ازادی اظہار رائے ترقی یافتہ معاشروں میں بنیادی حقوق تصور کیا جاتا ہے آگر انسان کی بولنے اور رائے دینے پر پابندی لگا دی جائے تو وہ بے حس ہوجاتا ہے پھر انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہتا جانور اپنے حقوق کی بات نہیں کرسکتا اور انسان کو بھی آگر حقوق مانگنے سے روک دیا جائے تو انسان کی وجود ہی غلامی کی دھندل میں پھنس جاتا ہے اس بنیادی حق کے متعلق دنیا کے بیشتر ممالک کے دستورات میں مختلف ارٹیکل وجود رکھتی ہیں دستور پاکستان کا ارٹیکل 19A ازادی اظہار رائے کا ضامن ہے جو ہر شہری کو مختلف امور پر اپنی آزادانہ رائے دینے کی اجازت دیتا ہے پاکستان میں ہمیشہ اظہار رائے پیچیدہ صورت حال میں رہا ہے ماضی کی حکومتیں بارہاں مرتبہ الیکٹرونک میڈیا سے لیکر سوشل میڈیا تک پابندیاں عائد کرچکی ہے زیادہ دور نہیں جاؤنگا صدر مشرف نے اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کیلئے الیکٹرونک میڈیا پر پابندیاں لگا دی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2010 میں فیسبک کو 2 ماہ کیلئے بند کردیا گیا یہی نہیں نوجوانوں کو نفرت آنگیز مواد سے بچانے کیلئے یوٹیوب کو 2012 سے لیکر 2016 تک بند کیا گیا تھا مگر ایک بار پھر سوشل میڈیا کمپنیز پر پابندیاں لگانے کے امکانات بظاہر موجود ہیں کیونکہ 21 جنوری کو پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے سوشل میڈیا کمپنیز کیلئے قوانین وضع کئے جس میں سوشل میڈیا کمپنیز فیسبک,ٹویٹر,انسٹا گرام,واٹسپ,سنیپ چیٹ اور گوگل کو واضع ہدایات دی کہ سوشل میڈیا کمپنیز تین ماہ کے اندر عملی پتے کے ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے مستقل دفاتر اور ڈیٹا بیس سروسر قائم کریں جو صارفین کا ڈیٹا ریاست کو فراہم کریگی بصورت دیگر آگر دفاتر نہیں کھولے گئے تو پاکستان ان کمپنیز کو ملک میں بند کرے گی جبکہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے کی صورت میں حکومت پاکستان ان کمپنیز پر پانچ کروڑ سے لیکر پچاس کروڑ تک جرمانہ عائد کرسکتی ہے اور ساتھ ہی ان قوانین اور ضوابط کے وضع کرنے کے بعد پندرہ روز کے اندر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کے وزیر نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایک نیشنل کوارڈینیٹر نامزد کرے گی جو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو قومی سلامتی کی بنیاد پر سوشل میڈیا کمپنیز کو فحال رکھنے یا نہ رکھنے کی تجویز دیگا مطلب سوشل میڈیا کمپنیز نیشنل کوارڈینیٹر کے ماتحت ہونگی
مزکورہ بالا قوانین جو 1996 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری ارگنائزیشن) ایکٹ کے تحت تشکیل دیئے گئے جنہیں سٹیزنز پروٹیکشن (آگینسٹ آن لائن پارم) رولز 2020 کا نام دیا گیا ہے قوانین کے رولز نہایت حساس ہے جو شاید کسی دوسرے ملک نے بنائے ہو رولز کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز نے سیکیورٹی اداروں,ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو کنٹرول کرنا ہے ایسی نیوز جو پاکستان کے قومی,جغرافیائی وجود کے منافی ہو اسے روکنا اور جو خبر ملک کے مفاد کے خلاف ہو یا کسی کی ہتک عزت کے خلاف محاز آرا ہو انہیں 24 گھنٹوں میں حذف کرنا ہوگا جبکہ ہنگامی صورت حال میں 6 گھنٹوں کے اندر مواد کو سوشل میڈیا آکاؤنٹ سے حذف کردینا ہے ہنگامی صورت حال نیشنل کوارڈینیٹر بتائے گا اور اگر کوئی لائیو ویڈیو کے دوران مذہبی نفرت اور جھوٹ پر مبنی بیانات دے رہے ہو تو اسے سوشل میڈیا وال سے فوراً ہٹانا ہے
