قارئین کرام! آج کا ’’آئین نو‘‘ انتباہ بھی ہے اور عوام الناس کا اس کے جملہ مندرجات پر چوکس رہنا لازم بھی، بڑھتے عوامی سیاسی شعور کو جاری و ساری رکھنے اور بڑھانے کا بنیادی تقاضا ہے۔ ظہور پذیر ملکی سیاسی منظر میں کچھ نئی تبدیلیوں کے ساتھ بدترین صورت حال میں ہونے والی ممکنہ بہتری لانے کی فیصلہ سازی کا ماحول بنا تو ہے۔ اب عملدرآمد کے لئے ذمے داران کا کردار اور اطلاق کا معیار ملکی سیاسی مستقبل قریب و بعید کی کیفیت پر براہ راست اور گہرائی سے اثر انداز ہوگا۔ مثبت (ان شااللہ) یا (اللہ نہ کرے) منفی ۔25 کروڑ پاکستانیوں کی حالت زار، قومی خزانے کا اجاڑ اور ملکی مجموعی معیشت کی ہوئی تباہی، پھر عوام کی نظر میں کرتے دھرتے حکمرانوں اور دنیا کی نظر میں ایٹمی پاکستان کا مسلسل ‘‘منگتی مملکت‘‘ کا مسخ امیج ہمیں کہاں سے کہاں لے آیا؟ وفاق کی تمام وزارتوں، تمام صوبائی محکموں کا مین میڈیا میں ان رپورٹڈ Unreported بگاڑ، مطلوب پروفیشنلزم کے مطابق حقیقی تحقیقاتی رپورٹنگ کے مطابق رپورٹ ہونے لگے، اور اسلام آباد کے سفارت خانوں سے اپنے اپنے ملک کی حکومتوں کو جانے والی ’’پاکستان سین‘‘ کی خفیہ سفارتی رپورٹس لیک ہونے لگیں تو ہمارے لئے کڑوی تو بہت ہوں گی، لیکن اصل حقائق بڑی اصلیت کے ساتھ بے نقاب ہونے کا صدمہ شاید ہمیں ادائیگی کفارے کی طرف لے جا کر سنبھالا دے دے، کہ یہ تو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ اس کا اور اس کی آنے والی نسل کا اصل اور فطری تحفظ ایک محفوظ، مستحکم اور مکمل آئینی و خوشحال اور جمہوری پاکستان میں پیوست ہے اور یہ بھی کہ اس سچے خواب کو ہم بحیثیت قوم خود اپنے سخت بیمار شخصی اور گروہی رویوں سے چکنا چور کئے جا رہے ہیں جبکہ تعبیر نکالنے کے سب ساماں موجود ہیں، لیکن ہماری لاغر سماجی سیاسی کیفیت ارتقا کی راہ میں کھڑا ڈریگن ہے۔
جاری سخت پیچیدہ صورتحال میں، ملک کو سیاسی اور اس سے نکلے آئینی، انتظامی، عدالتی اور ابلاغی بحران سے نکالنے کی لازمی اور سب سے بنیادی ضرورت بلاتاخیر اور تیزی سے سیاسی استحکام کا عملاً شروع کرنا ہے، جس کی اپنی ناگزیر اور صرف اورصرف ضرورت بااعتبار الیکشن کا انعقاد ہے۔ وہ الیکشن جن کا انعقاد عین آئین کے مطابق ہو، یعنی یہ شفاف، آزاد و غیر جانبدار ہوں۔ ایسے ہی مطلوب الیکشن سے ان پر عوام الناس اور دنیا کا اعتماد ہوگا۔ اس کےلئے بمطابق آئین الیکشن کمیشن، سول انتظامیہ، مالی وسیکورٹی اداروں کا عین آئین کےمطابق ناگزیر ہے۔ یہ ہی پاکستان کوموجودہ پرخطر گرداب سے نکال کر استحکام و ترقی کی راہ پر لانے کی واحد راہ ہے۔قارئین کرام! یہ جو آغاز کالم میں آپ کو چوکس رہنے کی بات کی گئی ہے یہ اس لئے کہ آئی ایم ایف نے موجودہ اپنے مفادات پر فوکس حکومت کو ناک رگڑوا کر بقول وزیراعظم سانس لینے کی معمولی جگہ بشکل ’’اسٹینڈ بائی پوزیشن‘‘ دی ہے، وہ حکومت کو مطلوب ریویو مکمل ہونے کا ایکشن نہیں۔ یہ کشن اسپیس بھی یوں مل گئی کہ حکومت غیر یقینی پیدا کرنے والے سخت منفی رویے پر اپنی جان جلد چھڑانے کے لئے آئینی تقاضے کے مطابق بروقت الیکشن پر مجبوراً آمادہ ہوگئی ہے۔ وزراء داخلہ، اطلاعات و دفاع اور ٹی وی ٹاک شوز پر پی ڈی ایم کی ترجمانی میں سرگرم تجزیہ کاروں کی طوالت اقتدار کی تاویلیں اور بھونڈی وکالت کئی ماہ تک تسلسل سے جاری رہنے کے بعد ختم ہوگئی۔
