سرکاری رسید  485

سرکاری رسید 

کفیل ستمبر سے پہلے خود کے لیے ستم گرتھا, اداس رہنا اس کا معمول بن چکا تھا,دوستوں کے پاس بیٹھنے کو یاس سمجھتا تھا, ہر وقت اسے تنہائی گھیرے رہتی تھی یا وہ خود گھرا رہتا تھا, کفایت شعاری سے کام لیتے لیتے, خود کو زمین پربوجھ سمجھ رہا تھا, کفیل تھا تو اعلی تعلیم یافتہ,ساتھ اعلی ظرف انسان بھی تھا,اسے کسی سے شکوہ تھا تو صرف اتنا کہ لوگ انسانوں جیسے کیوں نہیں؟ کبھی کبھی وہ لوگوں کے رویوں سے تنگ آکر صرف اتنا کہہ دیتا, کہ تخلیق کرنے والے نے جو نمونے کے طور پے ڈمی پیش کی تھی اس کی پیشکش کے مطابق اس خطارکار خطے کے لوگ تو نہیں؟ اس خلق کے اذہان کہا, اوسان کہا, ادبار کہا, خود کارانسان کہا, کفیل بے چارہ اس خود غرض دنیا سے لاچار ہوا بٹھا تھا, ظاہری طور پر لگتا تھا  کہ کسی بڑے گھاؤ کے گھائل زخم نے اسے برائے نام انسانوں سے مایوس کردیا ہے, اس کی باتوں سے یہی ظاہر ہوتا کہ وہ خود سے کہیں زیادہ صنم کدہ کے پجاریوں سے تنگ ہے تنگ کیوں نہ ہوتا, اس کے لیے اور اس جیسےسادہ لوح انسانوں کے لیے جینے کےسارے ذرائع ختم کیے جارہے تھے,نہ ڈھنگ سے جینےکاحق تھا نہ ڈھنگ سے مرنے کا حق تھا, حق صرف یہ تھا کہ حق دار نہ بولیں, نہ زبان کھولیں, صرف رو لیں, بے چارہ روتا تو تھا مگر تنہائی میں انگڑائی میں, رضائی میں, صرف اسی کی رضا کے لیے جس نے ناخداؤں کی عارضی بستی بسائی ہوئی تھی, خلقت ساری انہیں کے پیچھے لگائی ہوئی تھی, کفیل کیسے لگتا, وہ تو خود کفیل کا کفیل تھا دنیا میں سب کا رفیق تھا-
 وہ دنیاوی بدحالی سے زیادہ بدحال نہیں ہوا زیادہ بدحالی کی وجہ باقی ماندہ ایک اعلی رسید تھی جواس پر زر کا دباؤ بڑھا رہی تھی دباؤ ایسا ویسا نہیں تھا ,دباؤ اسے دن بدن دباتا جارہا تھا اور وہ پھیکا پڑتا جارہا تھا جس زرکو وہ زیادہ سمجھ رہاتھا وہ دنیاداروں کی نظر میں نذرانے کے برابر تھی لوگوں کی ضرورت کے لیے سرکاری کھاتے میں جمع کرانی  تھی کچھ پرانی چند اشرفیوں کے برابر, برابری کے لیے شاید ,ہمیشہ فاقے سے رفاقت کی بجائے رقابت نے اسے تسلی دی ہوئی تھی,  رسید سے رسد بہتر ہوسکتا ہے, بھلا انسانی خواہشیں کمین گاہوں کی پیداوار تھوڑی ہوتی ہیں,کفیل کی یہی خوش فہمی اسےزندہ رکھے ہوئےتھی-
کفیل دنیا کی رہداریوں سے پوری طرح واقف تھا کہ خوشیاں, خوشحالی کے بعد آتی ہیں خوشحال ہونے کے لیے خوشحال دربانوں کے پاس آناجانا پڑتا ہے, کچھ عرصے کے لیے درباری بننا پڑتا ہے کبھی کاسہ, کبھی آسہ وہ سب کچھ کرنے کے لیے بھی تیار تھا کہ کسی وجہ زندگی سے بزدلی, ڈر اور خوف نکلے ورنہ یہ دنیا نکال دے گی کیوں کہ یہ دنیا کم ظرف لوگوں کا ایسا ہجوم ہے جو حاجت مند لوگوں کو کچل دیتا ہے کچلنے والے رسمی ورکشاپوں کے فنکار ہیں ان کے پاس کچلنا کا فن ہوتا ہے , بہر حال کفیل کو غربت, تنگدستی,سسکیاں لینے پر مجبور کر رہی تھی-
ایک روز وہ کمرہ نمبر 47کے باہر چپکے سے کھڑکی کے برابر تکے سے جارہا تھا, اس کی حیرت زدہ نظر, آنکھیں خیرہ کر رہی تھیں, کبھی کبھی کمرے سے مدہوش آوازیں, کفیل کا چہرہ سنجیدہ کر دیتیں, وہ بے بسی کی حالت میں حالت زار ہورہا تھا, اچانک کمرے کا دروازہ کھلا دراز قامت, کھلے بال, حوروں کی معاون, مسکراتے لبوں کے ساتھ, نظریں جھکائے, اپنائیت کا احساس دلاکر, حساس آدمی کے پاس سے بغیر قدموں کی آہٹ کے گزر گئ, کفیل کا اب تنہائی سے کیسے گزارا ہوتا, وہ پہلو بدل بدل کر دل سے بدلہ لینے لگا, روبروہوتےہوتے سب کچھ ہورہا تھا,سوائے دل کے اظہار کے, دل سے اظہار کیسے کرتا وہ خود جیسا اسے حالات کا مارا پارہا تھا,ڈر صرف یہ تھا, کہ کہیں وہ ناراض نہ جائے, خیر ڈرتے ڈرتے کفیل نے ہمت باندھ کر ایک دن اسے عرضی, عرض کردی, کہ میں اس دل دھڑکنے کا سبب صرف جینا سمجھوں یا آپ سمجھ چکے ہیں جو دل سمجھا ہے, حوروں کی معاون نے عجیب نظروں سے دیکھا جیسے وہ کفیل کو جانور یا کمتر مخلوق سمجھ رہی ہوں غصے بھرے انداز میں کہا کہ آپ کے پاس ہے کیا کہ آپ اتنی بڑی بات کر رہے ہو, نہ ملازمت, نہ گھر, نہ در, کفیل نے یقین بھی دلایا کہ رسید ملنی ہے رسد بہتر ہوگا, جو آپ چاہتے ہیں سب کچھ مل جائے گا,حوروں کی معاون  نے کہا میں تعاون کرنے سے قاصر ہوں,قصوروار تم بھی نہیں نہ میں ہوں, یہ بات کفیل کے دل کو لگی وہ بستر مرگ پر مرگیا-

بشکریہ اردو کالمز