ننھے فوجیوں کے ہمراہ جناح ہاؤس کا دورہ 219

ننھے فوجیوں کے ہمراہ جناح ہاؤس کا دورہ

لاہور کنٹونمنٹ کے علاقے میں واقع کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ کور کمانڈر ہائوس کو ’’جناح ہائوس‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1943ء میں اس تاریخی عمارت کو قائداعظم محمد علی جناح نے موہن لال بشن نامی شخص سے خریدا تھا۔ 1948ءمیں قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان آرمی نے جناح ہائوس کو 500روپے ماہانہ کرایہ پر حاصل کیا اور اِسے کور کمانڈر کی رہائش کا درجہ حاصل ہوا۔ بعد ازاں پاکستان آرمی نے اس پراپرٹی کے مالکانہ حقوق محترمہ فاطمہ جناح سے 3لاکھ 50 ہزار روپے میں حاصل کئے جو اُس وقت ایک بڑی رقم تھی، یوں اِسے کور کمانڈر لاہور کی سرکاری رہائش گاہ میں تبدیل کردیا گیا جہاں اب تک 27کور کمانڈرز رہائش اختیار کرچکے ہیں۔

9 ؍مئی کو تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمران خان کی گرفتاری پر جنونی اندازمیں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے درجنوں فوجی مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ فوجی مقامات میں جناح ہائوس کی عمارت بھی شامل تھی جسے شرپسندوں نے شعلوں کی نذر کردیا اور یہ تاریخی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ دہشت گردی کے اس سانحہ نے مجھ سمیت ہر پاکستانی کو صدمے سے دوچار اور یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ بانی پاکستان کی رہائش گاہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھادیا گیا۔ واقعہ کے بعد یہ معمول بن چکا ہے کہ مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد گروپ کی شکل میں شرپسندوں کی بربریت کا نشانہ بننے والی تباہ شدہ تاریخی عمارت دیکھنے آتے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کے جان لیوا مرض میں مبتلا 3 بچے جنہیں ماضی میں پاک فوج نے ان کی دلی خواہش پر ایک دن کیلئے پاک فوج کا حصہ بنایا تھا، میرے ہمراہ کراچی سے لاہور گئے اور جناح ہائوس کا دورہ کیا۔ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا یہ بچے 9مئی کو جناح ہائوس پر ہونے والی دہشت گردی سے شدید دلبرداشتہ تھے ، ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی جناح ہائوس کا وزٹ کریں۔ فوجی یونیفارم میں ملبوس ان ننھے فوجیوں نے جب آگ سے تباہ شدہ عمارت کو دیکھا تو افسردگی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’’انہیں آج جناح ہائوس کی حالت دیکھ کر دلی افسوس ہوا کہ جس ادارے اور اس سے وابستہ افراد کو وہ اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں، اسے دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس سے انہیں شدید صدمہ پہنچا۔‘‘ جناح ہائوس کی خاکستر عمارت کو دیکھ کر میں بھی حیرانی اور صدمے سے دوچار ہوا۔ گوکہ میں ٹی وی چینلز پر جناح ہائوس کی جلی ہوئی عمارت دیکھ چکا تھا مگر جب اسے قریب سے دیکھا تو یہ دیکھ کر نہایت افسوس ہوا کہ قائداعظم کی تصاویر، نادر خطوط، بیرون ملک سے ملنے والے تحائف، قیمتی قالین، تاریخی پیانو، پینٹنگز اور گیراج میں کھڑی 6سرکاری گاڑیوں سمیت کوئی ایسی چیز باقی نہ بچی جو آگ کی نذر نہ ہوئی ہو۔ عمارت کو نذر آتش کرنے سے پہلے لوٹ مار کا بازار گرم ہوا اور جس شرپسند کے ہاتھ جو آیا، وہ اسے لے اڑا۔اس طرح شرپسندوں نے وہ کام کر دکھایا جو دشمن نہ کرسکا اور خاکستر عمارت دیکھ کر ایسا گمان ہوا کہ گویا اسرائیل نے کسی فلسطینی کے گھر کو نذر آتش کردیا ہو۔اس موقع پر میں نے جناح ہائوس کا دورہ کروانے والے فوجی افسر سے دریافت کیا کہ آپ نے شرپسندوں کو جناح ہائوس میں کیوں داخل ہونے دیا اور ان سے آہنی ہاتھوں سے کیوں نہ نمٹا تو ان کا کہنا تھا کہ فوج کبھی اپنے عوام پر گولی نہیں چلاتی، اگر ہم ایسا کرتے تو شاید درجنوں افراد مارے جاتے، اسلئے ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ سانحہ 9مئی پاکستان اور اس کے ادارے کیخلاف ایک بہت بڑی سازش تھی، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو شاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ 9مئی کو ریاست، اس کی علامتوں، حساس اداروں اور تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی جڑیں پی ٹی آئی رہنما عمران خان سے جاملتی ہیں وہ آرمی چیف اور ادارے کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہے تھے جس کا مقصد لوگوں کے دلوں میں پاک فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور انہیں شرپسندی پر اکسانا تھا۔اس طرح شرپسندوں کو یہ اہداف دیئے گئے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد کن کن مقامات پر حملے کرنا ہے جس کا مشاہدہ قوم نے 9مئی کو کیا۔

پاکستان کی مسلح افواج کیلئے سانحہ 9 مئی کو امریکہ کا نائن الیون اور کیپٹل ہل قرار دیا جارہا ہے جو ناقابل معافی اور سنگین جرم ہے۔ 9مئی کے واقعات، سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور اور ملک میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہونیوالے دہشت گردی کے دوسرے واقعات سے مماثلت رکھتے ہیں۔ پاکستانی قوم جانتی ہے کہ فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے اور وہ فوج کی عظیم قربانیوں کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شرپسندوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلاکرانہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی اقتدار کی ہوس میں ملکی سلامتی سے نہ کھیل سکے۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز