1072

ڈالر کی قیمت 3 روپے سے 156 روپے تک

متحدہ ہندوستان کا آخری بجٹ 1947-48 میں لیاقت علی خان نے پیش کیا جسے عوام دوست بجٹ بھی کہا جاتا ہے جبکہ پاکستان کا پہلا قومی مالیاتی بجٹ 1948-49 پیش کیا گیا جس کا ٹوٹل حجم 89 کروڑ 57 لاکھ روپے تھا جس میں آمدن 79 کروڑ 57 لاکھ اور خسارہ 10 کروڑ تھا اس کے خاتمے تک پاکستان مالی بحران سے نکل چکا تھا اور مالی سال 1949-50 کا بجٹ دوسرا قومی بجٹ تھا یہ بجٹ پاکستان کے مستحکم ہونے کا اعلان تھا اس کا حجم 1 ارب 11 کروڑ تھا یہ بغیر خسارے کا بجٹ تھا جس میں 6 لاکھ روپے بچت تھیں اس کے بعد 1969 تک ہر بجٹ خسارے سے پاک اور بچت کے بجٹ پیش کئے گئے تھے 

سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کا پہلا قومی بجٹ 1973-72 میں پیش کیا گیا تھا جس کا حجم 8 ارب 77 کروڑ روپے تھا جبکہ 18 کروڑ بچت تھیں اس وقت ارض پاکستان کی مدد سعودی عرب اور لیبیا نے کی تھیں

ان سب حالات کے تناظر میں آگر دیکھیں تو اس وقت ڈالر کی قیمت قدرے بہتر تھیں 1948 سے لیکر 1954 تک ڈالر کی قیمت 3.30 روپے تھی آزادی کے بعد 7 سال تک ڈالر کی قیمت مستحکم رہی کیونکہ 1952 میں امریکی امداد کی وجہ سے روپے مستحکم رہا جب 1953 میں سیاسی بحران بڑھنے لگا تو ڈالر کی قیمت 3.92 تک پہنچ گیا تھا 1956 میں ملک کا پہلا پارلیمانی آئن نافذالعمل ہوا تب ڈالر 4.77 روپے تھا ڈالر کی یہ قیمت بھی کئی سال مستحکم رہی 1970-71 میں ڈالر کی قیمت 5 روپے سے معمولی زیادہ تھی

 سقوط ڈھاکہ بعد 1972 میں ڈالر کی قیمت میں 73.6 فیصد اضافہ ہوا ایک ڈالر 8.86 روپے ہوگیا تھا 1973 میں ڈالر کی قیمت 9.10 روپے ہوگئی تھی پھر 9 سال 1981 تک مستحکم رہی جبکہ اس دوران ملک میں امریت نافذالعمل ہوی مجموعی قرضے بڑھنے لگے اور شرح سود کے شرائط نے ہماری خارجہ پالیسی متاثر کر دی 1981 میں ڈالر کی قیمت میں 9.95 فیصد اضافہ ہوا ایک ڈالر 11.89 روپے کا ہوگیا تھا   1982 کے بعد ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہا 1983 میں ڈالر 13.58 روپے ہوگیا تھا  1986 میں 16.64 روپے 1987 میں 17.39 روپے اور 1988 میں جب صدر ضیاہ الحق ہیلی کاپٹر حادثے میں فوت ہوگئے تو ڈالر 18.003 روپے تک پہچ گیا یعنی 1983 سے لیکر 1988 تک ڈالر کی قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ضیاہ الحق کے مجموعی گیارہ سال حکومت میں ڈالر کی مجموعی اضافہ 81.81 فیصد رہا حالانکہ اس وقت افغان جہاد کیلئے آمریکہ بڑی مقدار میں پاکستان کو فنڈ دیتا رہا

