو جانا

ہڈیوں کا کمزور اور بھر بھرا ہو جانا

موڈ میں تیزی سے تبدیلی واقع ہونا

آنکھوں میں موتیا ہو جانا

پیشاب کا انفیکشن یا تکالیف

دل یا خون کی شریانوں کی بیماری

یہ تو سب مجھے ہیں نا!!

بیٹی نے مسکرا کر بہو کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔ شکر ہے کچھ مسائیل انہیں نہیں ہیں ورنہ ہم کیا کر لیتے۔۔ 

ہنسو مت !!!میں  نے غصہ کرتے ہوئے کہا۔۔ تو بیٹی اپنی کرسی سے اٹھی اور میرا سر چوم کر بولی ۔۔ بابا آپ ٹھیک ہو جائیں گے کل میں اپنی میڈیم سے آپ کے لئے اچھی سی دوائی لاوں  گی۔۔ لیکن پلیز آپ اپنی بیماریوں کو گوگل کرنا چھوڑ دیں ۔۔ ہم سے پہلے بات کر لیا کریں۔۔

نہیں ۔۔ میں نے کہا۔۔ یاں تو مجھے اپنی میڈیم سے چیک اپ کراو یا میری بات تم دونوں آرام سے سنو!!! 

بیٹے نے ایک بار پھر گھوڑے کی طرح منہ کھول کر جمائی لی اور کہا مجھے صبح اٹھنا ہے۔۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں سو جاوں۔۔ داماد نے موبائل سے سر اٹھا کر کہا کہ بابا۔۔ وہ گھر پر امی ابو انتظار کر رہے ہوں گے اگر مجھے اجازت دیں۔۔ اسی طرح بیوی اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بڑبڑائی۔۔ میری نماز کو ہمیشہ اس گھر کے جھمیلوں میں دیر ہو جاتی ہے۔۔ نماز پڑھ لوں۔۔ بیٹی اپنے بچے کا بہانہ کر کے جانے لگی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی آپ سو جائیں۔۔ صبح میں ڈاکٹر سے بات کروں گی۔۔ 

میں بوجھل قدموں سے کمرے کی طرف چل پڑا۔۔۔

 

کچھ دیر بعد میرے کمرے کا دروازے پر دستک ہوئی۔۔ بہو چائے کے دو کپ لئے داخل ہوئی اور بولی۔۔ ابو جی۔۔میرا موڈ تھا چائے کا تو سوچا ۔۔ آپ کے ساتھ پی لوں اور آپ کا اتنا سیریس مرض بھی کچھ ڈسکس  کر لیں۔۔ 

میں اپنے بستر سے اٹھ بیٹھا۔۔ آو بیٹا آو۔۔ بہت شکریہ تم آئیں۔۔ 

ابو جی آپ کو کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو صرف "مینو پاز"  ہی ہے۔۔ حالانکہ یہ بات آپ کی صحیح ہے کہ یہ اچانک گرمی کا لگنا جسے  "ہاٹ فلیش " کہا جاتا ہے  یہ مرد یا خواتین دونوں کو کئی بار دوا، علاج یا دیگر وجوہات کے باعث ہارمون میں ہونے والے عدم توازن کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔۔اس میں شدید گرمی ،بے چینی جسے anxiety کہتے ہیں،دم گھٹنا اور گھبراہٹ مشترک ہیں لیکن ۔۔ مینو پاز ایک ایسی جسمانی حالت  ہے جسے صرف خواتین تک ہی مخصوص رکھا جا سکتا ہے اور یہ ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی مخصوص خواتین کے مسائل بڑھ جانا اور قدرتی عوامل کا رک جانا شامل ہیں۔۔ آپ کو نہیں ہو سکتا۔۔ 

میں نے اس کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسے کہا بیٹی ۔۔ بیٹھو اور سنو!!!

