سگمنڈ فرائڈ کے چوتھے لیکچر کا ترجمہ اور تلخیص 287

سگمنڈ فرائڈ کے چوتھے لیکچر کا ترجمہ اور تلخیص

خواتین و حضرات!

میرا خیال ہے کہ اب آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ ہم نے تحلیل نفسی سے کون سے ایسے لاشعوری تضادات اور کمپلیکسز کا سراغ لگایا ہے جو مریضاؤں کے نفسیاتی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

مریضاؤں کے نفسیاتی تجزیے نے ہمیں بار بار یہ بتایا ہے کہ نفسیاتی مسائل کا تعلق مریضاؤں کی رومانوی و جنسی زندگی سے ہے۔ مریضہ کی جنسی جبلت ایسی خواہشات کا اظہار کرتی ہے جو اس کے سماجی اور اخلاقی روایات سے متضاد ہوتا ہے۔

 

اپنی گفتگو کے اس موڑ پر میں یہ اعتراف کرنا چاہوں گا کہ بہت سے ماہرین نفسیات، جن میں میرے دوست اور شاگرد بھی شامل ہیں، میرے اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ میں مریضوں کے جنسی رویوں کو حد سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ انسان کی دیگر جبلتیں کیوں ایسا تضاد اور نفسیاتی مسئلہ پیدا نہیں کرتیں۔ میرے پاس اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دوسری جبلتیں اور دوسرے تضادات جنسی جبلت اور تضاد کو بڑھاوا تو دے سکتے ہیں لیکن اس کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ میں نے یہ موقف اپنی مرضی سے نہیں اپنایا بلکہ مجھے اس نتیجے پر میرے تحلیل نفسی کے پیشہ ورانہ تجربات و مشاہدات نے پہنچایا ہے۔

 

ہم سب جانتے ہیں کہ جنس کا موضوع ہمارے معاشرے میں ایک شجر ممنوعہ ہے۔ ہم اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے جنسی سچ کو صدیوں کی روایتوں کے جھوٹ کے پردوں تلے چھپاتے ہیں۔ ہم جس مہذب معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں اس میں رومانوی و جنسی جذبات کے اظہار پر تہذیب اور اخلاقیات کے نام پر پابندیاں عاید کر دی گئی ہیں لیکن جب مریض تھراپی کے ماحول میں محفوظ محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنے تھراپسٹ سے اپنے رومانوی و جنسی جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سے ڈاکٹر بھی جنسی موضوعات پر بات کرتے گھبراتے، شرماتے اور ہچکچاتے ہیں کیونکہ وہ اسے غیر مہذب سمجھتے ہیں۔

جب ہم مریضوں کی تحلیل نفسی کرتے ہیں تو ہم اس واقعے یا حادثے کا سراغ لگاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے نفسیاتی مسئلے نے جنم لیا تھا۔ تحلیل نفسی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جوانی کا وہ تکلیف دہ واقعہ ماضی کے کسی اور واقعہ سے جڑا ہوا ہے اور اس واقعے کا تعلق مریض کے بچپن سے ہوتا ہے جو برسوں سے مریض کے لاشعور میں چھپا بیٹھا ہوتا ہے۔

 

بچپن کا وہ جنسی واقعہ وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر جوانی میں نفسیاتی مسئلے کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اگر بچپن کے تجربے کی بنیاد نہ ہوتی تو مریض جوانی کے تکلیف دہ تجربے کو برداشت کر لیتا اور بیمار نہ ہوتا۔

جب میں بچوں کی جنسی زندگی کی بات کرتا ہوں تو بہت سے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جنس کے موضوع کا رشتہ صرف جنسی مباشرت اور بچے پیدا کرنے سے جوڑتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں بچے معصوم ہوتے ہیں اسی لیے ان کے کسی عمل کسی خواہش کو جنسی کہنا نامناسب ہے۔

خواتین و حضرات!

یہ بات درست ہے کہ انسان کی جنسی زندگی جوانی اور بلوغت کے وقت اپنی معراج پر پہنچتی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ بلوغت سے پہلے موجود نہیں ہوتی یہ علیحدہ بات کہ اس کا اظہار مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔

بچوں کی جنسی زندگی کے حوالے سے میں اپنے موقف کی تائید میں ڈاکٹر سین فورڈ بیل کا ایک مضمون پیش کرنا چاہتا ہوں جو امریکہ کے ایک معتبر جریدے

 

دی امریکن جرنل آف سائیکولوجی
THE AMERICAN JORNAL OF PSYCHOLOGY
میں انیس سو دو میں میری کتاب
THREE ESSAYS ON THE THEORY OF SEXUALITY

کے چھپنے سے تین سال پہلے چھپا تھا۔ اس مضمون میں ڈاکٹر بیل وہی بات کہہ رہے ہیں جو میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں

