1960 ءکی دہائی میں دنیا میں زرعی انقلاب آیا جس سے عالمی سطح پر زرعی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا اور خصوصاً ترقی پذیر ممالک نے زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعےانقلاب برپا کردیا جس کے فوائد پاکستان کو بھی حاصل ہوئے اور ملک میں ریکارڈ زرعی پیداوار ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زرخیز زمین، چار موسم اور محنت کش کسان عطا کئے ہیں۔ پاکستان جو دنیا میں سب سے بڑا نہری اور آبپاشی نظام رکھنے والا زرعی ملک ہے، اس دور میں زرعی اجناس میں خود کفیل ہونے کے علاوہ دنیا میں گیہوں، کپاس، چاول اور دیگر زرعی اجناس ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن گیا۔ ہم کپاس کی پیداوار میں دنیا میں چوتھے، آم میں پانچویں، پیاز میں چھٹے، گندم میں آٹھویں، چاول میں دسویں، آلو میں 18 ویں اور مکئی کی پیداوار میں 20 ویں نمبر پر آگئےلیکن بعد میں آنے والی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں، جعلی بیج اور ادویات، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پرعدم توجہی، گلوبل وارمنگ یعنی موسمیاتی تبدیلیوں سے بے وقت بارشوں، درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیر پگھلنے سے سیلاب کے باعث زراعت کو پہنچنے والے نقصان، فصلوں کے انتخاب میں غلط فیصلے، کپاس کی زمینوں پر گنے کی کاشت اور زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر نے ہماری طاقت یعنی زراعت کے شعبے کو بری طرح تباہ کردیا۔ نئے بیجوں کی تحقیق اور زراعت میں دنیا کے جدید طریقے نہ اپنانے کے باعث ہم زرعی شعبے میں خطے کے ممالک سے بہت پیچھے رہ گئے جبکہ خطے کے دیگر ممالک نئےبیجوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں ہم سے بہت آگے نکل گئے۔ ملکی معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ کم ہوکر بمشکل 23 فیصد رہ گیااور ہم ’’ٹریڈنگ اسٹیٹ‘‘ بن گئے۔ زراعت کا شعبہ، جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کو نظر انداز کرکے آج پاکستان زرعی اجناس میں خود کفیل ہونے کے بجائے ان کی اربوں ڈالر کی امپورٹ کرنے پر مجبور ہے۔ گزشتہ سال پاکستان نے ایک ارب ڈالر کی صرف گندم امپورٹ کی۔ اس کے علاوہ سالانہ 4.5 ارب ڈالر کا خوردنی تیل اور 600ملین ڈالر کی چائے امپورٹ کی گئی ۔ ملک میں کپاس کی پیداوار 12 ملین بیلز سے کم ہوکر گزشتہ سال بمشکل 5 ملین بیلز رہ گئی ، جس نے ہماری ٹیکسٹائل صنعت کو بری طرح متاثر کیا۔ کپاس امپورٹ کرنے کیلئے ہمارے پاس ڈالر نہیں اور پاک بھارت تجارت پر پابندی کے باعث ہم واہگہ بارڈر سے کپاس امپورٹ نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس میں واضح کمی ہوئی ۔
میں اپنے گزشتہ کالموں میں زراعت کے شعبے کی بحالی پر زور دیتا رہا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ’’گرین پاکستان‘‘ (GPI) منصوبے کا اعلان کیا جس سے آئندہ 5سال میں پاکستان میں 40 سے 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ 40 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور آئندہ 2سال میں ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کے مطابق خلیجی ممالک گرین پاکستان منصوبے میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ گرین پاکستان تعارفی تقریب میں وفاقی وزراء، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز، زرعی ماہرین ، مختلف ممالک کے سفیروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے گرین پاکستان منصوبے، جسے بجا طور پر زرعی انقلاب کہا جاسکتا ہے، کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ویژن قرار دیا جبکہ جنرل عاصم منیر نے پاکستان کو سرسبز بنانے کیلئے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں اِسے اہم قدم قرار دیا جس کے تحت لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو کاشتکاری کے جدید طریقوں اور کاشتکاروں کو سہولتیں دے کر زیر کاشت بنایا جائے گا جس سے نہ صرف پاکستان کی غذائی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ فاضل گندم ایکسپورٹ بھی کی جاسکے گی ۔ اس سلسلے میں حال ہی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گرین پاکستان منصوبے کے تحت خانیوال میں پہلے ’’ماڈل ایگریکلچرل فارم‘‘ کا افتتاح کیا جس میں جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ سسٹم کو استعمال کیا جارہا ہے۔
چند سال پہلے FPCCI کی پاک یو اے ای بزنس کونسل کے وفد جس کی میں نمائندگی کررہا تھا، کی ملاقات متحدہ عرب امارات کی وزیر بیرونی تجارت شیخا لبنیٰ بنت خالد القاسمی سے یو اے ای میں ہوئی۔ میرے وفد میں زرعی اجناس اور چاول کے معروف ایکسپورٹرز شامل تھے۔ شیخا لبنیٰ نے گلف ممالک کو فوڈ سیکورٹی فراہم کرنے پر نہایت دلچسپی ظاہر کی اور تجویز دی کہ پاکستان زرعی صلاحیتیں رکھنے کے باعث ہمیں زرعی اجناس اور جانوروں کا چارہ ’’الفا الفا‘‘ مستقل بنیادوں پر فراہم کرسکتا ہے جس کیلئے گلف ممالک پاکستان میں زرعی زمین لینے کو تیار ہیں۔ میں نے ان کی تجویز اس وقت کے وفاقی وزیر تجارت کو پیش کی مگر زرعی اجناس کی ایکسپورٹ میں حائل کچھ تکنیکی مسائل کے باعث ہم گلف ممالک سے کوئی معاہدہ نہ کرسکے لیکن اب خلیجی ممالک گرین پاکستان منصوبے میں نہایت دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ سرمایہ کاری کے ذریعے لاکھوں ایکڑ اراضی قابل کاشت بنانے کے علاوہ اس سے پیدا ہونے والی فصلوں کے خریدار بھی ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حکومت نے گرین پاکستان منصوبے کے تحت ملک میں سبز انقلاب لانے اور خلیجی ممالک کو زرعی اجناس ایکسپورٹ کرنے کیلئے ایک اہم پالیسی کا اعلان کیا ہے جس پر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت متحد ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا عزم ہے کہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو ’’گرین پاکستان‘‘ بنائیں گے۔ مجھےیقین ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیراعظم کی تشکیل دی گئی اسپیشل سرمایہ کاری کونسل ، گرین پاکستان منصوبے کے تحت ملک کو زرعی صنعتی پاکستان بناسکتے ہیں جو بابائے قوم کا خواب تھا۔