وہ میرے بستر کے سامنے صوفہ پر مودب بیٹھ گئی۔

میں بولا۔۔ سنو!!! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں۔۔ یہ برصغیر کے تمدن کی وراثت ہے جسے ہم لے کر چل رہے ہیں۔۔ اس میں عورت جب مینو پاز( سن یاس) میں جانا شروع ہوتی ہے۔۔ تو ایک تو اس کا جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا ہوتا ۔۔وہ اپنے مسائل سے نبٹ  رہی ہوتی جبکہ انہیں سالوں میں اس کا خاوند دنیاوی  جھنجھٹوں سے فارغ ہو رہا ہوتا ہے۔۔اس کی عشق و مشک کی بتی آخری زمانے میں فارغت کی وجہ سے لو بڑھا رہی ہوتی ہے۔۔ اور بیوی کی بے رغبتی خاوند کو اس سے دور کرتی جاتی ہے۔۔ بچے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے جاتے ہیں۔۔ اور معاشرہ ان خواتین کو آہستہ آہستہ اپنے امور اور افعال سے نکالتا جاتا ہے۔۔ پھر یہ خواتیں اپنی اکیلے اور چڑچڑے پن کا علاج بہت مذہبی بن کر نکالتی ہیں ۔۔ ہندو مت وہ مذہب ہے جو عورت کو اس کے مخصوص ایام میں اکیلا کر دیتا تھا۔ خاوند کے مرنے پر اسے خاوند کے ساتھ جلا دیتا تھا جسے ( ستی کہا جاتا ہے)اور مینو پاز میں اسے ایک سٹھیائی ہوئی بڑھیا  سمجھ کر چارپائی تک محدود کر دیتا ہے۔۔ 

میں بھی اسی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہوں۔۔ ہسٹیریا اس لئے کہتا تھا کہ میری جسمانی خواہشات پوری نہیں ہو رہیں تھیں اور مجھے ضرورت محسوس ہوتی تھی۔۔ جب وہ وقت گزر گیا اور مجھے بیوی بچوں اور معاشرے نے ریٹائرمنٹ پر مجبور کر دیا تو میں اسی سن یاسی خاتون کی طرح کسی ہندو معاشرے میں جوگن  بن گیا ۔۔ جس کو چارپائی اور کمرے کی رہبانیت پر مجبور کر دیا گیا۔۔ ابھی تم نے دیکھا کوئی میری بات سننے کو تیار نہیں۔۔ اب میرے پاس اس عمر میں صرف ان بڈھے انگریزوں کی طرح تھائی لینڈ جا کر عیاشی کا راستہ رہ جاتا ہے جہاں میری قدر ہو۔۔ یا اپنے ملک میں رہ کر ناجائز رشتوں کو اپنے پیسے اور طاقت کے زور پر متاثر کر کے اپنی خوشی حاصل کروں ۔۔ جو کہ میری ہم عمر عورت کے لئے  تو ناممکن ہی نہیں واجب تعزیر بھی ہے،وہ تو سوچ بھی نہی سکتی۔۔ ہم جب اس عمر کو پہنچتے ہیں تو ہم معاشرے کے لئے غیر ضروری ہو جاتے ہیں۔۔ گورے نے اس کا حل فری سوسائیٹی آزاد معاشرے کی صورت میں نکالا۔۔ عورت اور مرد اپنی اہمیت کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔۔ مشہور زمانہ ادکار کلائنٹ  ایسٹ وڈ اور اس کی آخری گرل فرینڈ کی عمروں میں 35 سال کا فرق تھا۔۔اس لئے تم ان کی سوسائیٹی میں عمر رسیدہ افراد کو چاہے وہ مرد ہوں یا عورت  معاشرے میں فعال دیکھو گے۔۔ وہ جب اپنی اہمیت کہیں کم ہوتی دیکھتے ہیں رشتے کو ختم کر دیتے ہیں۔۔اور اگر ساتھ نہیں چل سکتے تو ایک دوسرے سے علیحدہ ہو کر اپنی نئی منزلوں کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔۔ یہی خود کو جوان رکھنے کی امنگ انہیں معاشرے میں فعال کرتا رہتا ہے۔۔ جبکہ ہمارے 50 سے اوپر کے مرد سفید ٹوپیاں پہنے مسجد اور اس کی کمیٹی کے اقتدار کی جنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔۔ اور عورتیں  چارپائی پر بیٹھ کر بہو بیٹیوں کو کوستی رہتی ہے۔۔ اور سارا گھر اسے نیم پاگل تصور کرتا ہے۔۔