”انسان کے جنسی جذبات بلوغت کے وقت پہلی بار نمودار نہیں ہوتے، جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں، وہ انسانوں میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں“

ڈاکٹر بیل کا مضموں دو ہزار پانچ سو لوگوں کے انٹرویوز پر مبنی تھا جن میں سے آٹھ سو ان کے اپنے مریض تھے۔

ڈاکٹر بیل کہتے ہیں کہ بہت سے بچوں کے جذبات میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ ہم اسے محبت کا نام دے سکتے ہیں لیکن وہ لوگ جو بچوں میں جنسی جذبات کو نہیں مانتے وہ بچوں کے اس جذبے اور جذبات کو کوئی اور نام دینا چاہتے ہیں۔

 

میں نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر بچوں اور نوجوانوں کی جنسی زندگی کے مختلف ادوار کا ذکر کیا ہے۔ میرے دوست کارل ینگ کے مشاہدات اور تجربات بھی میرے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ میرے کئی رفقا کار جو پہلے مجھ سے اختلاف رکھتے تھے اور بچوں کی جنسی زندگی سے انکار کرتے تھے اب آہستہ آہستہ اپنے تجربات کی بنا پر مجھ سے اتفاق کرنے لگے ہیں۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو بچوں کی جنسی زندگی سے انکاری ہیں وہ اپنے بچپن کے جذبات بھول گئے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جذبات ان کے لاشعور میں بھی نہیں ہیں۔ اگر وہ اپنی تحلیل نفسی کریں تو اس عمل سے انہیں بچپن کے وہ جذبات اور احساسات یاد آ جائیں گے۔

جب ہم بچوں کی نفسیات جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کی جنسی جبلت انسانی جسم کے مختلف حصوں اور اعضا سے مسرت حاصل کرنے سے اپنا اظہار کرتی ہے

انسانی بچہ پہلے دور میں اپنے منہ سے مسرت حاصل کرتا ہے
ماں کی چھاتی سے دودھ پینا یا اپنا انگوٹھا چوسنا اس کی مثالیں ہیں

انسانی بچہ دوسرے دور میں اپنی مقعد سے مسرت حاصل کرتا ہے پاخانہ کرنے سے بھی اسے خوشی کا احساس ہوتا ہے

انسانی بچہ جوان ہوتا ہے تو وہ تیسرے دور میں اپنے جنسی اعضا پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔

جب ہم انسان کی جنسی زندگی کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انسان پہلے دور میں اپنے جسم کے مختلف حصوں سے لذت حاصل کرتا ہے

دوسرے دور میں اپنی ہی جنس کے انسانوں کو پسند کرتا ہے۔ لڑکے لڑکوں سے دوستی کرتے ہیں اور لڑکیاں لڑکیوں کو اپنی سہیلی بناتی ہیں۔ یہ ہم جنس پسندی کا دور ہوتا ہے

 

تیسرے دور میں لڑکے لڑکیوں میں اور لڑکیاں لڑکوں میں رومانوی دلچسپی لیتی ہیں۔

بعض لوگ تیسرے دور تک نہیں پہنچتے کیونکہ ان کی نشوونما پہلے یا دوسرے دور میں ہی رک جاتی ہے اسی لیے ان کی جنسی زندگی پوری طرح بلوغت تک نہیں پہنچتی۔

(نوٹ: اکیسویں صدی کے بہت سے ماہرین نفسیات و جنسیات ہم جنس پسندی کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ کے آج سے سو سال پیشتر کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ڈاکٹر خالد سہیل)

چونکہ مہذب معاشروں میں جنسی اظہار پر پابندیاں عاید کی جاتی ہیں اس لیے بہت سے لوگ نوجوانی میں اپنے جنسی جذبات و احساسات کو لاشعور میں دھکیل دیتے ہیں اور ذہنی طور پر بیمار ہو جاتے ہیں۔

تحلیل نفسی سے ہم پر انسانی نفسیات کا یہ راز منکشف ہوا ہے کہ نیوروسس اور اینزائٹی کا تعلق انسان کی جنسی زندگی کے ناآسودہ جذبات و احساسات و تضادات سے ہے۔ جب انسان نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے تو وہ ذہنی طور پر بالغ سے نابالغ بن جاتا ہے اور بچگانہ حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ ہم اس ترقی معکوس کو ریگریشن REGRESSIONکا نام دیتے ہیں۔

خواتین و حضرات!

