اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کے اشتراک سے پیدا ہونے والا ایک ایسا ناجائز ملک ہے جس نے اسلامی دنیا کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا فلسطین اور فلسطینیوں کو جو نقصان ہوا یا ہو رہا ہے وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن اس کے علاوہ بھی پوری مسلم دنیا کو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے ۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں جو نقصان ہوا وہ تو واضح ہے لیکن اس کے علاوہ جو انہوں نے خفیہ طریقے سے امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے ، اسے احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔ یہودی مسلمانوں کے شدید ترین دشمن ہیں اور ان کی دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد بھی یہودی ہی اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے اور ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کی سازشوں سے بچنے کے لیے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد سب سے پہلے ان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جو ''میثاق مدینہ ''کے نام سے مشہور ہوا اور اس کے بعد یہودیوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف سازشیں جاری رکھیں جس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے نکال دیا ۔
اس کے باوجود یہودی اپنی سازشوں سے باز نہ آئے تو غزوہ خیبر وقوع پذیر ہوا۔ اس کے بعد بھی آج تک یہودیوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی یا بھلائی نہیں کی اور نہ ہی بھلائی کا انہوں نے کبھی سوچا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ قیامت تک یہودی یا عیسائی مسلمانوں کے حق میں کچھ بہتر سوچیں یا مسلمانوں کے ساتھ دل سے دوستی کر لیںکیونکہ اللہ رب العزت نے خود فرما دیا کہ یہود و نصاری کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے ۔ جب یہ فرما دیا ہے تو پھر اس کے بعد اب یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایسا وقت ایسا آ جائے جس میں وہ ہمارے ہمدرد و غم خوار بن جائیں بلکہ ہمیشہ وہ مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔یہ تو ہم مسلمانوں کے ایمانوں کی کمزوری ہے کہ ہم خود ہی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں جبکہ اللہ رب العزت نے واضح طور پر منع فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ دوستی نہ کرو۔
ٍٍ یہودی مسلسل فلسطینیوں کو شہید کر رہے ہیں ان کے گھر مسمار کر رہے ہیں ان کی زمینوں پر قبضہ کر کے نئی بستیاں اباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا منصوبہ صرف مکمل فلسطین پر ہی قبضہ کرنے کا نہیں بلکہ پورے عرب پر قبضہ کرنے کا ہے جس کو مسلمان حکمران جانتے بوجھتے ہوئے بھی نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی طرف مسلسل دوستیوں کے ہاتھ بڑھا رہے ہیں ۔ فلسطینیوں پر جو ظلم ہوئے ان کو فراموش کر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں بہت سے عرب ممالک نے تو واضح طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے جبکہ دیگر کئی ممالک اسرائیل کی دوستی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ چند روز قبل ایک اسرائیلی وزیر نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا ہے اور انہوں نے دعوی بھی کیا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے علاوہ سات دیگر مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں اور یہ دعوے ویسے نہیں ہوتے ان کا کچھ تو پس منظر ہوتا ہے۔ سعودی کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ اسرائیل کو چار جون 1967 کی حدود میں واپس جانے کا عہد کرنا ہوگا اور یعنی کہ وہ 1967 سے پہلے کی اسرائیلی حدود کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ اسرائیل کا وجود ہی ناجائز اور مسلمانوں کی زمینوں پر قبضے کی بنیاد پر ہے۔
میں بارہا لکھ چکا ہوں کہ اسلامی ممالک کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی قطعا ضرورت نہیں ہے صرف ہمارے مسلم حکمران امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ مسلم دنیا کی ترقی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط نہیں ہے کتنے ہی مسلم ممالک ایسے ہیں جو آج ترقی یافتہ ہیں جیسے عرب ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیے بغیر ہی اتنی ترقی کی ہے جن ممالک نے تسلیم کر لیا ہے انہوں نے بھی چند برس قبل تسلیم کیا ہے جبکہ ترقی تو انہوں نے اس سے پہلے ہی کر لی تھی اسی طرح سعودی عرب بھی ترقی یافتہ ملک ہے لیکن ابھی تک واضح طور پر اس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے لیکن وہ ترقی نہیں کر سکے انتہائی ترقی پذیر اور غریب ممالک ہیں ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ملکوں کی ترقی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط نہیں ہے بلکہ اس کے بغیر بھی ممالک ترقی کر سکتے ہیں۔
لہذا اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی بجائے اسلامی ممالک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ۔ اسلامی ممالک آپس کی نفرتوں اور قدورتوں کو ختم کر کے ایک مضبوط بلاک تشکیل دیں جس میں ممالک آپس میں تجارت کریں ، اس میں اپنی کرنسی کا لین دین ہو ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کا عزم ہو۔ اسلامی ممالک ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کی کوشش کریں ، جامعات میں سائنس و ٹیکنالوجی میں تحقیق کو فروغ دیں ، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیںاور امت مسلمہ کو ترقی و فروغ دینے کی کوشش کریں ۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جدہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اسلامی ممالک میں کوئی ایک یونیورسٹی بھی ایسی نہیں ہے جہاں تحقیقی کام ہو رہا ہو، آپ جب کسی کمپنی کی گاڑی درآمد کرتے ہیں تو گاڑی کے ساتھ ان سے ٹیکنالوجی دینے کا بھی مطالبہ کریں۔ ایک گاڑی جو مراکش سے چلے تو ملائیشیا تک جائے۔ مختصریہ کہ بجائے یہود و نصاریٰ کے ساتھ غیر فطری گٹھ جوڑ کے اپنے ہاتھ مضبوط کریں ، اسلامی ممالک سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کریں اور ایک دوسرے کی مدد کریں یہی ایک طریقہ ہے جو امت مسلمہ کو ترقی و استحکام دے سکتا ہے ۔