سیاست اورہمارااصل حسن 140

سیاست اورہمارااصل حسن

یہ زبان اورالفاظ انسان کوبہت مارومات دیتے ہیں۔ اسی لئے توکہتے ہیں کہ خراب سے خراب زخم بھی دنوں نہیں تومہینوں میں ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن زبان والفاظ کے لگے زخم پھر جلد ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ ایسے زخموں کے بھرنے میں پھرسال نہیں سالوں لگ جاتے ہیں اورکئی تومرنے تک نہیں بھرتے۔انسان کے منہ سے نکلے برے،نامناسب اورغلط الفاظ یہ دوسروں کودکھ،درداورتکلیف تودیتے ہی ہیں لیکن انسان کے اپنے یہی الفاظ خودانسان کے لئے بھی مصیبت،پریشانی اورتکلیف کاباعث بنتے ہیں۔یقین نہ آئے تواڈیالہ جیل میں مچھرمارنے والے کپتان کودیکھ لیں۔ہمارے بزرگ کہاکرتے تھے کہ برے الفاظ اوربری زبان یہ انسان کوجہنم میں ڈالے گی،زبان،اچھی،پاک۔نیک اورالفاظ مناسب،مہذب،اچھے اورسچے ہوئے توانسان اسی نیک وپاک زبان اوراچھے الفاظ کی برکت سے رب کے حضوربخشش پاکرجنت میں چلاجائے گالیکن زبان اورالفاظ اگرانسانوں والے نہ ہوئے توپھرکسی گڑھے میں اوندھے منہ گرنے کے سواکوئی چارہ اورراستہ نہیں ہوگا۔ہماراایک دوست تولفظ،،اوئے،،کوکئی سال تک بھول نہیں سکا،یہ دس پندرہ سال پہلے کی بات ہوگی،شہراقتدارمیں قیام کے دوران ہم روزشام کوآبپارہ مارکیٹ میں چائے کی چسکیوں پرگپ شپ کی محفل سجایاکرتے تھے، رحمت اللہ جوہم دوستوں میں سب سے زیادہ باادب اورمہذب تھے ایک بارکسی بات پراس کی ہوٹل منیجرکے ساتھ کوئی میں میں توں توں ہوگیا۔باتوں باتوں میں ہوٹل کے اس منیجرنے رحمت اللہ کوکہیں لفظ،،اوئے،،سے مخاطب کیایاپکارا۔یہ لفظ سنتے ہی رحمت اللہ کاچہرہ ٹماٹرکی طرح لال ہوگیاکہ آپ نے یہ اوئے کس کوکہا۔ہم نے لاکھ سمجھایاکہ یہ کوئی گالی نہیں لیکن رحمت اللہ کوئی بات ماننے کوتیارہی نہیں تھا،وہ ایک ہی بات کہتاجاتا۔کہ اوئے کالفظ اس نے بولاکیوں ہے،یہ اگرگالی نہیں توکوئی دعابھی تونہیں۔خیررحمت اللہ اورہوٹل منیجرکاوہ معاملہ توہم نے منت سماجت کرکے حل کرہی لیالیکن اس کے بعدکئی برس تک جب بھی ہم آبپارہ مارکیٹ میں گھومنے پھرنے جاتے تو،،اوئے،،کالفظ فوراًرحمت اللہ کے سامنے آجاتا۔اوئے یہ کوئی گالی نہیں لیکن لفظ مناسب نہیں،پھرجب اوئے کے ساتھ زبان بھی انچ نہیں فٹ تک لمبی اورمنہ تیڑھی ہوپھرتوواہ واہ۔ایسے الفاظ پراگلاپھرآپے سے باہرنہ ہوتواورکیاہو۔؟بری زبان اوربرے الفاظ یہ انسان کوصرف جہنم کی طرف نہیں دھکیلتے بلکہ یہ دنیاکے اندربھی چھوٹے چھوٹے جہنموں اورگڑھوں کی طرف انسان کودھکیلتے ہیں۔الفاظ کاچناؤاوربات کاطریقہ اگرٹھیک نہ ہوتوپھرصحیح اورٹھیک بات بھی اکثرگلے پڑجایاکرتی ہے۔ کہتے ہیں کسی بادشاہ نے خواب دیکھا کہ اس کے سارے دانت ٹوٹ کر گر پڑے ہیں۔بادشاہ نے خوابوں کی تعبیر و تفسیر بتانے والے ایک عالم کو بلوا کر اسے اپنا خواب سنایا۔مفسر نے خواب سن کر بادشاہ سے پوچھا۔ بادشاہ سلامت کیا آپکو یقین ہے کہ آپ نے یہی خواب دیکھا ہے۔۔؟بادشاہ نے جواب دیا۔ ہاں میں نے یہی خواب دیکھا ہے۔مفسر نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا اور بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت،اسکی تعبیر یہ بنتی ہے کہ آپکے سارے گھر والے آپ کے سامنے مریں گے۔بادشاہ کا چہرہ غیض و غضب کی شدت سے لال ہو گیا۔ دربانوں کو حکم دیا کہ اس مفسر کو فی الفور جیل میں ڈال دیں اور کسی دوسرے مفسر کا بندوبست کریں۔دوسرے مفسر نے آ کر بادشاہ کا خواب سنا اور کچھ ویسا ہی جواب دیا۔بادشاہ نے اسے بھی جیل میں ڈلوا دیا۔تیسرے مفسر کو بلوایا گیا۔ بادشاہ نے اسے اپنا خواب سنا کر تعبیر جاننا چاہی۔ مفسر نے بادشاہ سے پوچھا۔ بادشاہ سلامت کیا آپ کویقین ہے کہ آپ نے یہی خواب دیکھا ہے۔۔؟بادشاہ نے کہا۔ ہاں مجھے یقین ہے میں نے یہی خواب دیکھا ہے۔مفسر نے کہا بادشاہ سلامت تو پھر آپ کومبار ک ہو۔ بادشاہ نے حیرت کے ساتھ پوچھا۔کس بات کی مبارک۔؟مفسر نے جواب دیا۔ بادشاہ سلامت اس خواب کی تعبیر یہ بنتی ہے کہ آپ ماشاء اللہ اپنے گھر والوں میں سے سب سے لمبی عمر پائیں گے۔بادشاہ نے مزید تعجب کے ساتھ مفسر سے پوچھا۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس خواب کی یہی تعبیر بنتی ہے۔۔؟مفسر نے جواب دیا۔ جی بادشاہ سلامت اس خواب کی بالکل یہی تعبیر بنتی ہے۔بادشاہ نے خوش ہو کر مفسر کو انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔سبحان اللہ۔ کیا اس بات کا یہی مطلب نہیں بنتا کہ اگر بادشاہ اپنے گھر والوں میں سے سب سے لمبی عمر پائے گا تو اس کے سارے گھر والے اس کے سامنے ہی وفات پائیں گے۔۔؟جی مطلب تو یہی بنتا ہے مگر بات کہنے کا اندازاورالفاظ الگ ہے۔سیاست سب کررہے ہیں اورسیاست میں ایک دوسرے کے خلاف باتیں بھی تقریباًسب ہی کرتے ہیں۔کیاپیپلزپارٹی،ن لیگ،جے یوآئی،اے این پی،جماعت اسلامی،ایم کیوایم اوردیگرسیاسی ومذہبی جماعتوں وپارٹیوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف باتیں نہیں کرتے۔؟کیوں نہیں۔سب ایک دوسرے کے خلاف لگے ہوئے ہیں لیکن سابق وزیراعظم عمران خان کوسیاست میں شرافت اوراخلاقیات کامجرم اس لئے سمجھاجارہاہے کہ خان نے اس ملک اورسیاست میں الفاظ کچھ مناسب متعارف نہیں کرائے۔اوئے سے کسی کوپکارناہویافضلوکہہ کرمجمعے کوہنساناہویہ زبان،الفاظ اورطریقہ کپتان کاباالکل بھی ٹھیک نہیں تھا،صرف عمران خان ہی نہیں کوئی بھی سیاستدان،کوئی بھی لیڈر،کوئی بھی افسربلکہ کوئی بھی انسان جولمبی زبان لیکرغلط،نامناسب اوربرے الفاظ کااستعمال کریں،ایسے کسی بھی فرد اورشخص کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔سیاست۔خباثت،مفادات اورکاروباریہ سب اورساری چیزیں اپنی جگہ ہم مسلمان ہیں اوراعلیٰ وبلنداخلاق ہی ہمارااصل حسن ہے،سیاست اورمفادات باقی رہیں یانہ لیکن یہ حسن ضرورباقی رہناچاہئیے

بشکریہ اردو کالمز