ماہ رمضان اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ایک بار پھر سایہ فگن ہو چکا ہے ۔چند روز قبل گوجرانوالہ شہر میں دعوت افطار اور محفل نعت میں شرکت کے بعد عوام کے لیے مخصوص سحری لنگر میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ۔اس وسیع لنگر کا اہتمام ہر سال گوجرانوالہ کی معروف سماجی اور کاروباری شخصیت جناب شیخ محمد افضل صاحب کرتے ہیں۔خدمت خلق کے اس پروقار منصوبہ کا افتتاح معروف ماہر تعلیم ، روحانی اور مذہبی رہنما ، بانی و ناظم ادارہ معین الاسلام بیربل شریف ضلع سرگودھا پروفیسر صاحبزادہ محبوب حسین صاحب نے کیا ۔
گزشتہ روز معروف دانشور اور لکھاری جناب محمد نواز کھرل صاحب کی پر خلوص دعوت پر عالم اسلام کے عالیشان ٹرسٹ المصطفیٰ ویلفیئرٹرسٹ کے زیر انتظام عوام اور خواص کے لیے افظار لنگر میں شرکت اور حاضرین سے گفتگو کا موقع ملا۔ شہر لاہور میں اتنا وسیع دستر خوان دیکھ کر دلی خوشی ہوئی جہاں عوام کی عزت نفس کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے اعلیٰ اہتمام کیا گیاتھا۔اس دستر خوان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں ہر روز معروف ادبی، سماجی شخصیات کو بھی دعوت دی جاتی ہے یوں یہ پروگرام ایک محفل کا رنگ اختیار کر جاتا ہے ۔یہ دستر خوان بھی ہر سال سجایا جاتا ہے جہاں افطار کے ساتھ سحری کا بھی اہتمام ہوتا ہے بلکہ یہ فری دستر خوان سدا بہار دسترخوان ہے ۔رمضان کریم کے علاوہ سارا سال طعام کا اہتمام رہتا ہے۔ اس دسترخوان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ کے پیسوں سے نہیں چلتا بلکہ چند مخلصین ٹرسٹ کے تعاون سے یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ اللہ پاک ٹرسٹ کی روح رواں جناب عبدالرزاق ساجد صاحب اور دیگر معاونین کو بے پناہ اجر سے نوازے جو صحت کے ساتھ دیگر شعبوں میں خدمت خلق کے منصوبوں سے عوام کے دکھوں کا مداوا کر رہے ہیں۔شہر لاہور میں ہی ہر سال ماہ مقدس میں ایک وسیع دسترخوان دماغی اورنفسیاتی امراض کے ہسپتال میں سجایا جاتا ہے جہاں بلا مبالغہ ہزاروں افراد کو سحری اور افطاری پیش کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بے شمار چھوٹی بڑی تنظیمیں اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں،اللہ پاک سب کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہے۔
خدمت خلق اسلام کا طرہ امتیاز ہے ۔ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار جب افضل عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہُ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے ہر اس شخص کو جس کو تو جانتا ہے یا نہیں جانتا۔ کریم آقا ﷺ کے اس سلسلہ کو صوفیاء کرام نے جاری رکھا اور ہم دیکھتے ہیں ہیں لنگر یعنی مفت کھانے کا اہتمام ہر خانقاہ پر ہے ۔ حضرت خواجہ ابو الحسن خرقانی رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ کی پیشانی پر کنندہ ایک شعر تو خانقاہی نظام کی بنیادی پالیسی کو بیان کرتا ہے ۔فارسی زبان و ادب کے اس شعر کا مفہوم ہے کہ یہاں آنے والے سے اس کا مسئلک یا مذہب نہ پوچھو بلکہ اس سے کھانے کے بارے میں پوچھو۔جرمنی کی ایک یونیورسٹی کا ایک محقق ’’ لینس سٹروتھمین ‘‘ اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تکمیل کے لیے جب پاکستان آیا تو اس نے خانقاہ حضرت عثمان علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ پر وسیع لنگر کا مشاہدہ کیا تو بلا اختیا ر پکار اٹھا کہ پاکستان میں یہ خانقاہیں خدمت خلق کی جو ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں مغربی ممالک میں یہ کام حکومتوں کے ذمہ ہیں۔ مفت کھانے کی فراہمی ایک احسن قدم ہے جس کو جاری رہنا چاہیے۔ آج جب معاشی بد حالی عروج پر ہے ۔چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں ایسے میں عوام کی اایک کثیر تعداد کو خواراک کی فراہمی ایک بڑا مشن اور عبادت ہے ۔ بقول خواجہ الطاف حسین حالی
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
ملک عزیز میں ایک طرف تو اچھے اقدامات سے نیکیاں سمیٹی جا رہی ہیں اور عبادات کا زور ہے دوسری طرف ایک طبقہ اپنے لیے دوزخ کا اہتمام بھی کر رہا ہے۔ناجائز منافع خور، ذخیرہ اندوز،بے ایمان تاجر عوام کی زندگیوں کو عذاب بنائے ہوئے ہیں۔اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔مہنگائی پر قابو پانے والے ادارے یعنی قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے محکمے یاتو بے بس ہیں یا ان بد بختوں سے ملے ہوئے ہیں۔کچھ کوتاہی عوام کی بھی ہے کہ وہ اگر سادہ خوراک سے سحر و افطار کا اہتمام کر لیں تو ان طالموں کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں۔
گزشتہ چند سالوں سے ایک اور فتنہ بھی پرورش پا رہا ہے ۔وہ فتنہ یہ ہے کہ سوشل میڈیاپر ماہ مقدس اور روزہ کے حوالے سے گھٹیا مزاحیہ اور بیہودہ پوسٹیں لگائی جارہی ہیں۔ظاہر ہے کہ مقصدلائیکس اور ویوز بڑھانا ہی ہے۔کتنی جاہل قوم ہے کہ خود ی اپنی عبادات کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ روز ہ اسلامی شعائر میں سے ہے اس کا مذاق اڑانا بڑی بے ادبی ، گستاخی اور گناہ کبیرہ ہے ۔ ظاہر ہے یہ ذمہ داری تو ایف آئی اے کی ہی بنتی ہے کہ وہ ان بدبختوں کو پکڑے اور نشان عبرت بنائے ۔ناصحین اور واعظین کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ان پہلوئوں کے حوالے سے عوام الناس کی تربیت کا اہتمام کریں۔ اللہُ تعالیٰ ہم سب کو ماہ رمضان المبارک کی برکتوں کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے.