شہید اسد زیدی کی شاعری  5

شہید اسد زیدی کی شاعری 

 

گلگت بلتستان کی ادبی تاریخ میں شہید اسد زیدی کا نام ایک ایسے شاعر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جن کی شاعری میں عشق، درد، مزاحمت، احساس اور زندگی کی تلخ حقیقتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ان کے اشعار محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ان کے اندر ایک حساس دل، ایک باشعور ذہن اور ایک دردمند انسان کی کیفیت محسوس ہوتی ہے اسد زیدی کے چند اشعار ایسے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے ذاتی دکھ کو اجتماعی دکھ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ان کے ہاں ’’قتل‘‘ صرف جسمانی موت کا استعارہ نہیں بلکہ ظلم محرومی ناقدری اور زندگی کی بے رحمی کی علامت بھی بن جاتا ہےشاعر کہتا ہے

شکر ہے دل میں میرے تیر کا ٹکڑا تھا اسد

ورنہ دعویٰ یہ میرے قتل کا باطل ہوتا

یہ شعر بظاہر ایک المیہ صورتِ حال بیان کرتا ہے، مگر اس کے اندر گہرا طنزیہ اور مزاحمتی پہلو بھی موجود ہے۔ شاعر اپنے قتل کے ثبوت کے طور پر دل میں پیوست تیر کے ٹکڑے کا ذکر کرتا ہے۔ گویا اگر یہ نشان موجود نہ ہوتا تو شاید اس کے قتل کی حقیقت بھی تسلیم نہ کی جاتی یہاں ’’تیر‘‘ صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ ظلم کی ایک علامت بن جاتا ہے۔ شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات مظلوم کو اپنے زخم کا ثبوت بھی پیش کرنا پڑتا ہے۔ اس شعر میں درد کے ساتھ ساتھ ایک ایسا طنز بھی ہے جو معاشرے کے بے حسی پر سوال اٹھاتا ہے شاعر کا یہ شعر بھی اپنے اندر گہری معنویت رکھتا ہے ۔لگے ہیں خون کے دھبے سفید کپڑوں پر

ہمارے قتل کا عنوان کچھ بنا تو سہی سفید کپڑے پاکیزگی معصومیت اور بظاہر صاف دامن کی علامت ہیں، جبکہ ’’خون کے دھبے‘‘ ظلم اور ناانصافی کی گواہی دیتے ہیں شاعر کہتا ہے کہ ہمارے خون کے دھبے اب سفید کپڑوں پر نمایاں ہو چکے ہیں، لہٰذا کم از کم ہمارے قتل کی کوئی کہانی، کوئی عنوان، کوئی شناخت تو بنے اس شعر میں ایک مقتول کی خواہش بھی ہے اور معاشرے سے سوال بھی۔ شاعر گویا کہتا ہے کہ اگر ہمارا خون بہا ہے تو اسے محض ایک واقعہ سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے؛ اس خون کی کوئی داستان ہونی چاہیے، کوئی عنوان ہونا چاہیے، کوئی ایسا حوالہ ہونا چاہیے جو آنے والی نسلوں کو حقیقت سے آگاہ کرے

اسد زیدی کہتے ہیں 

یہ تو اسد عنایتِ پروردگار ہے

ایک بحرِ غم تھا سامنے، بس پار کر دیا

یہاں شاعر زندگی کو ’’بحرِ غم‘‘ یعنی غم کے ایک وسیع سمندر سے تشبیہ دیتا ہے۔ زندگی کے راستے میں آنے والی مشکلات، مصائب اور دکھ اس سمندر کی مانند ہیں جسے عبور کرنا آسان نہیں۔لیکن شاعر اپنی کامیابی کو اپنی قوت یا قابلیت کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے اسے ’’عنایتِ پروردگار‘‘ قرار دیتا ہے۔ یہی اس شعر کی روحانی خوبصورتی ہےاس شعر میں شکر، توکل اور امید تینوں عناصر موجود ہیں۔ شاعر نے غم کے سمندر کو دیکھا، اس میں اترا اور اسے عبور بھی کر لیا، مگر کامیابی کا کریڈٹ اپنے آپ کو دینے کے بجائے خدا کی عنایت کو قرار دیا۔

یہ شعر اسد زیدی کے عشقیہ اندازِ بیان کی عمدہ مثال ہے

ایک بے وفا سے پیار کا اظہارکر دیا

لو آج ہم نے جرم کا اقرار کر دیا

شاعر عشق کو ’’جرم‘‘ قرار دیتا ہے۔ لیکن یہ جرم ایسا ہے جس کا اقرار کرنے میں اسے کوئی شرمندگی نہیں۔

