(تھوڑی سی پیشگی) عید مبارک۔ رمضان ختم ہوا اور ملکی تاریخ کا یہ پہلا رمضان تھا جس میں عوام کی اکثریت کی افطاری میں میٹھا نہیں تھا۔ یعنی پھل ۔ اگرچہ غیر متوقع طور پر پھلوں، بالخصوص امرود کیلا وغیرہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی لیکن دیگر اشیائے خوراک و صرف کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے سستے پھل بھی رسائی میں نہ آ سکے۔ ماہانہ بجٹ میں کوئی گنجائش رہی ہی نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس پھیکی افطاری کی ”عید مبارک“ کسے دینی ہے؟۔ فیض اور باجوہ کی جوڑی منظرعام پر نہیں ہے، روپوش ہی سمجھئے۔
جو کچھ زبوں حالی اور تباہ حالی ہوئی ہے، یہ دوچار برس نہیں آٹھ برس کا قصّہ ہے۔ یہ اس بے مثال ”ایڈونچر“ کا نتیجہ ہے جس کا پہلا مرحلہ 2014ءمیں دھرنے کی صورت شروع ہوا، دوسرا مرحلہ 2016ءمیں جو 2017ءاور پھر 2018ءمیں مرحلہ وار عمل ہوا اور جس کی 2022 ءمیں مکمل ناکامی کے بعد تیسرا مرحلہ ”زیر نفاذ“ ہے۔ نہ جانے کب تک زیر نفاذ رہے گا۔ گزشتہ برس جولائی میں ایک عدالتی فیصلے کے بعد پرویز الٰہی پنجاب کی راج گدّی پر بٹھا دئیے گئے ، تب سے پورا ملک ”تتّے توے“ پر بیٹھا ہے اور توا ہے کہ ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آ رہا۔
___________
توے کو مزید تتّا کرنے کے لیے قبلہ سراج الحق میدان مں آ گئے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ تمام جماعتیں مل بیٹھیں اور مذاکرات کر کے الیکشن کی تاریخ پر متفق ہو جائیں۔
تمام جماعتیں پہلے ہی الیکشن کی تاریخ پر متفق ہیں، صرف ایک جماعت جو پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہے، غیر متفق ہے۔ سراج الحق کی تجویز اور فارمولے کا گویا یک سطری ترجمہ کچھ یوں ہو گا کہ تمام جماعتیں پی ٹی آئی سے ملیں، جو وہ کہے وہ مان لیں۔ جس سے وہ روکے، اس سے رک جائیں یعنی امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا تقاضا پورا کریں۔
___________
”اندر کھانے“ کی پکّی اطلاع یہ ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی 14 مئی کی تاریخ سے دستبردار ہو چکے، ان کا اصرار اب یہ ہے کہ جو بھی تاریخ دو، ہمیں منظور ہے بشرطیکہ یہ تاریخ 16 ستمبر سے کچھ پہلے کی ہو۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت 16 ستمبر سے پہلے کی تاریخ چاہیے۔ قبلہ سراج الحق نے ستمبر سے پہلے کی اس تاریخ کے حصول کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
اب اس سوال کا جواب کھوجئے کہ ستمبر ہی کیوں۔ مزید پندرہ بیس دن کی توسیع یا تاخیر کے بعد /8 اکتوبر کیوں نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ مزید دس پندرہ دن قبول نہیں، قطعاً قبول نہیں۔
پی ٹی آئی کے حامی کہتے ہیں کہ عمران کی مقبولیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ آسانی سے الیکشن جیت جائیں گے، پی ڈی ایم والے اسی ڈر سے الیکشن نہیں کرا رہے۔ لیکن اس ”نکتے“ کا جوابی نکتہ یہ ہے کہ آپ کی مقبولیت اتنی زیادہ صرف ستمبر تک ہے، /8 اکتوبر کو کیا یہ مقبولیت نہیں رہے گی جو آپ اس تاریخ کو الیکشن سے اتنا بدک رہے ہیں؟۔
جواب سبھی فریق جانتے ہیں۔ کیا ہوا فیض و باجوہ نہیں رہے، ایک سہارا تو ہے اور پی ٹی آئی کو اسی کا (اور واحد) آسرا ہے۔ ستمبر گزرتے ہی (پی ٹی آئی کا یقین ہے کہ) وہ بے آسرا ہو جائے گی۔ کیا اسرار ہے بھائی؟
___________
مقبولیت کے سارے سروے عمران کے حق میں ہیں، بڑی دلچسپ بات ہے لیکن ایک بات اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور مزے کی ہے۔ یہ تمام سروے ایک ہی ”چشمے“ سے پھوٹے ہیں۔ ایک بابو ہے، ایک بی بی اور دونوں پی ٹی آئی کے ہیں۔
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا؟
ظاہر ہے کہ نہیں تھا۔ تو بھائی یہ ”آپ کے“ آدمیوں کے سروے اتنے قابل بھروسہ ہیں تو انہیں اکتوبر میں بھی قابل بھروسہ ہونا چاہیے۔ کیا خیال ہے۔
سروے کرنے والوں نے چند ماہ پہلے عمران کی مقبولیت 85 فیصد دکھائی تھی۔ پھر اندر ہی ہے کسی نے کہا، میاں یہ تو کچھ زیادہ نہیں ہو گیا۔ بات قابل سماعت تھی، قبول سماعت ہوئی اور دو ماہ پہلے مقبولیت کی شرح ”ری ایڈجسٹ“ کر کے 61 فیصد کر دی گئی۔ اسے کیا کہیئے۔
___________
ایک رپورٹ آئی ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم کچھ افراد کو صفر فیصد شرح سود پر /4 ارب ڈالر کے قرضے دئیے۔ صرف ایک ”کاروباری“ ادارے کو ایک ارب ڈالر قرضہ دیا۔ نام اس کا ھسکول بتایا جاتا ہے۔ قرضے کی منظوری سابق گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر نے تب کے وزیر خزانہ شوکت ترین سے مل کر دی۔
قرضہ ملتے ہی ھسکول نے خود کی ”قرقی“ دکھا دی۔ یعنی قرضہ دریا برد۔ یہی ماجرا باقی /3 ارب کا ہے۔
ریاست یہ ڈوبے ہوئے چار ارب ڈالر کبھی واپس نہیں لے پائے گی ،وہی ریاست جو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے لیے ترس رہی ہے۔ مقدمات چلیں گے، وکیل سٹے لے آئیں گے پھر یہی چلتا رہے گا۔
چلئے ، قرضہ تو واپس ملنے سے رہا لیکن ایک سوال کا جواب تو مل گیا۔ بہت لوگ سوال اٹھاتے تھے کہ خان صاحب کے دور میں ملک کی پوری تاریخ میں لئے جانے والے قرضوں کے حاصل جمع سے بھی زیادہ قرضہ لیا گیا، وہ گیا کہاں؟۔ خرچ ہونے کے نام پر تو ایک سڑک بھی نہیں بنی نہ ہی کچھ اور تعمیر ہوا، ایک اینٹ تک نہیں لگی، پھر یہ درجنوں ارب ڈالر گئے کہاں تو جواب حاضر ہے جناب کہ یہاں گئے۔ کچھ یہاں، کچھ وہاں، یوں قرضے کی رقوم کا حساب پاک ہوا، خونِ خاک نشیناں جن بلڈ بنکوں میں جمع ہوا، انہوں نے قرقی دکھا دی، قصّہ تمام۔