تاریخ کا ستم تھا یا کیا؟ زخم ہیں کہ بھرنے کا نام نہیں لیتے!23مارچ 1940ء کو قرار داد پاکستان پیش کرنے والے فضل حق شیر بنگال تھے‘قیام پاکستان سے قبل اپریل1946ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کے منتخب شدہ صوبائی و مرکزی اراکین کے دہلی میں منعقدہ کنونشن میں مسلمانوں کے منتخب کردہ ارکان نے حلفیہ کہا تھا کہ وہ پاکستان حاصل کئے بغیر نہیں رہیں گے تو اس قرار داد پر اپنی انگلی سے خون نکال کر دستخط کرنے والے حسین شہید سہروردی بنگالی تھے‘آخر پھر 16دسمبر 1971ء کی تاریکی ہماری تاریخ کا حصہ کیوں بن گئی؟ یحیی خان‘شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو تینوں نے ملک کے دائیں بازو‘مشرقی پاکستان کو جدا کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔یحیی خان کو بڑی حد تک بغیر کسی سیاسی اصول اور سمجھوتے کے فوج کو مشرقی پاکستان میں آپریشن پر اتارنا پڑا‘اس کی وجہ 1970ء کے انتخابات میں 300 میں سے 162سیٹوں پرعوامی لیگ کی فتح کو تسلیم ناکرنا ٹھہری۔یحیی خان نے جب اسمبلی اجلاس میں تاخیر کا فیصلہ کرتے ہوئے تین رکنی کمیٹی بنائی تاکہ اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کیا جائے تو رپورٹ میں دو سے تین ہفتوں اجلاس ملتوی کرنے کے اہم نقطے کو تحلیل کردیا گیا۔یحیی کی کیبنٹ میں شامل جی ڈبلیو چوہدری اپنی کتاب LAST DAYS OF UNITED PAKISTAN THE میں لکھتے ہیں کہ یحیی خان کی اس تین رکنی کمیٹی میں وہ بھی شامل تھے اور کمیٹی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اجلاس دو یا تین ہفتے ملتوی کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن یحیی خان نے یہ رپورٹ لیفٹیننٹ جنرل جے ایس ایم پیرزادہ جو ان کے پی ایس او بھی تھے انہیں دیدی انہوں نے بھٹو کے ساتھ ساز باز کر کے دو یا تین ہفتوں کی تاخیر کا ذکر تک کاٹ دیا اور جب اجلاس بغیر کسی تاریخ کے اعلان کے بغیر ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تو ایسی آگ بھڑکی‘جس میں مغربی پاکستانیوں کے قتل عام کا ہولناک سلسلہ شروع ہوگیا۔یحیی خان کے فوجی آپریشن کے فیصلے نے بنگلہ دیش کی بنیاد ڈال دی‘جب قومی اسمبلی اجلاس ملتوی کیا گیا اور اقتدار کی منتقلی روکی گئی تو پھر اس آگ کی چنگاریوں کو بجھایا نہ جا سکا۔ مغربی پاکستانیوں کے قتل عام کا ری ایکشن اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان بنا اور پھر جب مشرقی پاکستان میں بغاوت کے مراکز پر حملہ کیا گیا تو جنگ کا سماں پیدا ہوگیا‘متعدد بنگالی بارڈر کراس کر کے بھارت چلے گئے۔ بھارت نے مکتی بانی کے نام پر بنگالیوں کو فوجی تربیت دے رکھی تھی۔ بھارت پہلے ہی تیاری کرچکا تھا منفی پراپگنڈے سے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا گیا۔ اسی لئے شیخ مجیب الرحمان جب سقوط ڈھاکہ کے بعد ڈھاکہ پہنچا تو اس نے جھوٹ بولا کہ پاک فوج نے 30لاکھ بنگالیوں کو گولی ماری‘جس کی تردید بنگالی خاتون محقیق شرمیلا بوس کرچکی ہیں‘شیخ مجیب الرحمان نے تحریک پاکستان اور ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخابات میں مادر ملت کا ساتھ دیا مگر وہ پاکستان سے علیحدگی کے ہمیشہ خواہاں رہےSASHANKA ڈھاکہ کے ہندوستان قونصلیٹ میں پولیٹیکل آفیسر تھا‘اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 25 دسمبر 1962ء میں وہ پیغام ملنے پر اتفاق اخبار کے ایڈیٹر مانک میاں (تفضل حسین)سے ان کے دفتر ملنے گئے‘ شیخ مجیب وہاں موجود تھا جس نے آزاد بنگلہ دیش کی بات کی اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ لندن شفٹ ہو جائینگے اور بنگلہ دیش کا نعرہ لگائینگے جب کہ اتفاق اخبار عوام کے جذبات بھڑکائے گا‘جواہر لعل نہرو نے شیخ مجیب کے لئے ابھی صبر کرو کا پیغام بھیجا اور کہا کہ جب دس لاکھ آدمی جلسے میں لے آؤ گے تو تب لیڈر مانیں گے لیکن شیخ مجیب صبر نہ کر سکا اور بغیر پاسپورٹ کے بارڈر کراس کر کے ہندوستانی ریاست اگرتلہ میں وہاں کے وزیر اعلی سے جا ملا‘مشرقی پاکستان کی انٹیلی جنس کو اگرتلہ دورے کا علم ہوا تو شیخ مجیب کو گرفتار کرلیا گیا‘مقدمہ چلتا رہا اور اس مقدمے نے اسے انقلابی لیڈر بنادیا‘ایوب خان کیخلاف تحریک چلی تو دباؤ کے تحت شیخ مجیب الرحما ن کو رہا کردیا گیا اور اسی شیخ مجیب نے 1970ء کے انتخابات کے بعد 6 نکات پیش کئے جو ملک توڑنے کا ایجنڈا تھے‘شیخ مجیب اگر اتنا ہی محب وطن تھا تو 6جنوری1972ء کو ایک برطانوی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے یہ کیوں کہا تھا کہ میں 1948ء سے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کیلئے کردار ادا کررہا تھا‘بنگالی شیخ مجیب کو بانگے بندھو اور بنگلہ دیش کا بانی کہتے ہیں لیکن اسے قتل کرنے والے کرنل فاروق نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے آزاد بنگلہ دیش کیلئے لڑائی لڑی تھی مگر شیخ مجیب نے اسے بھارتی کالونی بنا دیا ہے‘شیخ مجیب کے خاندان سے بچنے والی ان کی واحد بیٹی حسینہ واجد نے بھی چند سال قبل اعتراف کیا تھا کہ لندن میں ہمارے قیام کے دوران شیخ مجیب کی ’’بھارتی را‘‘کے افسران سے ملاقاتیں ہوتی تھیں جس میں آزاد بنگلہ دیش کیلئے منصوبہ سازی ہوتی تھی‘مشرقی پاکستان کو کئی مسائل درپیش تھے لیکن 1948ء میں شیخ مجیب کو کیا مسئلہ تھا؟ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ’’ادھر تم اْدھر ہم‘‘کا نعرہ لگا کر جلتی پر تیل ڈالا‘ اقتدار کی ہوس میں ملک کو دو لخت کردیا۔ولی خان نے الزام لگایا تھا کہ بھٹو اور یحیی میں سمجھوتہ ہوچکا تھا‘سب کچھ باہمی آشیر باد سے ہورہا تھا‘خود بھٹو اپنی کتاب گریٹ ٹریجڈی میں لکھتے ہیں کہ آرمی ایکشن کا آغاز ہوا تو وہ ڈھاکہ میں تھے‘فائیو سٹار ہوٹل سے فائرنگ کی خوفناک آوازیں اور بلند ہوتے آگ کے شعلے دیکھے‘ سیاست دانوں اور فوجی طالع آزماوں کی کج ادائیوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘تاریخ کا ستم تھا یا کیا؟مگر تاریخ کا سوال ہے کہ ہم نے کیاسبق سیکھا؟ آج کے حالات بطور خاص اس سوال کے جواب کے متلاشی ہیں۔ بنگلہ دیش کی معشیت بھی ہم سے بہت اچھی حالت میں ہے، سانحہ سقوط ڈھاکہ کئی اعتبار سے عوامی جذبات کا اخترام کرنے اور سیاسی معاملات سیاسی و جمہوری انداز سے چلانے کا متقاضی ہے۔
تاریخ کا ستم تھا یا کیا؟