اس میں انتخاب بروقت کے مقابل، معاشی ایمرجنسی،سیلاب کی آڑ میں ایک سالہ التوا کی رٹ، قومی حکومت اور ٹیکنو کریٹ اور طویل المیعاد نگران حکومت کے امکانات نے ملک بھر کے کاروباری، سیاسی، سماجی ماحول پر مٹی دھول کا غلاف تانے رکھا، اس کا مسیج سب کو الیکشن پر ’’مٹی پائو‘‘ کی غیر جمہوری پالیسی ہی جاتا رہا۔ یہ کریلے کا نیم پر چڑھنا یوں بنا کہ مکمل منصوبہ بندی اور شعوری کوشش سے غیر یقینی کا یہ ماحول بنانے کے متوازی فسطائیت کا بازار اتنا گرم رکھا کہ پنجاب میں آئی جی پولیس بھی میڈیا ٹائم لینے کی دوڑ میں اتنا آگے نکلے کہ نگران اور وفاقی وزرا کی عوام کو سخت بیزار بنانے والی پریس کانفرسز پیچھے اور کم رہ گئیں۔ آخر فسطائیت اور پولیس کی لاقانونیت کا دفاع کوئی آسان نہیں۔ اور یہ جو ناچیز آج ’’آئین نو‘‘ کو انتباہ (نحیف ہی سہی) کے لئے استعمال کر رہا ہے، وجہ صاف ظاہر ہے یہ کہ قوم ہی نہیں دنیا بھی پاکستانی انتخاب کے بااعتبار ہونے کی متمنی ہے۔ ہمسایہ دوست ممالک خلیج و وسطی ایشیائی ریاستیں، پورپین یونین اور امریکہ کا ایک بڑا حصہ، اوورسیز پاکستانی ڈائسپورہ سب کی ضرورت بڑے مفادات اور تمنا کےلئے ہمارا الیکشن بااعتبار ہونا ناگزیر ہے۔ ہمارے تو ہیں ہی، ان کے اپنے مفادات بھی ہماری اس بڑی قومی ضرورت سے جڑ گئے ہیں۔جو کبھی نہیں ہوا وہ یہ کہ انہوں نے ’’مائنس ون‘‘ کو انہماک سے ترجیح دیتے دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی قرضوں کی واپسی کا اطمینان حاصل کرنا اپنی اہم ضرورت سمجھا۔ معتبر شنید ہے کہ اوورسیز تعلیم یافتہ پاکستانیوں کے گروپس بااعتماد الیکشن کرانے پر خیز سرمایہ کاری کے لئے بہت سرگرم ہوگئے ہیں اور فزیبلٹی رپورٹس تک بنائی جا رہی ہیں۔ اسی طرح گورننس کو علمی معاونت مہیا کرنے کے لئے بھی۔ بس ان کا اصل مطالبہ اور تمنا الیکشن بمطابق آئین ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنے اعتبار کو آئین سے جوڑ دیا ہے، جبکہ دنیا کی الیکشن واچ تنظیموں کے پیمانے بھی دو ہی ہوں گے ایک پاکستانی عوام کا اپنا اعتماد کہ وہ الیکشن کو کتنا قابل اطمینان سمجھتے ہیں دوسرے یہ کتنا بمطابق آئین ہے۔اس بنتی صورتحال میں روایتی پولیٹکل انجینئرنگ، سیاسی کھلواڑ، انتظامیہ کی غیر آئینی اور مجرمانہ معاونت سے مرضی کے اور الزام زدہ لیکن بالآخر ہضم ہو جانے والے نتائج حاصل کرنے کی مہم جوئی کا سوچنا بھی نہیں چاہئے۔عوامی اذہان آرا اور شعور کا تجزیہ کیا جائے تو الیکشن بے اعتبار اس کا امکان بڑے فیصد میں ہے۔ دوسری جانب کراچی میں میئر شپ کے ڈرامہ انتخاب، بھارتی مذموم عزائم دیدہ دلیری سے سامنے آنے، سیز فائر کی خلاف ورزی سے دیئے میسج اور امریکی دورے کے بعد مودی کی اکڑ کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پی ڈی ایم کے مچائے سیاسی تشویشناک کھلواڑ کے بعد جتنا بھی نحیف ہو خبردار کرنا تو بنتا ہے کہ الیکشن حوصلہ مندی اور تازہ ذہنی سے کرائے جائیں۔ اسی میں قوم و ملک کا بھلا اور یہ ہی سیاسی استحکام کی ضمانت ہے۔