’’بے وفا‘‘ محبوب کی روایتی صفت ہے، مگر شاعر اس بے وفائی کے باوجود محبت سے دستبردار نہیں ہوتا۔ یہی عشق کی وہ کیفیت ہے جہاں عقل شکست کھا جاتی ہے اور دل اپنی بات منوا لیتا ہے’’اقرار‘‘ کی تکرار شعر میں خاص حسن پیدا کرتی ہے۔ پہلے محبت کا اظہار ہے اور پھر اسے ’’جرم‘‘ قرار دے کر اس جرم کا بھی اقرار کیا گیا ہے۔ گویا شاعر کے نزدیک عشق ایک ایسا جرم ہے جسے چھپانا ممکن بھی نہیں اور شاید چھپانے کی خواہش بھی نہیں۔

شاعر کہتا ہے 

وہ ایک ادا تھی جس نے حسین چاند کی قسم

سارے جہاں کو تیرا طلبگار کر دیا

یہاں شاعر محبوب کی ایک ادا کو اتنا مؤثر قرار دیتا ہے کہ اس کی خوبصورتی نے پوری دنیا کو اس کا طلبگار بنا دیا۔

’چاند‘‘ حسن کا قدیم استعارہ ہے، لیکن اسد زیدی محض محبوب کے حسن کی تعریف نہیں کرتے بلکہ اس حسن کے اثر کو بیان کرتے ہیں۔ ایک ادا، ایک نظر، ایک انداز ایسا اثر پیدا کرتا ہے کہ پوری دنیا اس کی گرویدہ ہو جاتی ہے

یہ شعر اسد زیدی کی رومانوی شاعری کے حسن کو ظاہر کرتا ہے، جہاں محبوب صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ حسن کی ایک ایسی علامت بن جاتا ہے جس کی کشش عالم گیر ہے۔

اور پھر یہ نہایت خوبصورت شعر 

تیری آنکھوں میں ہیں گم گشتہ فردوس

مفاتیحُ الجنان ہیں تیری آنکھیں

 

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی آنکھوں کو جنت سے تشبیہ دی ہے۔ ’’فردوس‘‘ جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ایک کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ ’’مفاتیحُ الجنان‘‘ کے معنی ہیں ’’جنت کی کنجیاں‘‘۔

شاعر کی نظر میں محبوب کی آنکھیں ایسی دلکش ہیں کہ ان میں گم شدہ فردوس کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور وہ آنکھیں گویا جنت کی کنجیاں ہیں یہاں مبالغہ بھی ہے، تشبیہ بھی اور عشق کی وہ شدت بھی جس میں محبوب کا حسن دنیاوی حدود سے نکل کر ایک روحانی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔

اسد زیدی کی شاعری کا مجموعی مزاج

ان اشعار کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو اسد زیدی کی شاعری کے کئی رنگ سامنے آتے ہیں۔ کہیں وہ اپنے خون اور قتل کی بات کرتے ہیں، کہیں غم کے سمندر کو عبور کرنے کا ذکر کرتے ہیں، کہیں محبت کو جرم قرار دیتے ہیں اور کہیں محبوب کی آنکھوں میں جنت تلاش کرتے ہیں ان کے ہاں عشق صرف خوشی کا نام نہیں بلکہ درد کا دوسرا نام بھی ہے۔ ان کے ہاں محبوب صرف حسن کی علامت نہیں بلکہ انسانی جذبات کی گہرائی کا استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ اسی طرح ’’خون‘‘ اور ’’قتل‘‘ کے الفاظ محض المیہ کیفیت پیدا نہیں کرتے بلکہ ظلم، مزاحمت اور حق کی تلاش کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں شہید اسد زیدی کی شاعری کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ مشکل فلسفیانہ زبان اختیار کیے بغیر گہری بات کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے الفاظ سادہ محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندر چھپی ہوئی کیفیت قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اسد زیدی آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ شاعر جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے، مگر اس کے الفاظ اگر دلوں میں جگہ بنا لیں تو وہ کبھی نہیں مرتے اسد زیدی بھی اپنے اشعار کے ذریعے آج ہمارے درمیان زندہ ہیں۔ ان کا درد، ان کا عشق، ان کی آواز اور ان کے الفاظ آنے والے زمانوں تک ان کی یاد کو زندہ رکھتے رہیں گے۔کالم نگار سے رابطہ

03333361677

بشکریہ اردو کالمز