10ذوالحجہ سے شروع ہو نے والا قافلہ عشق کا اختتام 10محرم الحرام کو میدان کر بلا میں تمام ہو ا۔ حضرت اسما عیل عشق الہی کے مظہر بنے اور نواسہ رسول حضرت اما م حسین تر جمان اور محافظ دیںکہلا ئے! حضرت اقبال یاد آگئے غریب وسادہ رنگیں ہے داستان حرم نہایت اس کی حسین ابتداء ہے اسما عیل محرم الحرام اسلامی سال کا آغاز ہے۔ یہ پیغام حق اور پیغام آزادی کا مہینہ ہے محرم مظلو مو ں کو حق کی روشن دیتا ہے یہ محکوم مسلمانوں کو حق اور سچ کیساتھ کھڑے رہنے اور بھر اس کے ثمرات سے آگاہی دیتا ہے۔ حضرت امام حسین حق اور سچ کے داعی بن کر ظلم اور ظالم کے سامنے کھڑے رہے با لا آخر حق غالب آ گیا۔ ماہ محرم کایہی وہ ماہ مقدس ہے جس میں حضرت سیدنا یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ سے رہائی عطا فرمائی اور اسی مہینے میں حضرت سیدنا ادریس علیہ السلام مکان عْلیا میں پہنچے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال کی بیماری سے شفا یاب ہوئے اور اسی مہینے میں حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی،حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کو سلطنت ملی تھی۔ اسی عاشورہ محرم میں اللہ رب العالمین عرش پر مستوی ہوا اور اسی مہینے میں قیامت کا عظیم حادثہ برپا ہوگا۔ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے؛ چنانچہ چار وجوہ سے اس ماہ کو تقدس حاصل ہے: پہلی وجہ تو یہ ہے کہ احادیث شریفہ میں اس ماہ کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا علی المرتضی سے کسی شخص نے سوال کیا کہ ماہ رمضان المبارک کے بعد کون سے مہینہ کے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت سیدنا علی المرتضی نے جواب دیا کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ ۖکے پاس بیٹھا تھا، تو آپ نے جواب دیا ''یعنی ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا'' نیز حضرت سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ محرم الحرام کا ہے۔ اسی طرح حضرت سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ۖ نے ارشاد فرمایا '' جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا''احادیث شریفہ سے دوسری وجہ یہ معلوم ہوئی کہ یہ ''شہرْ اللّٰہ'' ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا مہینہ ہے تو اس ماہ کی اضافت اللہ کی طرف کرنے سے اس کی خصوصی عظمت وفضیلت ثابت ہوئی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ ''اشہر حرم'' یعنی ان چار مہینوں میں سے ہے کہ جن کو دوسرے مہینوں پر ایک خاص مقام حاصل ہے، وہ چار مہینے ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم الحرام،اوررجب کے ہیں۔ چوتھی وجہ یہ کہ اسلامی سال کی ابتداء اسی مہینے سے ہے؛ چنانچہ امام غزالی لکھتے ہیں کہ ''ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے سے سال کا آغاز ہوتا ہے؛ اس لیے اسے نیکیوں سے معمور کرنا چاہیے، اوراللہ تعالی سے اس کے فضل کی اْمید رکھنی چاہیے کہ وہ ان روزوں کی برکت پورا سال عطا فرمائے گا محرم الحرام اور کر بلا کا سب سے بڑا درس اللہ کی خو شنودی کا حصول ہے جس نے خود کو اور اپنی مر ضی کو رضائے الہی کے تا بع کر لیا جیت اور نصرت اس کی ہے ۔والدین ، اساتذہ کر ام اور ہمارے بڑو ں کا فر ض ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم وتربیت کر تے ہو ئے انہیں اعلی اوصاف کا مر قع بنادیں،وہ کردار اور گفتار کے غازی بنیں گے تو معاشرے سے خرافات کا خاتمہ ہو گا اصلاح معاشرہ کیلئے اساتذہ کرام ، علمائے کرام اور مشائخ عظام کو میدان عمل میں آنا پڑے گا ''نکل کر خانقاہو ں سے ادا کر رسم شبیری''
235