لیڈر ہمیشہ عوام کا خیال رکھتا ہے، وہ معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کی آواز بنتا ہے۔ میں نے کئی بار اروند کیجریوال کا تذکرہ اسی حوالے سے کیا ہے کہ اس نے عوامی بہبود کا ایسا پروگرام پیش کیا کہ دلی کے لوگ کانگریس اور بی جے پی کو بھول گئے۔ اس کے سیاسی سفر میں اب ایک اور صوبے کا اضافہ ہوا تو اس نے پنجاب میں بسنے والے کسانوں کے دل جیت لیے۔ کیجریوال ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ وہ عوام کے لئے کس طرح آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔ کیجریوال کی عوام دوست پالیسیوں نے دوسرے بھارتی سیاستدانوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ معاشرے کے غریب طبقات کا خیال رکھیں۔ وہ نریندر مودی جو پہلے امبانی جیسے کاروباری افراد کو خوش رکھنے کی روش اپنائے رکھتا تھا اب وہ آئندہ الیکشن سے پہلے نہ صرف غریب طبقات کو سہولتیں دے رہا ہے بلکہ ان کے گلی محلوں میں بھی جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں مودی جی کا ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مودی ایک عام سے محلے میں دو تین مرلے کے ایک گھر میں جاتے ہیں، اس خاندان کے افراد سے گپ شپ لگاتے ہیں۔ مودی کے پوچھنے پر اہل خانہ بتاتے ہیں کہ پہلے وہ ایک جھونپڑی میں رہتے تھے، اب انہیں مکان مل گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے صرف مکان ہی نہیں ملا بجلی بھی دی جاتی ہے، گیس اور پانی کے علاوہ سستے داموں راشن بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ اس چھوٹے سے گھر میں مودی چائے کی فرمائش کرتا ہے، چائے آتی ہے تو چائے سے متعلق سوال کرتا ہے اور پھر گھر والوں سے کہتا ہے کہ "میں چائے والا ہوں، چائے کو بہت خوب سمجھتا ہوں"۔ مودی کا یہ جملہ دراصل اس کی عاجزی کی گواہی دے رہا ہے کہ وہ اپنی اوقات نہیں بھولا مگر ہمارے ہاں وہ لوگ لیڈر بن گئے جن کی پرانی تصویریں ان کی غربت کی گواہی دیتی ہیں مگر اب وہ بڑے محلات میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں ان کی بہت سی جائیدادیں ہیں اور پاکستان سے باہر بے شمار جائیدادیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی اوقات بھول گئے، جنہوں نے عوام کا نہ سوچا بلکہ ہر وقت اپنا ہی سوچتے رہے۔ یہی حال ان کے حواریوں کا ہے، اسی لئے پاکستان میں چند لوگ امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور بہت سے لوگ غریب سے غریب تر ہوتے گئے۔ ذاتی مفادات کے گرد گھومنے والے اقتدار کے پہیے نے ایسا کمال دکھایا کہ پاکستان کی آدھی آبادی غربت کی عالمی لکیر سے نیچے چلی گئی۔ اقتدار پر براجمان رہنے والے لوگ اپنے علاج کے لئے تو لندن چلے جاتے ہیں مگر پاکستانی عوام کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ صحت کے شعبے میں پاکستان کے ایک انقلابی رہنما نے صحت کارڈ جاری کر کے پاکستان میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے دل جیت لیے۔ قیدی نمبر 804 اس قدر عوامی ہے کہ وہ پاکستان کا قومی لباس پہنتا ہے۔ وہ اپنی قومی زبان بولتا ہے۔ کیا عاجز آدمی ہے کہ لنگر خانوں میں پاکستان کے عام مزدوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا رہا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وہ پاکستان کے غریب کسانوں کے ساتھ چار پائی پر بیٹھ کر مشورے کرتا رہا۔ وہ دو بار شدید زخمی ہوا مگر علاج کے لئے بیرونِ ملک نہ گیا۔ اس نے کورونا جیسی آفت میں بھی اپنے ہم وطنوں کا خیال کیا اور کوشش کی کہ نہ کوئی بھوکا سوئے نہ کسی کی نوکری ختم ہو۔ وہ تو پچاس لاکھ گھر بنا رہا تھا، گھروں کے شاندار منصوبے پر کام جاری تھا کہ اسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کی یہی باتیں دلوں میں گھر کر گئیں۔ اسی لئے آج اس کی مقبولیت کے چرچے ہیں۔ وہ پاکستان ہی میں نہیں بیرونی دنیا میں بھی بہت مقبول ہے۔ تازہ ثبوت "دی اکانومسٹ" میں چھپنے والا ایک مضمون ہے۔ ابھی اس کے مخالفین پر سکتہ طاری ہے کہ دنیا کے ایک بڑے ٹی وی نے اس پر ایک پوری ڈاکومنٹری چلا دی ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو چاروں شانے چت کر چکا ہے۔ وہ سب دھول چاٹ رہے ہیں اور وہ جیل میں رہ کر بھی عوامی انقلاب کی علامت بن چکا ہے۔ پاکستان کے حالات دیکھ کر حضرت علی ؓکے دو اقوال شدت سے یاد آتے ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ "جہاں کہیں بھی دولت کے انبار دیکھو تو سمجھ لو کہ کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے"۔ دوسرا قول اس طرح ہے کہ "جس معاشرے میں کوئی بھوکا سو جائے تو سمجھ لو اس کے حصے کا رزق کوئی اور کھا گیا ہے"۔ آپ سب سیانے لوگ ہیں، آپ کے علم میں ہے کہ پاکستان میں کن لوگوں نے دولت کے انبار لگائے، یقیناً یہ انبار گڑ بڑ سے لگے۔ پاکستان کی اشرافیہ نے اتنے بڑے پیمانے پر گڑ بڑ کی کہ انہوں نے خود تو دولت کے انبار لگا لیے مگر پاکستان کی اکثریتی آبادی کو غربت کے ڈھیر پر بٹھا دیا۔ پاکستان کے اقتدار پہ رہنے والے مفاد پرستوں کی وجہ سے کتنے لوگ روزانہ بھوکے سوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ان غریبوں کے حصے کا رزق یہی امیر طبقات کھا جاتے ہیں۔ عدالتوں سے صرف مقدمات حل ہوں گے لیکن پاکستان کا سب سے بڑا مقدمہ سماجی سطح پر انصاف ہے۔ پاکستانی معاشرہ اسی وقت کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے جب سب کے لئے انصاف کے دروازے کھول دیے جائیں، جب سب لوگ قانون کا احترام کریں، جب قانون کی نظر میں سب ایک ہوں۔ جب انصاف ہوگا تو پھر کوئی دولت کے انبار نہیں لگا سکے گا پھر کسی کے حصّے کا رزق کوئی اور نہیں کھا سکے گا۔ لہذا پاکستان کو سب سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے ورنہ تو سماجی نا ہمواریوں پر مشتمل معاشرے کا ہیرو ڈاکٹر عبد القدیر خان یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ
گزر تو خیر گئی ہے تری حیات قدیر