مہمان کالم - پاکستان میں انقلاب کے امکانات؟ پاکستان میں انقلاب کے امکانات؟

معروف ترقی پسند دانشور سلیم راز مرحوم نے ایک بار راقم سے کہا تھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں انقلاب کیلئے تمام معروضی حالات موجود ہیں، پھر بھی یہاں انقلاب کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا۔ اس سوال کے درجنوں کیا سینکڑوں جوابات ہوسکتے ہیں۔ کوئی ایک وجہ لے لیں اور اس پر غور کریں تو اس کے نیچے کوئی اور وجہ ہوگی۔ یہ وجہہ الوجوہ (Causes of the Causes) کی ایک طویل قوس قزح بن جائے گی۔ گویاآئینے کے سامنے آئینے رکھ کر تصویریں بنتی جائیں گی، جوحیران کن ہی ہوں گی۔ حقیقتیں مفروضے اور مفروضے حقیقتوں کی شکل اختیار کریں گے۔ فلسفی  ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سراملتا نہیں۔ ان امکانی وجوہات کو حرفِ آخر قرار دینے کی کوششِ نا تمام  بہر حال ایک مبارک اور قابل تحسین کاوش ہوگی۔ میں نے بھی بارہا اس پر سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اور ایسا کیوں نہ ہوسکا؟ چند معروضات قارئینِ کرام کے سامنے رکھ کر ایک ممکنہ وجہ میں بھی تلاش کرنے کی سعی کرتا ہوں۔ انقلاب ہمیشہ بھوکے، ننگے، پیاسے لوگ ہی  لاتے ہیں‘یا یہ طبقہ انقلاب کا ہراول دستہ ہوتا ہے یا  انقلاب لانے والے انہی طبقات جو عموماً تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں کی افرادی قوت کو استعمال کرتے ہیں۔ کیا پاکستان میں غربت کی کمی ہے؟ کیا ہمارے ہاں یہ طبقات کم ہیں؟ ظاہر ہے کہ پاکستان میں صرف دو ہی طبقے ہیں۔ ایک مظلوم غریب، پسماندہ، غیر مہذب، غیرتعلیم یافتہ، بیمار، بے آسرا، کمزور اور دوسرا مالدار اور طاقتور طبقہ،جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں کوئی مڈل کلاس ہے تو یہ ان کی غلط فہمی یا خوش فہمی ہے۔ غریب طبقات سے اگر کوئی فرد اپنی قابلیت، محنت یا ہوشیاری سے جائز وناجائز جیسا بھی ہو، کبھی مالدار طبقے میں ایٹم کے ایک مدار سے الیکٹرون کی طرح توانائی کا اخراج کرتے ہوئے دوسرے مدار میں چھلانگ لگا کر چلا بھی جائے تو عین ممکن ہے کہ اصل مالکان اس کو کسی وقت  بھی کسی سرن لیبارٹری میں بے دست و پاکرکے واپس اپنی اوقات  میں لے آئیں  یا سماجی نظام جو سخت درجہ بندی (Social stratification)پر مبنی ہے میں واپس اپنی جگہ پر لے جائے۔ ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“۔ مالدار اور طاقتور طبقات کے پاس اس کارگزاری کیلئے پولیس یا پھر کڑی بدمعاشی کے بہت سارے راستے، ہتھکنڈے اور وسائل موجود ہوتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے اپنے آس پاس  ایسی بے شمار مثالیں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ ان کو اصطلاح میں ریگولیٹری ادارے کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مڈل کلاس صرف ایک سفید پوش طبقہ رہ گیا ہے جو ڈر، خوف،اپنی بدعنوانی، لالچ اور کمزور اعصاب کی وجہ سے اپنے سفید ملبوس پر انقلاب کے سرخ یا سیاہ دھبے گوارا نہیں کرسکتا اور نہ ہی اپنے چہرے اور سماج میں اپنی حیثیت عرفی کو ریگولیٹری اتھارٹیز کے ہاتھوں۔ پھر سوال یہ ہے کہ یہ ادارے آئے کہاں سے ہیں؟ ایک جمہوری اسلامی مملکت میں ایسا کیوں ہے؟ اس کے لئے گردن کو پورا موڑ کر تاریخ کے اس موڑ پر جانا پڑے گا جس کو ہم نے جنگِ آزادی اور غاصب مالدار طاقتور طبقے نے غدر قراردیا۔ سال 1857 ء میں یہ انقلابی سوچ پہلے جبر و اکراہ اور قتل وغارت سے کچل دی گئی اور پھر لگ بھگ سو سال تک اس کو جینے مرنے کی حالتِ نزع (Suspended Animation) میں رکھنے کے لئے ریگولیٹری اتھارٹیز کا ایک ایسا مربوط، جامع اور خود کار نظام وضع کیا گیا کہ جس میں زلفِ یار شبِ فراق جتنی بھی طویل کیوں نہ ہو اْلجھتی ہی جائے گی۔(لٹ ا  لجھی سلجھا جارے بالم)    تمنا نہیں ارمان ہی رہے گا۔ جو دل ہی دل میں رہ جائے اْسے ارمان کہتے ہیں۔ استعمار کے ان شکنجوں اور ہتھکنڈوں کے خلاف تحریر، تقریر، عملی جدوجہد تو دور کی بات سوچنے پر بھی پابندی ہے۔ افسوس کہ جن دانشوروں نے ”یہ داغ داغ اْجالا یہ شب گزیدہ سحر“ کی شکایت کی تھی اور یہ دہائی دی تھی کہ وہ(حبس ہے کہ لوْ کی دعا مانگتے ہیں لوگ) وہ بھی ایک ایک کرکے چلے گئے۔بیرونی امداد کی منتظر نگاہیں بھی آخر پتھرا کر پلٹ گئیں یا مایوس ہوئیں یا سمجھوتہ کرکے اپنی دنیا  سنواراور عاقبت خراب کرگئیں۔
(باقی صفحہ6بقیہ نمبر1)
 اسلامی انقلاب اور سوشلسٹ انقلاب کی اصطلاحیں بھی بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں۔پاکستان میں بقول سلیم راز مرحوم معروضی حالات موجود بھی ہوں تو ان حالات کا مکمل تجزیہ اور انقلاب کے امکانات پر کسی نے بحث کی ہی نہیں۔ انقلاب  کاطریقِ کار تو الگ، کسی نے انقلاب کے مفاہیم تک پر قلم نہیں اْٹھایا ہے کہ انقلاب کا مطلب صرف ہنگامے،توڑ پھوڑ، دنگا فساد، دھرنے اور تباہی پھیلانا ہے یا یہ کہ اس نظام کی جگہ کوئی ایسا دوسرا نظام لایا جائے گا جس میں نہایت دانشمندی، حکمت اور سفاکی سے بنائے گئے ریگولیٹری اتھارٹیز کے سارے جال کو کاٹ کر عوام کو آزاد کرنا پڑے گا۔ اس وقت سوائے ایک طبقے کے باقی تمام غلامی کی زندگی بسرکررہے ہیں۔ کوئی افسر، کوئی رہنما، کوئی ادیب، کوئی ڈاکٹر، کوئی بیوپاری قطعاً یہ نہ سمجھے کہ وہ آزاد ہیں۔ چند وسائل کی موجودگی کا مطلب آزادی ہر گز نہیں ہے۔ مالدار اور طاقتور طبقہ اپنے کاروبارِ حیات کو قائم ودائم رکھنے کیلئے آپ کو ایک مخصوص وظیفہ، تنخواہ، گاڑی اور بنگلہ ملازم اس لئے دیں گے تاکہ آپ سکون سے ان کا نظام قائم رکھیں اور ان کے لئے خدمات (Services)  سرانجام دیں۔ دورِ جدید میں آزادی کا مفہوم بدل جانا چاہئے۔ صرف جغرافیائی حدود اور ووٹ کی شخصی آزادی کے اندر بھی ایک بدترین غلامی ہوسکتی ہے جو کہ پوری دنیا میں  محسوس کی جارہی ہے۔ پاکستان میں ریگولیٹری اتھارٹیز کے جبر کو قانون کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس لئے  بقولِ اقبال(یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری) اور بقول فیض(فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں)۔ البتہ مغرب میں ان طبقات کی ظالمانہ سوچ، وسائل کے عدم استعمال، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم،انسانی ترقی میں جمہوری نظام کی ناکامی اور غریب مالدار کے درمیان ناقابل یقین حد تک پھیلے ہوئے خلیج کے خلاف بہت ساری معتبر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔”پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے“۔ رہے نام اللہ کا۔‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

بشکریہ روزنامہ آج