ہنگامہ خیز سال2022ء یا2023ئ 237

ہنگامہ خیز سال2022ء یا2023ئ

    2022ء اپنی شروعات سے لیکر اختتام پذیر ہونے تک طلاطم خیز ثابت ہوا ،گزرے سال کے آغاز میں ہی پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اتحاد انگڑائی لے چکا تھا اورموجودہ حکمران اتحاد اپنا وجود بنانے لگ گیا تھا ،حزب اختلاف کی تمام جماعتیں نہ صرف ایک صفحے پر جمع ہونے لگی تھیں بلکہ حزب اقتدار میں دراڑیں بھی ڈالی جا رہی تھیں،جس کے نتیجے میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی ،اور ملکی تاریخ میں آئینی طریقے سے حکومت ہٹانے کی ایک مثال قائم ہوئی ،اس کے بعد اقتدار کی منتقلی بھی تاریخی ثابت ہوئی ،عدالت عظمیٰ کی مداخلت سے حزب اختلاف کواقتدار ملا اور حامل اقتدار حزب اختلاف بنے ،ان تمام مرحلوں میں ان گنت ملکی ریکارڈ قائم ہوئے اور تاریخ ساز حالات و واقعات نے جنم لیا ،اس کے ساتھ ہی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا اقتدار بھی دونوں سیاسی قوتوں کے درمیان فٹبال بن کر رہ گیا ،ملکی سیاست کے تمام دائو پیچ پنجاب پر آزمائے جانے لگے اور حکومتوں کے ردو بدل کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج بھی جاری و ساری ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جا رہا ہے جن سے ملکی تاریخ قبل ازیں محروم ہی رہی۔
    اسی سال آرمی چیف کی تعیناتی کو بھی ریکارڈ ساز پذیرائی ملی ،معمول کے مطابق ہونیوالی اس تعیناتی کو قبل ازیں ایسی شہرت اور توجہ حاصل نہیں ہوسکی تھی ،اگرچہ یہ اہم تعیناتی اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی ہونا تھا اور ہوئی مگر پھر بھی اس تعیناتی کو سیاسی جلسوں ،بیانیوں ،لانگ مارچ ،دھرنوں میں بہت زیادہ موضوع بحث بنایا گیا ،اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی گئی ،اس کے جواب میں سابق آرمی چیف کا اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل غیر سیاسی ہونے کے فیصلے سے قوم کو آگاہ کرنا ،آئی ایس آئی چیف کی پریس کانفرنس ،ادارے کی جانب سے سیاست میں عدم مداخلت کا باضابطہ اعلان بھی تاریخ ساز ثابت ہوا اور اس کے ملکی سیاست پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے جس کے ثمرات مستقبل میں برآمد ہوں گے اور یقینا یہ بھی تاریخ ساز ہی ثابت ہوں گے ،اسی طرح2022کا سال چوہدری پرویز الٰہی کیلئے بھی تاریخ ساز ثابت ہوا ، 10 ووٹوں کے ساتھ اکثریتی جماعت کو بے بس کرکے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں اور اب بھی دونوں سیاسی قوتوں (پی ڈی ایم اور تحریک انصاف ) کے درمیان اپنی اہمیت کو قائم رکھے ہوئے ہیں ۔
    2022ء میں ملکی سیاست نے جو ڈرامائی شکلیں اختیار کیں انہیں بھی تاریخ ساز ہی کہا جائے گا ،عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدارکا خاتمہ ہونے کے بعد سب سے پہلے ملکی سیاست میں امریکی سازش کے بیانئے کی زوردار انٹری ہوئی اور کئی ماہ تک اسی کا تڑکا لگایا جاتا رہا ،اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کا پرچار سوشل میڈیا سے لیکر گلی محلوں تک پھیلایا گیا ،دھرنوں ،مارچوں ،احتجاجوں میں اس کا چورن بیچا گیا اور سیاست کا پیٹ بھرا گیا ،پھر بھی سیاست کی بھوک ختم نہ ہوئی تو جنرل باجوہ مہم چلا کر قبل از وقت انتخاب کیلئے دبائو ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی ،اسلام آباد اور راولپنڈی کا محاصرہ کرنے ،دھرنا دینے کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں اور جب یہاں بھی دال نہ گلی تو صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا آخری پتہ بھی پھینک دیا گیا ،اس سال میں حکومت اوراسٹیبلشمنٹ پر ڈالا جانے والا دبائو بھی اگرچہ تاریخ ساز ہے البتہ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان دبائو ڈال کر مطلوبہ نتائج لینے سے قاصر رہے اور اب سال کے اختتام پر انہوں نے مہنگائی کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے بروقت انتخابات کیلئے دبائو ڈالنا شروع کردیا ،غالب گمان ہے کہ عمران خان شروع ہونے والے نئے سال میں بروقت انتخابات،عبوری حکومتوں کے قیام اور انتخابی اصلاحات کی جانب اپنا سفر شروع کردیں گے ۔
    گزرنے والے سال2022میں جہاں سیاسی عدم استحکام نے بام عروج پایا وہاں معاشی بدحالی اور مہنگائی نے بھی کئی ملکی ریکارڈز توڑڈالے ،زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ملکی کرنسی کی قدر میں گراوٹ نے ملک کو بدترین صورتحال سے دوچارکردیا ،سال کے اختتام پر سیاستدانوں کی باہمی لڑائی نے ہمیں اس نہج پر پہنچادیا ہے کہ ہمیں ٹماٹر ،پیازدرآمدکرنے کیلئے بھی سوچ و بچار کرنا پڑتا ہے ،بندرگاہ پر کھڑے درآمدی کینتینرزکی کلیئرنس نہ ہونے سے صنعتوں کو بے پناہ نقصان ہورہا ہے اور بے روزگاری اپنی انتہائوں کی جانب گامزن ہے ، درآمد شدہ مال کی کلیئرنس میں تاخیر سے بہت سی اشیاء قلت کا شکار ہورہی ہیں جس سے مہنگائی کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے ،آنے والے سال کے پہلے چھ ماہ میں ملک کو30ارب ڈالر سے زائد کی رقم ادا کرنی ہے مگر زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر3ارب ڈالر اداکرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے ،دوست ممالک سے قرض ملنے کی امیدیں بھی اس سال دم توڑ چکی ہیں جبکہ معیشت کو تنکے کا سہارا دینے والا آئی ایم ایف بھی نالاں دکھائی دیتا ہے ،گزرے سال کے حساب میں آنے والے اس معاشی دبائو سے آنے والا سال کس طرح نبرز دآزما ہوتا ہے اور ملکی معیشت کو کس طرح سنبھالا دیا جاتا ہے ،اس کا تمام دارومدار سیاستدانوں کی پالیسیوں سے جڑا ہے ۔
    سال2022ء کے آغاز کو امن و امان کے حوالے سے اگرچہ اطمینان بخش کہا جا سکتا ہے مگر اس کا اختتام غیر تسلی بخش ہی نہیں بلکہ تشویشناک شکل میں ہو رہا ہے ،دہشت گردی کے عفریت سے جان چھڑاتے چھڑاتے دو دہائیاں بیت چکی ہیں مگر اب تک اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ،عمران خان کی حکومت کا جب خاتمہ کیا جا رہا تھا تو اس وقت حکومت طالبان سمیت مختلف شدت پسند حلقوں سے مذاکرات کی پالیسی پر عمل پیرا تھی اور دہشت گردی کے واقعات بہت حد تک کم ہو چکے تھے مگر حکومت کی تبدیلی کے بعد اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ،افغانستان سے امریکی انخلاء اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کیلئے انتہائی خاص توجہ کی حامل تھی جو بدقسمتی سے نہیں دی گئی اور نتیجہ سامنے ہے ،ملکی میں شروع ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر سال کے اختتام پر صورتحال کو عیاں کر رہی ہے ،گزرنے والا سال ہر طرح سے ریکارڈ ساز ثابت ہوا ہے لیکن جو صورتحال اگلے سال کو اپنے آغاز سے ہی  مل رہی ہے اس سے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ سال2023ء زیادہ ریکارڈ ساز اور گہما گہمی والا سال ثابت ہو گا ۔

 

بشکریہ اردو کالمز