433

قلعہ نندنا، البیرونی اور وزیر اعلی پنجاب

19 جنوری 2021 کے روزنامہ نوائے وقت میں تاریخی تحصیل پنڈدادن خان کے حوالہ سے لکھے گئے ایک کالم میں معروف مسلمان سائنس دان ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی کے تاریخ ساز کارنامہ کا تذکرہ ہوا۔ قارئین کرام  نے بے پناہ مسرت اور خوشگوارحیرت کا اظہارفرمایا۔ فیڈ بیک سے ایک تلخ حقیقت واضح ہوئی کہ عوام کی اکثریت اسلام کے سنہری دور اوراسلاف کے کارناموں سے آگاہ نہیں۔  حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح فرمایا تھا کہ

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا توجس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

مؤرخین نے لکھا کہ دسویں صدی عیسوی کے مشہورمحقق، عظیم فلسفی، مصنف، ماہر فلکیات ، ریاضی دان، سیاست دان،سائنسدان اور سفر نگار ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی نے زمین کے رداس یعنی ریڈئیس کی حیرت انگیز حد تک صحیح پیمائش کر کے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا بھر کے سائنس دان آج بھی محو حیرت ہیں۔ یہ کارنامہ ضلع جہلم کی تحصیل پنڈدادن خان میں کوہستان نمک کی ایک چوٹی پر قلعہ نندنا میںسر انجام پایا۔ عقل حیران و پریشان ہے کہ ایک ہزار سال قبل سیٹلائیٹ ، کمپیوٹرز، دیگر جدید آلات اورجدید ٹیکنالوجی کے بغیر یہ کیسے ممکن ہوا۔سائنس کے میدان میں یہ اتنا بڑا سنگ میل تھا کہ پوری دنیا نے اسے تسلیم کیا اورآج بھی خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ جس کی ایک مثال سوویت یونین کا 1973 میں جاری کردہ ڈاک ٹکٹ ہے جس پر البیرونی کا تصویری خاکہ موجود ہے۔ خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم  عمران خان  نے اس حوالے سے بھر پور دلچسپی کا مظاہرہ کیا،وزیراعلی پنجاب  عثمان بزدار ، وفاقی وزیر جناب فواد حسین چوہدری اور متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ قلعہ نندنا کے مقام پر بیٹھک لگائی۔ اس تاریخی مقام پریادگاراورسیرگاہ بنانے کا فیصلہ ہوا۔ آخرکاریہ گمشدہ تاریخی شاہکار منظر عام پر آیا اور پوری دنیا کی توجہ حاصل کرلی۔ وزیر اعظم صاحب کی تاریخ، اسلامی ورثہ کو محفوظ کرنے اور علم کے فروغ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ اچھی بات ہے کہ اس عظیم علمی اور سائنسی ورثہ کی طرف توجہ مبذول ہوئی لیکن نندنا کے مقام پر ایک سیر گاہ بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ چونکہ یہ ایک علمی اور سائنسی کارنامہ ہے اس لیے ایک علمی اور سائنسی مرکز کا قیام ہی اس کا حق ادا کر سکتا ہے۔ البیرونی کے نام  پر بننے والا پنڈدادن خان کا اکلوتا ڈگری کالج زوال پذیر ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس علاقہ میں البیرونی کے نام پر ایک یونیورسٹی بنائی جائے یا موجودہ کالج کو پوسٹ گرایجویٹ کالج کا درجہ دے کر اعلی تعلیم کی کلاسز شروع کر دی جائیں تو یہ اہل علاقہ پر بڑا احسان ہوگا۔ یہاں کے عوام کے معاشی حالات کمزور ہیں اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں اعلی تعلیم دلوانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ سینکڑوں ذہین اور قابل نوجوان وسائل نہ ہونے کی وجہ سیاعلی تعلیم کا خواب لیے دربدر ہو رہے ہیں۔چونکہ پنجاب کے نوجوان اور خوش اخلاق وزیر اعلیٰ  عثمان بزدار کا تعلق بھی ایک ایسے ہی پسماندہ ضلع سے ہے اس لیے ان علاقوں کے لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ آپ اعلی تعلیم یافتہ ، دھیمے مزاج کے مالک،  کم گواور شریف النفس انسان ہیں۔ جناب سے میری عقیدت اور محبت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کا تعلق پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کی نگری تونسہ شریف سے ہے۔ پیر پٹھان بارہویں صدی ہجری کے عظیم شان اور ہر دلعزیز بزرگ تھے جنہوں نے چونسٹھ سال اس خطہ میں دین کی ترویج و اشاعت اور فروغ علم کا کام کیا۔ لاکھوں لوگوں کو مسلمان کیا اور ان کے دلوں کو نور ایمان سے منور فرمایا۔ پنجاب کے ہر دلعزیز اور محبوب وزیر اعلیٰ کو ایک وعدہ کی یاد دہانی مقصود ہے جو انہوں نے قلعہ نندنا کے دورہ کے موقع پر پنڈدادن خان کے عوام سے فرمایا تھا کہ’’ میں کچھ دنوں بعد آؤں گا ، رات یہاں گزاروں گااور تحصیل پنڈ دادن خان کے لیے کچھ کروں گا ‘‘۔کئی ماہ گزر گئے۔پنڈدادن خان کے لوگ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں اوراس مبارک گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں۔ایک بارتشریف لائیں، ان کی دلجوئی فرمائیں اور ستر سالہ محرومیوں کا مداوا فرمائیں۔کسی دور میں پنڈدادن خان ضلعی صدر مقام تھا اس کا یہ سٹیٹس بحال کیا جانا اس کا حق ہے۔ اکثر دیہات میں نہ فراہمی آب کا نظام ہے اورنہ ہی نکاسی آب کا اس حوالے سے بھی ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ دریائے جہلم پر پل کے ذریعہ سرگودھا ، منڈی بہا ؤالدین اور دیگر شہروںسے رابطہ ممکن بنایا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیآں بڑھ سکیں۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے کیونکہ مریضوں کو راولپنڈی، سرگودھا اور لاہور لے جا نا ممکن نہیں۔

بشکریہ اردو کالمز