یاد رہے جب 2016 میں نون لیگ نے پاکستان الیکٹرک کرائم رولز ایکٹ نیشنل اسمبلی سے پاس کرایا تو تمام اپوزیشن پارٹیز نے نہ صرف سختی سے مذہمت کی بلکہ ان قوانین کو آظہار ازادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دے دیا عمران خان جو الیکٹرک پاکستان کو اپنے اولین ایجنڈے میں شامل کر بیٹھے ہیں انہوں نے ان قوا نین کو کابینہ سے پاس کرکے اپنی ایجنڈے کی سخت منافی کردی تعجب کی بات ہے کہ 21 جنوری کو دستاویزات بنائے گئےاور 28 جنوری کو کابینہ نے پارلیمنٹ سے پاس کرانے کی بجائے خود ہی قوانین بنانے پر اکتفا کر لیا اب سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کمپنیز پاکستان میں اپنے دفاتر کھولیں گے اور کن کن ممالک میں اب تک ان کے دفاتر موجود ہے
امریکہ یوکے چین اور بھارت سمیت اس وقت فیسبک اور ٹویٹر کے 35 ممالک میں 84 دفاتر ہیں اور صرف ٹویٹر کے 20 ممالک میں 35 دفاتر ہیں جبکہ ڈیٹا بیس سروسز پوری دنیا میں صرف 16 ممالک میں قائم ہیں مگر پاکستان میں کوئی دفتر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈیٹا بیس سروسز موجود ہےحکومت نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ملک میں کمپنیز مستقل دفاتر کے ساتھ ساتھ 12 ماہ کے اندر ایک یا ایک سے زیادہ ڈیٹا بیس سروسز بھی قائم کردیں جوکہ بظاہر بہت مشکل ہے کیونکہ بھارت جہاں فیسبک کے فالورز 27 کروڑ ہیں وہاں ایک ڈیٹا بیس سروسز بھی نہیں ہے تو پاکستان جہاں ڈھائی ارب لوگ فیسبک استعمال کرتے ہیں جو بھارت کے بنسبت %1 فیصد بنتے ہیں دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں ہے
حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر دنیا کے اہم ترین ٹیکنا لوجیکل ادارے اور سوشل میڈیا کمپنیز نے افسوس کا اظہار کیا حکومت کہ اس اقدام کو اظہار ازادی پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دے دیا جبکہ شوشل میڈیا صارفین نے بھی تحریک انصاف حکومت کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا پاکستان میں اس وقت %73 سوشل میڈیا صارفین موجود ہے جہاں شہری حکومتی,مذہبی اور دیگر امور پر ازادانہ رائے دے سکتی ہےاگر مستقبل میں قوانین لاگو کئے گئے یا کمپنیز کو بند کردیا گیا تو پاکستانی عوام پر قانونی اور دستوری آزادی اظہار رائے پر پابند لگ جائیگی کیونکہ سوشل میڈیا ہی واحد پلیٹ فارم ہیں جہان اکثریت عوام آزادانہ رائے اور بیشتر حکومتی اقدامات پر تنقید کرسکتی ہے جبکہ کمپنیز کو بند کرنے کی صورت میں پاکستان کو الیکٹرنک معشیت گرنے کا خطرہ مول لینا پڑے گا ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز کے پاکستان میں دفاتر کھولنے کے چانسس %0 ہے