 

اب ذرا تم اسلام کی طرف آو۔۔ آپ کو 4 بیویوں کی اجازت ہے۔۔ لیکن اگر آپ کے دوست کا دوست بھی  دوسری شادی کر لے تو اس بے چارے کا نام  لینا بھی گھر میں منع بلکہ جرم بن جاتا ہے۔۔ اب چاہے یہ آدمی چوری چھپے آشنائیاں  کرتا پھرے ۔۔ وہ قابل قبول ہے۔۔ وہ ہماری ایک آرٹسٹ ہے  ادکارہ نور ۔۔ اس بیچاری نے دو چار شادیاں کیا کر لیں۔۔ ہمارے مردوں اور عورتوں کے لئے نجس اور اخلاق باختہ بن گئی۔۔جبکہ اس کے مقابلے میں الزبتھ  ٹیلر ایک محسور کن اداکارہ رہی ہے جس نے شاید 8 شادیاں اور لاتعداد معاشقے کئے۔۔ 

اب ایک نظر ذرا مذہب اسلام کے معاشرتی بنیادوں کو دیکھو ۔۔ جہاں کسی بیوہ یا مطلقہ خاتون کو عدت بھی پوری کرنے کا موقع نہ دیا جاتا تاکہ وہ معاشرے کا عضو معطل  بن کر زندگی نہ گزارے ۔۔اور معاشرے میں کسی ناجائز راستے سے اپنی ضروریات کو پورا نہ کرے۔۔ 

طلاق ناپسندیدہ ترین فعل ہونے کے باوجود کئی واقعات میں صحابیات کا طلاق کا مطالبہ نبی کریمﷺکے دربار میں جا کر کرنا اور پھر پورا کرنا بھی رہا تھا ،کیونکہ جب وہ کہیں خود کو غیر ضروری یا ایسا سمجھتیں جہاں خاوند ان کا معاشرتی احترام کھو رہا ہے وہ مطالبہ طلاق کر دیتیں۔۔ حتکہ حضرت زید بن حارثہ جن کا نکاح خود حضور کریمﷺ نے کردیا۔۔ وہ بھی اپنی زوجہ محترمہ کے رویہ سے تنگ ہو کر آقاﷺ سے اجازت لے کر طلاق دے دیتے ہیں جبکہ آقاﷺنے انہیں کئی بار روکا بھی۔۔بعض صحابہ کرام سے متعلق کثرت کے ساتھ طلاق دینے کے بارے میں یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ میاں بیوی کے درمیان نفرت پیدا ہو جانا، یا کسی اخلاقی یا جسمانی عیب کے متعلق بعد میں معلوم ہونا وغیرہ ، نیز ان کے عہد میں طلاق کے منفی نتائج بہت کم تھے، تو ایسا ممکن تھا کہ ایک عورت کو کئی بار طلاق ہو اور پھر اس کی شادی بھی کئی بار ہو جائے۔۔ حضرت عاتکہ بنت زید رضی اللہ عنہا کے 5 نکاح ہوئے اور تمام شوہر شہید ہوئے ۔۔اان کے سابقہ تمام شوہر شہید ہوئے تھے اور یہ مشہور ہو گیا تھا کہ جسے شیادت کا درجہ پانا ہو وہ عاتکہ سے شادی کرلے۔اور ان کی اس شہرت پر کہ ان کا خاوند شہید ہوجاتا ہے۔۔ حضرت علی بن ابی طالب نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ایک برادر نبی، میں آپ کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔۔ لیکن حضرت امام حسین سے شادی کی جبکہ امام کریم آپ سے 25 سال چھوٹے تھے۔۔ اسی لئے اس معاشرے میں 60 سال کا شخص بوڑھا نہیں کہلاتا تھا۔۔

