،،عوام زندہ باد،، 234

،،عوام زندہ باد،،

امیروں اورکبیروں کاکیا۔؟ان کاتوٹائم پہلے بھی سکون سے پاس ہورہاتھااوراب بھی پاس ہورہاہے لیکن ایک ایک وقت کی روٹی کے لئے دردرکی ٹھوکریں کھانے والے غریبوں کاٹائم کیسے پاس ہوگا۔؟غریبوں پرتوروٹی کی تلاش میں ایک ایک لمحہ پہلے ہی قیامت بن کرگزررہاتھااب قیامت کی ان گھڑیوں میں ان کاکیابنے گا۔؟ہمارے ان سارے بڑوں اوران کے ساتھیوں ودوستوں کوتوہرجگہ سے ریلیف مل ہی جائے گالیکن غریب عوام کو ریلیف کہاں سے ملے گا۔؟نفسانفسی کے اس دورمیں آج بھی اس ملک کے اندرہزاروں نہیں لاکھوں لوگ نوازشریف، شہبازشریف،آصف زرداری،مولانافضل الرحمن،عمران خان،سراج الحق اورچوہدری شجاعت زندہ بادکے نعرے لگارہے ہیں لیکن سوال صرف یہ ہے کہ،،عوام زندہ باد،،کانعرہ کون لگائے گا۔؟لیڈروں اورسیاستدانوں کی سیاست وحکومت کے لئے توعوام جان کی بازی لگادیتے ہیں لیکن عوام کے حقوق اورمفادات کے لئے جان کی بازی کون لگائے گا۔؟اس سوال کاجواب آج بھی کسی کے پاس نہیں۔ جن کے لئے عوام لڑتے،جھگڑتے اورمرتے ہیں وہ سیاستدان اورلیڈرانہی عوام کے لئے کیاکرتے ہیں یہ سب دنیاکے سامنے ہے۔ملک اس وقت تاریخ کے مشکل دورسے گزررہاہے یانہیں لیکن یہ پوری دنیاکوپتہ ہے کہ کمرتوڑمہنگائی اورمعاشی بدحالی کے باعث اس دیس میں رہنے والے بائیس کروڑعوام اس وقت مشکل کیا۔؟مشکل ترحالات سے گزرنے پرمجبورہیں۔مہنگائی نے عوام کی کمرتوڑکررکھ دی ہے،دوکی جگہ ایک روٹی پرگزارہ کرنے والے عوام کوبڑھتی مہنگائی کے باعث اب جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔چھ سات سوروپے والے آٹے کے تھیلے کاتین ہزارروپے تک پہنچناشائدکہ یہ وزیراعظم شہبازشریف،آصف زرداری،مولانافضل الرحمن اورعمران خان کے لئے کوئی بڑی بات نہ ہولیکن ماہانہ بیس سے تیس ہزارروپے میں پوراگھرچلانے اورخاندان پالنے والے غریبوں کے لئے یہ کسی قیامت سے کم نہیں۔پھرصرف ایک آٹانہیں،یہاں چینی،گھی،دال،دودھ،پٹرول،سبزی اورچاول خریدتے ہوئے غریب لوگ ہرروز قیامت پرقیامت سے گزررہے ہیں۔اب تویہاں ہردن اورہررات غریبوں کے لئے قیامت ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قیامت میں بھی انسانیت کوچھوڑاوربھول کرسیاست سیاست کاکھیل کھیلاجارہاہے۔ لوگ بھوک سے مررہے ہیں مگرلیڈروں،سیاستدانوں اورحکمرانوں میں کسی کواس کی کوئی پرواہ نہیں۔عمران خان سے لیکرمولاناتک ہرلیڈراورسیاستدان کوصرف اورصرف اپنی سیاست کی پڑی ہوئی ہے۔ساڑھے تین چارسال تک ملک وقوم سے کھیلنے والے عمران خان آج بھی اس فکروکوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ اسے دوبارہ اقتدار کیسے ملے۔اس مقصدکے لئے خان صاحب نے زمان پارک میں خیمے وتمبولگاکراس وقت پورے ملک کوتماشابنایاہواہے۔اپنے سیاسی مقاصداورمفادات کے لئے کپتان اگرہزاروں کارکنوں کوزمان پارک میں جمع کرسکتے ہیں توکیاوہ مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے خلاف چندلوگ اکٹھے نہیں کر سکتے۔؟جوجدوجہداورکوششیں وہ دوبارہ اقتدارمیں آنے کے لئے کررہے ہیں کیااس طرح کی جدوجہداورکوششیں وہ عوام کومہنگائی سے نجات اورریلیف دینے کے لئے نہیں کرسکتے۔؟ مولانااینڈکمپنی کو تواب اقتدارکے بچاؤکی کوششوں اورسوچ سے فرصت نہیں۔