261

آسماں تری لحد پر شبنم افشانی کرے 

آج والدہ محترمہ کی برسی ہے. احباب سےوالدہ ماجدہ کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے.

آسماں تری لحد پر شبنم افشانی کرے 

ماں ایک ایسا پھول ہے جو نہ مرجھاتا ہے اور نہ اس کی خوشبو میں کبھی کمی ہوتی ہے۔ ماں محبتوں کا سمندر ہے۔ زندگی کے سفر میں اور گردشوں کی تپتی دھوپ میں ایک سایہ دار درخت ہے۔ سب سے خوبصورت ، مٹھاس اورپیار سے بھر پور لفظ ماں ہی ہے۔ماں ایک عظیم ہستی ہے اور اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے۔اللہ پاک نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر اس کی عظمت کو بیان کر دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ماں وہ ہستی ہے جس کی عظمت اور جدائی کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا چناؤ مشکل ہو جاتا ہے اور روح کے اندر خیالات اس شدت سے متلاطم  ہوتے ہیں کہ تحریر کے اسلوب پر بھی  قابو نہیں رہتا۔

شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی والدہ محترمہ کی وفات پراپنے جذبات  شہرہ آفاق نظم’’ والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ میں بیان کیے۔ نظم کا ہر شعر پڑھ کر انسان بے قرار ہو جاتا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ اس کے لیے اور اس کی والدہ محترمہ کے لیے ہی لکھا گیا ہے۔

خاک مرقد پر تیری لے کر یہ فریاد آؤں گا

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا

امی جی کو ہم سے جدا ہوئے پندرہ سال ہو گئے۔ تئیس مئی کی شام امی جی اس  دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ایسے محسوس ہوتا جیسے کل کی بات ہے۔ خوشی اور غم کا کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جس دن ان کی یاد نہ آئی ہو۔

یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے

جیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہے۔

والدہ ماجدہ نیک سیرت خاتون تھیں۔ نمازاورروزہ کی پابندی کرتیں۔نماز تہجد بھی ہمیشہ معمول رہا۔ صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کرتیں۔ نعت پاک سے بڑی محبت تھی۔ ہر روزجناب صدیق اسماعیل صاحب کی آواز میں بلند آواز سے آڈیو کیسٹ لگا دیتیں نعت سنتی رہتیں اور گھر کے کام میں مصروف ہو جاتیں۔ 

امی جان نے کسی سکول یا مدرسہ میں تعلٰیم حاصل نہیں کی لیکن اردو اور پنجابی زبان کی ہرکتاب پڑھ لیتی تھیں۔ بڑی تعلم دوست تھیں۔ میں نے ہوش سنبھالا تو ان کے ہاتھ میں کتاب دیکھی۔ اس دور میں نوائے وقت اخباراور دیگرمیگزین  باقاعدگی سے پڑھتی تھیں۔ جناب را شد الخیری مرحوم کے’’ عصمت ‘‘ اور’’ بنات ‘‘ سر فہرست تھے۔ اکثر اپنے بھائی قاضی محمد امین صاحب کی لائبریری سے کتب لے لیتی تھیں۔ تاریخی کتب پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ جناب نسیم حجازی کی کتب زیادہ شوق سے پڑھتی تھیں۔ وسیع مطالعہ کی وجہ سے تاریخ پر مکمل عبور تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے وصال سے چند روز قبل تاریخ ہندوستان سے کئی واقعات سناتی رہیں۔بڑی معاملہ فہم اور ملنسار تھیں۔ حسن سلوک کمال تھا۔ پورے گاؤں کی خواتین ان کی سہیلیاں تھیں اور ان سے سے بہت پیا ر کرتی تھیں۔ دن چڑھتے ہی سہیلیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتا جو عصر تک جاری رہتا۔ گفتگو اورمشوروں کے ساتھ حسب توفیق مہمان نوازی کا سلسلہ جاری رہتا۔ آج بھی جب میں گاؤں جاتا ہوں تو امی جی کی سہیلیاں جو اب بزرگ ہو گئی ہیں مل کر بہت خوش ہوتی ہیں اور بہت محبت سے نوازتی ہیں۔

والدہ محترمہ بڑی بہادر خاتون تھیں۔ان کے ابا جی حکیم نور حسین صاحب نے آبادی سے ہٹ کر ایک خوبصورت گھر تعمیر کر کے دیا تھا۔ والد گرامی چونکہ ملازمت کی وجہ سے اکثرگھر سے باہر رہتے تھے اس لیے گھر کا سارا انتظام خود کرتی تھیں۔ ویرانے اور رات کی تاریکی میں والدہ تحفظ کی علامت تھیں اور ہمیں ڈر اور خوف  کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔ وسائل کی کمی اور معاشی مسائل کے با وجود  امی جی نے خود مشکلات برداشت کر لیں لیکن ہمیں بڑے تعلیمی ادراروں میں بہترین تعلیم دلوائی۔ آج ہم جو کچھ ہیں اللہ کے فضل اوروالدہ کی تعلیم و تربیت اور محنت سے ہیں۔ بقول شاعر

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے

اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے

تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب

مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے

حقیقت یہ ہے کہ ماں بڑی مشکلوں سے اولاد کی پرورش کرتی ہے لیکن کائنات کا نظام کہ اکثر جب اولاد خدمت کے قابل ہوتی ہے تو ماں نہیں ہوتی۔

عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی

میں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی

جن کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں اللہ پاک ان سب کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے  اور جن کی حیات ہیں ان کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے۔ 

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

بشکریہ اردو کالمز