 

 اور قران تو اس حد تک انسان کو motivated  رکھتا ہے کہ اپنے خلیل نبی حضرت ابراہیم اور ان کی بیگم کو بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیتا ہے۔۔ جبکہ ہمارے معاشرے میں 50 سال کے بعد عورت یا مرد کا کوئی بچہ غلطی  سے بھی پیدا ہو جائے۔۔ مرد اور عورت زمانے کا قصہ بن جاتے ہیں۔۔ جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو جب اولاد کی بشارت دی ایک اندازے کے مطابق ان کی عمر مبارک 90 سال تھی۔۔ 

میں نے بہو کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔ کیوں بیٹی!!! اگر تمہیں ایک مہینے کے بعد پتہ چلے کہ تمہاری ساس کی بھی اولاد ہونے والی ہے تو کیسا محسوس کرو گی؟؟ 

بہو کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔ اور دوپٹہ میں منہ چھپا کر قہقہہ مار  ہنسنے لگی۔۔ بولے ہائے ابو جی ایسا نہ کہیں۔۔۔ 

میں نے کہا حالانکہ ابھی ہم دونوں ساٹھ سال کے نہیں ہوئے۔ اور تمہاری ساس تو یہ بات بھی سن لیتی تو مجھے گولی مار دیتی۔۔ 

یہ ہی ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم نے کسی کو بھی اس کی مرضی کی زندگی نہیں جینے دینی۔۔۔۔چاہے وہ اسلامی ہو یا ثقافتی ۔۔ اور یہ ہندو مذہب کی نشانی ہے پہلے وہ عورت کو مرد کے مرنے کے بعد ستی( زندہ جلا دیا کرتے تھے) اور بیوہ یا طلاق یافتہ کو منحوس سمجھ کر اسے شادیوں اور خوشیوں میں نہ بلاتے۔ کہ اس کا منحوس اثر ان کے گھروں پر نہ پڑے۔۔ جبکہ صحابہ کو جب پتہ چلا کہ ایک صحابیہ سے شادی کے بعد ان کا شوہر  شہید ہو جاتا ہے تو ۔۔وہ ان سے شادی کو  اپنے لئے نیک بخت سمجھتے۔۔

میں نے بہو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔بیٹی!!! مرد کو درد بھی ہوتا ہے، وہ تنہائی کا عذاب عورت سے دوہراہ  کاٹتا ہے۔۔ اور اسے رونا بھی آتا ہے۔۔ یہ مینوپاز  نہیں جو صرف عورت ہی کو ہو سکتا ہے مرد کو نہیں۔۔ اگر اس معاشرے کی عورت  بہت سی تکالیف کا شکار ہے اور معاشرے میں خاوند کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کو دبا کر بیوہ اور (معاشرتی ستی) ہو رہی ہے تو اس برصغیر کا مرد بھی عورت کے بڑھاپے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ہی اندر ستی ہو رہا ہے۔۔ کیونکہ دوست،کاروبار ،نوکری اور رشتوں سے اسے بہت جلد غیر ضروری سمجھ کر معاشرہ نکال دیتا ہے۔۔ پھر شاید اس کا ستی ہو جانا ہی بہتر ہے۔۔۔

میں بہو سے بولا۔۔تم ایسا کرو مجھ سن یاسی کو ستی کر دو۔۔۔ 

اب جاو ۔۔شب بخیر۔۔اور میں دوسرے طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔۔ 

بہو دیے پیر خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب 

بشکریہ اردو کالمز