لگتاہے مولاناجی کے ہاں کل تک جومہنگائی حرام تھی اب وہ بھی حلال ہوگئی ہے کیونکہ سال سے زیادہ ہونے کوہے کہ مولاناصاحب کی طرف سے مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے خلاف کوئی مارچ ہوااورنہ کوئی ملین مارچ۔آصف زرداری کی توبات ہی الگ ہے وہ توجوڑتوڑکی سیاست سے فارغ ہی نہیں ہوتے۔ایسے میں عوام کس کی طرف دیکھیں یاکس سے امیدیں باندھیں فی الحال ایسی کوئی امیداور روشنی تو کہیں نظرنہیں آرہی۔جہاں سیاست انسانیت پرغالب ہووہاں پھرعوام کااسی طرح کچھ نہیں ہوتا۔دوسری بات جہاں صرف لیڈر،سیاستدان اورحکمران زندہ بادکے نعرے لگتے ہیں وہاں پھرعوام پیچھے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔اس ملک میں بھی لیڈر،سیاستدان اورحکمران زندہ بادکے اتنے نعرے لگ چکے ہیں کہ اب عوام کسی کویادنہیں۔اپنی ذات،مفااورسیاست کے لئے عوام عوام توسب کرتے ہیں لیکن جب عوام کی ذات اورمفادکی بات آتی ہے توپھرشہبازشریف سے آصف زرداری اورعمران خان سے مولاناتک سب اندھے،گونگے اوربہرے بن جاتے ہیں۔ان لیڈروں اورسیاستدانوں نے ہمیشہ عوام کے ساتھ ہاتھ کیاپرافسوس یہ عوام ان لیڈروں اورسیاستدانوں کوپھربھی پہچان نہ سکے۔آج بھی کمرتوڑمہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے باعث اکثرگھروں میں فاقے اورکئی کے چولہے بجھے ہوئے ہیں لیکن نادان پھربھی روٹی،کپڑا،مکان اورعوام زندہ بادکاایک نعرہ لگانے کے بجائے عمران،شہباز،زرداری اورمولانازندہ بادکے نعرے لگانے میں مصروف ہیں۔کہتے ہیں بچہ جب تک روئے ناماں اسے بھی دودھ نہیں دیتی۔زمان پارک،رائیونڈاوربلاول ہاؤس کے گردجمع ہوکرعمران،شہبازاوربھٹوزندہ بادکے نعرے لگانے والے جب تک،،عوام زندہ باد،،کانعرہ نہیں لگائیں گے تب تک نہ یہ مہنگائی کم ہوگی اورنہ ہی اس ملک سے غربت اوربیروزگاری کاکبھی خاتمہ ہوگا۔عوام نے لیڈروں اورسیاستدانوں کے بارے میں بہت سوچا۔اب ایک منٹ کے لئے انہیں اپنے اوراپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچناچاہئیے۔آج جولوگ زمان پارک کے گرجمع ہوکریہ فلاں زندہ باداورفلاں مردہ بادکے نعرے لگارہے ہیں،انڈے اورڈنڈے کھارہے ہیں۔یہ کام توانہوں نے پہلے بھی کیابلکہ ان کے آباؤاجدادنے بھی کیا۔سوچنے کی بات ہے کہ بدلے میں انہیں کیاملا۔؟چالیس نہیں بچاس سالہ تاریخ اٹھاکردیکھیں سیاسی پارٹیوں،لیڈروں اورسیاستدانوں کی خاطرڈنڈوں پرڈنڈے ہمیشہ عوام نے ہی کھائے،جیلوں اورتھانوں میں بھی یہ گئے،پرچے بھی ان پرکٹے،انتقامی سیاست میں پرخچے بھی ان ہی کے اڑائے گئے لیکن بدلے میں انہیں پھربھی مہنگائی،غربت،بیروزگاری اوربھوک وافلاس کے سواکچھ نہیں ملا۔آج کپتان کی محبت اورعشق میں یہ جوزمان پارک کے اردگردناچ ناچ کرپاگل ہورہے ہیں کل کوعمران خان اگراقتدارمیں آئے بھی توبھی انہیں مہنگائی،غربت،بیروزگاری اوربھوک وافلاس سے زیادہ کچھ نہیں ملے گا۔اس لئے فلاں زندہ باداورفلاں مردہ بادکے نعرے لگاکراپنے گلے خشک کرنے کے بجائے تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکن اورسارے لیڈروں وسیاستدانوں کے پیروکاراگرایک۔ہاں صرف ایک باراجتماعی طورپر،،عوام زندہ باد،،کانعرہ لگادیں توشائدنہ صرف اس قوم بلکہ اس ملک کابھی کچھ بن سکے

بشکریہ اردو کالمز