قاضی عبدالرؤف معینی ایڈووکیٹ
گلستان رسالت کے دو حسین پھول، سبط رسول اللہ ﷺامام عالی مقام سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور امام عالی مقام سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔یہ عظیم ہستیاں اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔کریم آقاﷺ اپنے پیارے نواسوں سے
بے پنا ہ محبت کرتے اور اکثر اس کا اظہارفرماتے ۔آپ ﷺ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھانے، گود میں کھلاتے، ہونٹوں کو بوسے دیتے ۔دونوں شہزادے بھی آپ ﷺ سے بہت پیار کرتے تھے ۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ دوران نماز سجدہ میں جگر گوشہ بتول اپنے نانا کی کمر مبارک پر بیٹھ جاتے اور آپ ﷺ ان کو اتارنے کی بجائے سجدہ طویل کر دیتے ۔سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ، حسن و حسین رضی اللہ عنہا آپ کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاندھے پر حسن اور دوسرے کاندھے پر حسین سوار تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حسن کے منہ پر بوسہ دیتے اور دوسری مرتبہ حسین کہ منہ پریہاں تک کہ آپ ہمارے پاس پہنچ گئئے‘‘ ۔سرکار دو عالم ﷺ کا فرمان ذیشان ہے ’’ جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا‘‘۔آپ ﷺ یہ دعا بھی فرماتے تھے کہ اے اللہ میں حسن اور حسین سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کراور ہر اس شخص سے محبت کر جو ان سے محبت کرتا ہے ۔حضرت امام شافعی ڑحمتہ اللہ علیہ نے ایک رباعی میں کیا خوب فرمایا۔ترجمہ پیش خدمت ہے ۔ ’’ اے اہل بیت رسول اللہ ﷺ آپ کی محبت اللہ پاک کی طرف سے ایک فریضہ ہے ۔جو قرآن پاک میں نازل فرمایا گیا۔آپ کے جلیل القدر ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ جو شخص آپ پر درود نہ بھیجے اس کی نماز نہیں ہوتی ‘‘۔ان عظیم ہستیوں کے فضائل و مناقب کثیر ہیں ان کو ایک کالم میں سمیٹنا ناممکن ہے ، بیان کرنے کے لیے کئی کتابیں لکھی گئیں اورلکھی جاتی رہیں گی ۔کتنے دکھ اور کرب کی بات ہے کہ ان ہستیوں کو تکالیف پہنچائی گئیں یہاں تک کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین ڑضی اللہ عنہ ،آپ کے صاحبزادوں ، ،بھانجوں،بھتیجوں ، دیگر عزیزوں اور جانثار ساتھیوں کو ظالمانہ طریقوں سے کربلا میں شہید کردیاگیا. کتنی عجیب صورت حال کے کائنات کے والی ﷺ کے نواسہ کے لیے پانی بند کردیا گیا۔کیسے ظالم اور شقی القلب انسان تھے جنہوں نے یہ ظلم کیا اور رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کو دکھ اور درد کے سمند میں ڈال دیا۔واقعہ کربلا بہت حساس موضوع ہے ۔اس موضوع پر لکھنا اور گفتگو کرنا آسان نہیں۔ پلکو ں کے بند ٹوٹ جاتے ہیں اور اشکوں کا سیلاب بے قابو ہو جاتا ہے ۔جب خیالات متلاطم ہوتے ہیں تو پھر انداز بیان پر کنٹرول بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ شاعر نے بالکل صحیح کہا کہ
ُآنکھوں کے ساحلوں پہ ہے اشکوں کا اک ہجوم
شاید غم حسین کا موسم قریب ہے
جب امام عالیمقام نے یزید کی بیعت سے انکار فرمایاتو یزید مشتعل ہو گیا۔امام پاک کی دیانت و تقویٰ نے اجازت نہ دی کہ ایک فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیعت کریں ۔ کیونکہ اس سے اسلام خطرے میں پڑ جاتا، شرعی احکام کی بے حرمتی ہوتی اور ایک فسادبرپا ہو جاتا۔پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ امام عالی مقام نے بالکل صحیح فیصلہ کیا اور
سر داد نہ داد دست در دست یزید
امام علی مقام نے شہادت قبول فرما لی لیکن اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں نہ دیا۔ یوں معرکہ کرب و بلا میں فاتح ٹھہرے۔یزید اپنے مذموم عزائم میں ناکام اور نامراد ہوا، اس کا نام و نشان مٹ گیا ۔ہر دور کے مورخ نے امام عالی مقام کی فتح کو تسلیم کیا اوریہ بھی لکھا کہ ہم نے اس فتح سے کیا کیا اسباق سیکھے۔ امام عالی مقام سید الشھداء ہیں اور حریت پسندوں کے امام بھی ہیں۔کرب و بلا کے میدان میں لشکر یزید کثیر تعداد میں ہے ، سپاہ تازہ دم ہے ،جنگی وسائل بھر پور ہیں اور مزید کمک یقینی ہے دوسری طرف
لباس ہے پھٹا ہوا ، غبار میں اٹا ہوا
تمام جسم نازنیں ، چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے ،بلا کا شہسوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
امام عالی مقام نے معرکہ حق و باطل میں اپنا سب کچھ قربان کر کے کہ بتا دیا کہ
یہ درس کربلا کا ہے
خوف بس خدا کا ہے
واقعہ کربلا اتنا اہم ہے کہ اس کو کوتدریسی نصاب میں شامل ہو نا چاہیے ۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے اسباب ہوں کہ ہر نوجوان کو سانحہ کربلا کی حقیقت اور فلسفہ شہادت از بر ہو. عصر حاضر کے مسلمانو ! اس سبق کو پلے باندھ لو ، حریت فکر کو بیدار کرو، غلامی کی زنجیروں کو توڑ دو اور اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق بسر کرو۔۔امام عالی مقام کی طرح سردار بنوپھر جا کر تمھارا شمار قابل عزت اقوام میں ہو گا۔ امت مسلمہ کی عظمت اور توقیر اسی ایک اصول پر عمل کرنے سے ممکن ہے.
کندھوں پہ تو ہر کوئی اٹھائے پھرتا ہے
سردار تو وہ ہے جو سر دار پہ لائے