کالم : وجیہہ تمثیل مرزا
وو
" وہ کہتے ہیں نا کہ جتنے منہ اتنی باتیں " چھ سات دن گزر گۓ ثناء یوسف کو دنیا سے گۓ اور ہر منہ سے الگ الگ طرح کے راز افشاں ہو رہے ہیں۔ ثناء یوسف ( ٹک ٹاکر ) اسلام آباد پاکستان کی رہاٸشی جو آباٸی طور پر چترال سے تھی جس کو 2 جون کی شام کو بڑی بے رحمی سے اسی کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے پہلے اسلام آباد پولیس نے اس قاتل کو ٹریس کر کے جو کہ فیصل آباد سے برآمد ہوا تھا اور رہاٸشی بھی وہیں کا تھا اس کو پکڑ لیا، اب عوام اپنی طرف سے قاتل کی جھوٹی سچی تصاویر اور خاکے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہی تھی اور کیوں نا کرتی بھٸ پاکستان کے مشہور خبررساں ادارے نے غلطی سے غلط شخص کی تصاویر شٸیر کر دی تھیں جس کا " مودا " رات تک حل ہوا اور پھر جا کر پتا چلا کہ اصل قاتل کون ہے۔ اسلام آباد پولیس نے واقعے کے حوالے سے پریس کانفرنس کی اور ساری تفتیش کے ساتھ بتایا کہ اصل بات کیا تھی۔ اب جب پولیس نے سب بتا دیا ہے مقتولہ کو دفنا دیا ہے قاتل کو عدالت میں ڈال دیا ہے پھر اب کس چیز کی مزید تفتیش جاری ہے ؟ کیس کی تفصیلات آنے کے بعد بھی ابھی تک ثناء قتل کیس کی مزید تفصیلات نکل نکل کر سامنے آ رہی ہیں۔ ثناء کے گھر والوں، عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق کہانی یہ ہے کہ " ثناء یوسف جو کہ چترال سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن یوسف حسن خان جو تحریک تحفظ حقوق چترال سے ہیں ان کی بیٹی ہے، ٹک ٹاک کی دنیا میں رنگ بکھیرنے کے ساتھ ساتھ ثناء کچھ پاکستانی ڈراموں میں چھوٹے موٹے رولز بھی کر چکی تھی۔ عمر سترہ سال اور ثناء نے 28 مٸی 2025 کی شام اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنی ستارویں سالگرہ مناٸی تھی، تصاویر 2 جون کی صبح کو اپلوڈ کی تھیں۔ اور شام کو اس کا قتل ہو گیا۔ قتل جس فرعون نے کیا وہ بھی ٹک ٹاکر ہے اور فیصل آباد کے مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ عمر عرف " کاکا " میٹرک پاس ہے اور عمر 22 برس ہے۔ اب کاکا صاحب ٹک ٹاک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خود کو " لین لارڈ " شو کرتا ہے لیکن ہے بھی مڈل سے بھی لوٸیر طبقے سے۔ اب یہ ثناء کو تنگ کرتا تھا شادی کے لیے مجبور کر رہا تھا ثناء نے انکار کیا اس نے طیش میں آ کر گولیاں مار دیں، جاتے جاتے ثناء کا موباٸل فون بھی لے گیا جس کی مالیت چھ لاکھ تھی اس نے چند دن پہلے ہی نیا فون لیا تھا، بحرحال پولیس نے عمر کو ٹریس کیا اور سب کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ تو تھا سارا واقعہ جو پولیس اور ثناء کے گھر والوں نے سب کو بتایا۔ دوسری جانب اب ثناء کے دوست احباب، محلے والے، دیگر گواہ اور سوشل میڈیا انفلانسرز کی طرف سے نٸے نٸے حقاٸق سامنے آ رہے ہیں، اور ہو سکتا ہے ان حقائق میں بھی صداقت بھی ہو۔ محلے دار اور عینی شاہدین کے مطابق ملزم عمر حیات عرف کاکا فیصل آباد سے ایک قیمتی گاڑی (فارچونر) کرائے پر لے کر اسلام آباد پہنچا اور اس دوران خود کو ایک زمین دار کا بیٹا ظاہر کیا۔ گاڑی کا کرایہ بھی اس نے ادا نہیں کیا۔ وہ ثناء یوسف کی سالگرہ کے موقع پر کیک اور تحفے لے کر سیکٹر G-13 آیا لیکن ثناء نے ملاقات سے صاف انکار کر دیا۔ اسی انکار پر دل برداشتہ ہو کر ملزم نے قتل جیسا سنگین قدم اٹھایا، جس کا بعد میں اس نے خود بھی اعتراف کیا۔ دوسری جانب معروف صحافی اور اینکر پرسن ہرمیت سنگھ نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ایک نجی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ سانحے سے کچھ ہی دیر قبل تک مقتولہ ان سے رابطے میں تھی اور گزشتہ ہفتے بھر بھی ان کی بات چیت ہوتی رہی۔ ہرمیت سنگھ کے مطابق ثناء یوسف کی رہائش ایسی جگہ پر تھی جہاں بالائی منزل پر کسی کی اجازت کے بغیر جانا ممکن نہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قاتل ان کا جاننے والا تھا اور اہلِ محلہ بھی اس کی شکل سے واقف تھے اینکر نے کہا کہ جس طرح اچانک راتوں رات میت اسلام آباد سے چترال منتقل کی گئی، اس سے لگتا ہے کہ شاید خاندان میڈیا کی توجہ سے بچنا چاہتا تھا یا کچھ اندرونی معاملات کی وجہ سے خاموشی اختیار کی گئی۔ ایف آئی آر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہرمیت سنگھ نے کہا کہ ایک دبلا پتلا نوجوان گھر میں داخل ہوا، جس کے پاس اسلحہ تھا، اور اس نے کمرے میں جا کر فائرنگ کر دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محلے کے کسی شخص نے کبھی ثناء کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی، بلکہ وہ ہمیشہ ایک خوش اخلاق اور باوقار لڑکی کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ہرمیت نے مزید کہا کہ ان کی ثناء سے آخری بات چیت رات تین بجے کے قریب ہوئی، جب کہ ایف آئی آر میں قتل کا وقت صبح چار بج کر پانچ منٹ درج ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس مختصر وقت میں ایسا کیا ہوا کہ ایک زندہ دل لڑکی زندگی سے محروم ہو گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ لاش پہلے نانی کے گھر لے جائی گئی اور پھر رات کو چترال منتقل کر دی گئی، جبکہ اہل خانہ نے کسی قسم کی میڈیا کوریج سے گریز کیا۔
ثناء یوسف کے کردار کے بارے میں ہرمیت نے کہا کہ وہ نہایت سلجھی ہوئی لڑکی تھی، جس کے اندازِ گفتگو سے اس کی شائستہ پرورش ظاہر ہوتی تھی۔ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے کوشاں تھی، اور ایک ڈرامہ پراجیکٹ پر بھی بات چیت چل رہی تھی۔ دوسری طرف محلے میں جو بچے کرکٹ کھیلتے تھے جن کے ساتھ ثناء بھی کرکٹ کھیلتی تھی انھوں نے کہا کہ انھوں دو گولیوں کی آواز سنی شام 5 بجے اور فورا گیٹ پر آۓ اور عمر عرف " کاکا " کو بھاگتے ہوۓ دیکھا۔ مزید ایک محلے والے کا کہنا ہے اور اس کی اس بات میں مجھے کوٸی صداقت دکھاٸی نہیں دے رہی لیکن اس کا کہنا ہے کہ " ثناء اور اس کے گھر والے دو تین ماہ پہلے اس گھر میں شفٹ ہوۓ تھے، نچلا پورشن کراۓ پر ہے اور ثناء لوگ اوپر رہتے ہیں ان کے گھر کوٸی بڑا مرد نہیں ہے ہاں لڑکے آتے جاتے رہتے ہیں۔ " اب یہ جملہ انتہاٸی نا مناسب ہے یعنی وہ جو پھولوں جیسی بچی جو اس فرعون کی دغا بازیوں میں نہیں آ رہی تھی اب اس کے کردار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوۓ ثناء کے والد کا کہنا تھا کہ جس وقت شام کو یہ واقعہ پیش آیا اس وقت انکی اہلیہ کو ثناء نے عید کی تیاریوں کے لیے باہر بھیجا تھا اور اس وقت ثناء کی پھپھو گھر تھیں ساتھ، ملزم ماسک لگاۓ ثناء کے کمرے میں کیسے پہنچا اس بات کا نا انکو علم ہے نا پھپھو کو اور دوسری جانب کوٸی کہتا ہے ثناء خود دروازہ کھولنے آٸی اور کبھی کہتے دروازہ کھلا تھا، کبھی پھپھو نے کھولا یعنی ہر بات الگ ہے۔ خیر مزید ثناء کے والد کا کہنا ہے کہ پھپھو کو پتا نہیں تھا کہ گھر میں یہ سب ہو رہا ہے اچانک ثناء کے کمرے سے گولیوں کی آواز آٸی وہ بھاگی آٸیں اور عمر کو بھاگتے دیکھا۔ پھپھو نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے پستول تان لی پھپھو پر اور فرار ہو گیا۔ پھپھو کمرے میں گٸ تو ثناء زخمی حالت میں پڑی تھی، ثناء کے والد دوست کے ساتھ تھے جہاں انکی اہلیہ کا فون آیا کہ " ثناء کو گولیاں لگی ہیں " ثناء کے والد ہسپتال پہنچے جلدی سے جہاں جا کر انھیں کہا گیا کہ اپکی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی۔ زرا سوچیں ان والدین پر کیا بیتی ہو گی جنھوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کو نازوں سے پالا تھا۔ ایک بیان میں کہا جاتا ہے کہ " ثناء اور عمر کے درمیان کمرے میں تکرار ہوٸی اور ثناء نے کہا تم غصہ میں ہو میں پانی لاتی ہوں “ اب جب کمرے میں کوٸی ان دونوں کے علاوہ تھا نہیں تو یہ الفاظ کس نے سن لیے۔ اور ایک اور جانب کہا جاتا ہے کہ ثناء اپنے تایا کے گھر قیام پذیر تھی اور جس دن ثناء کا قتل ہوا اس رات اسکی سہیلی اپنے گھر والوں کے ساتھ ثناء کے گھر تعزیت کے لیے آٸی لیکن تھوڑی دیر بعد چیختی چلاتی باہر نکلی اور کہا " مجھے کیوں اندر کمرے میں بند کر رہے ہو، پہلے اپنی بیٹی مرواتے ہو اور پھر ہمارے ساتھ یہ سلوک " دوسری جانب اس کی کچھ اور سہیلیوں کا کہنا تھا کافی دن سے ثناء پریشان تھی لیکن کچھ بتا نہیں رہی تھی۔ اب اس عمر عرف کاکا کے بارے میں بھی جب لوگوں نے سرچ کرنا شروع کیا ہے تو وہ ایک سیاسی پارٹی کا بندا نکلا ہے۔ ٹک ٹاک پر شراب نوشی والی حرکات کا فوٹو شوٹ لگایا ہوا ہے اور وہ بھی مختلف اقسام کی لڑکیوں کےساتھ۔ اب اگر وہ ثناء کے لیے اتنا پاگل تھا شادی کرنا چاہتا تھا تو پھر باقی لڑکیوں کا اچار کیوں ڈال رہا تھا ؟ یہ سب باتیں سمجھ سے باہر ہیں اگر دیکھا جاۓ تو ثناء کے قتل کے بہت سے پہلو نکلتے ہیں بات جو بتاٸی جا رہی ہے در حقیقت وہ ہے نہیں۔ لیکن اب جو بھی کہہ لیں جو بھی بول لیں کیا فاٸدہ ثناء چلی گٸ وہ واپس نہیں آ سکتی۔ کیس ٹھکانے پر لگ گیا، ملزم گرفتار ہو گیا تو اب معصوم بچی کو بدنام کرنے کا کیا مقصد ؟ کیوں اس کے خلاف جھوٹ سچ کا پراپیگینڈا چلا رہے ہیں۔ کیا ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ یہ تو ثناء جانتی تھی اور اللہ بس۔ لیکن ہمارے ہاں یہ رواج ہے نا کہ " جتنے منہ اتنی باتیں " ! ! !
" ثناء تو چلی گٸ " لیکن جتنے منہ اتنی باتیں !