آپ میں سے بہت سے مجھ پر یہ اعتراض کریں گے کہ میں نے تمام نفسیاتی مسائل کا رشتہ جنسیات سے جوڑ دیا ہے۔ اس اعتراض کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ اور میں جنس کے لفظ اور تصور سے مختلف معنی اخذ کر رہے ہیں۔

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسان کی جنسی زندگی کا تعلق صرف مباشرت اور بچے پیدا کرنے سے نہیں ہے۔ انسان کی جنسی جبلت اور جنسی جذبہ بہت سے ایسے طریقوں سے بھی اپنا اظہار کرتے ہیں جن کا بظاہر جنس سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔

 

جنس ایک ایسا لفظ ہے جسے مختلف لوگ مختلف معنی دیتے ہیں۔ جنسی جبلت کا ایک اظہار محبت ہے۔ بچے اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں۔ اس محبت کے درپردہ بچے کی جنسی جبلت کارفرما ہوتی ہے۔ بہت سے خاندانوں میں باپ بیٹی سے اور ماں بیٹے سے جذباتی طور پر زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اسی طرح بھائیوں اور بہنوں میں بھی محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہ سب جنسی جبلت کے ابتدائی اظہار ہیں۔ بچے اور نوجوان ان ابتدائی مراحل سے گزر کر نفسیاتی بلوغت تک پہنچتے ہیں اور پھر وہ بالغ انسان بن کر دوسرے بالغ انسانوں کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں اور ان سے رومانوی تعلقات قائم کرتے ہیں۔

جب ہم عالمی ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں بہت سی لوک کہانیاں اور ڈرامے ملتے ہیں جن میں ماں باپ سے محبت کا دیومالائی اظہار ملتا ہے۔ ایک یونانی ڈرامے اوڈیپس میں ہیرو اپنے باپ کو قتل کر کے اپنی ماں سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی کرتے وقت وہ نہیں جانتا کہ وہ اس کی ماں ہے۔

اس ڈرامے میں لکھاری نے ہیرو کی لاشعوری خواہش کا فنکارانہ اظہار کیا ہے۔ بہت سے بیٹے لاشعوری طور پر یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ اپنی ماں سے شادی کریں کیونکہ وہ ان سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اس لاشعوری خواہش کو روکنے کے لیے مہذب معاشروں نے انسسٹ INCEST کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس روایت کی وجہ سے لڑکوں کا اپنی ماں اور بہن سے اور لڑکیوں کا اپنے باپ اور بھائی سے شادی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

انسانوں کے نفسیاتی تجزیے سے ہم نے انسان کی لاشعوری خواہشات تک رسائی حاصل کی ہے۔ چونکہ وہ خواہشات لاشعور میں بسی ہوتی ہیں اس لیے ہم ان کے حوالے سے گفتگو نہیں کرتے اور چونکہ جنس ایک ممنوعہ موضوع ہے اس لیے مہذب معاشروں میں اس پر تبادلہ خیال کو برا اور معیوب سمجھا جاتا ہے۔

تحلیل نفسی نے انسانی نفسیات اور جنسیات کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس نے ہمیں بچوں کی جنسی زندگی سے متعارف کروایا ہے اور ہمیں سکھایا ہے کہ انسانی بچے اور نوجوان کن مراحل اور ادوار سے گزر کر اپنی جذباتی و نفسیاتی بلوغت تک پہنچتے ہیں۔

اب ہم جانتے ہیں کہ بیٹا بچپن میں اپنی ماں سے محبت کرتا ہے لیکن پھر وہ اپنے باپ کی خاطر اپنی ماں کی محبت سے دست بردار ہو جاتا ہے اور اپنے لیے ایک محبوبہ یا بیوی تلاش کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ جو بیٹا یہ نہیں کر سکتا ہم کہتے ہیں کہ وہ

UNRESOLVED OEDIPUS COMPLEX
کے نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے۔

اسی طرح بیٹی باپ سے محبت کرتی ہے لیکن پھر اپنی ماں کی خاطر اپنے باپ کی محبت سے دست بردار ہو کر کسی اور مرد کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کر پائے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ

UNRESOLVED ELECTRA COMPLEX
کے نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے۔

(نوٹ: فرائڈ کے دور میں چونکہ یورپ میں مذہب اور اخلاقیات کا معاشرے پر گہرا دباؤ تھا اس لیے لڑکیوں اور عورتوں کو اپنے جنسی جذبات کے اظہار کی اجازت نہ تھی اسی لیے وہ ہسٹیریا کے نفسیاتی عارضے کا شکار ہو جاتی تھیں۔ جوں جوں یورپ میں جنسی آزادی عام ہوتی گئی ہسٹیریا کے مریضوں میں کمی آتی گئی لیکن دنیا میں آج بھی ایسے معاشرے موجود ہیں جہاں جنسی گھٹن پائی جاتی ہے اور لڑکیوں اور عورتوں کو اپنے رومانوی جذبات کے اظہار اور اپنے لیے شریک حیات چننے کی اجازت نہیں۔ ایسے معاشروں میں رومانوی محبت کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اکیسویں صدی میں بھی ایسے معاشروں میں عورتیں ہسٹیریا کے نفسیاتی مسئلے کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسی عورتوں کو نفسیاتی علاج مہیا کرنا ہم سب کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل)

بشکریہ ہم سب