1988 سے لیکر 1999 تک بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی دو دو بار حکومتیں آئیں اس دوران بھی ڈالر کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر اضافے کا رجحان رہا ہے 1989 میں ڈالر کی قیمت 20.54 روپے تھی جو 1990 میں بینظیر بھٹو حکومت کے خاتمے تک بڑھ کر 21.70 روپے ہوگیا  بھٹو کے اس 18 ماہ کے حکومت میں ڈالر کی قیمت میں 20.55 فیصد اضافہ ہوا بینظیر بھٹو نے ملک میں ایگری کلچر اور صنعتوں کو بڑھانے  کیلئے عالمی کمپنیز کو پاکستان لانے کیلئے بڑے فیصلے کئے اکثر کمپنیز پاکستان آنے پر آمادہ ہوئی تو اس دوران حکومت کو برخاست کردیا گیا 

پھر تین عبوری حکومتوں کے بعد جب نواز شریف برسراقتدار ہوئے تو 1991 میں ڈالر کی قیمت 23.800 روپے 1992 میں 25.0825  تھی نواز شریف نے ملک میں موٹر ویز کی جھال بچھائی,یونی ورسٹیز قائم کی ملٹی نیشنل کمپنیز کو پاکستان میں کام کرنے پو آمادہ کیا مگر ان کا یہ خواب ادھورا رہ گیا کیونکہ 1993 میں اس وقت کے صدر نے انہیں اقتدار سے ہٹایا تو تین ماہ بعد جب پھر بینظیر بھٹو کی حکومت بنی تب ڈالر 28.1027 روپے ہوگیا تھا یعنی ڈالر کی قیمت میں 29.64 فیصد اضافہ ہوا 1994 میں ڈالر کی قیمت 30.56 روپے ہوگئی تھی جبکہ 1995 میں ڈالر 31.65 روپے ہوگیا 1996 میں جب بھٹو کی حکومت برخاست کی گئی تو ڈالر 36.078 روپے تک پہنچ گیا تھا اس دوران ڈالر کی قیمت میں 28.27 فیصد اضافہ ہوا

تین ماہ عبوری حکومت کے بعد جب نواز شریف پھر برسر اقتدار ہوے تو 1997 میں ڈالر کی قیمت کو پر لگ گیا ایک ڈالر 41.15 روپے ہوگیا تھا  صرف ایک سال میں 13.97 فیصد اضافہ ہوا 1998 میں ڈالر 45.60 اور 1999 میں جب نواز شریف حکومت کی چھٹی کردی گئی تب ایک ڈالر 51 روپے تھا اس دوران ڈالر کی قیمت میں 42 فیصد اضافہ ہوا

واضح رہے نواز شریف کے اس دور حکومت میں پاکستان اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت بن گیا  تھا پاکستان پر معاشی پابندیاں لگائی گئی بیرونی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی اساسے منجمد کرنے پر ڈٹی رہی مگر نواز شریف نے حب الوطنی کا بھر پور ثبوت دیکر سارا دباؤ پس پشت ڈال دیا اور پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا

یوں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے گیارہ سالہ حکومت میں ڈالر 18 روپے سے بڑھ کر 51 روپے ہوگیا ان گیارہ برسوں میں ڈالر کی قیمت  185 فیصد بڑھ گئی تھیں

اکتوبر 1999 میں مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا اور خود صدر بن گئے  2001 میں ڈالر کی قیمت 63.5 روپے ہوگئی یعنی اس دوران ڈالر کی قیمت میں 23.63 فیصد اضافہ ہوا 2001 میں نائن الیون کے بعد پاکستان کو آمریکہ سے امداد  ملنا شروع ہوا  2002 میں ڈالر کی قیمت کم ہوکر 60.5 روپے تک پہنچ گئی 2005 میں ڈالر مزید کم ہوکر 59.7 روپے ہوگیا 2006 میں جب سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا تو ڈالر کی قیمت 60.4 روپے 2007 میں ڈالر 60.83 روپے ہوگیا تھا مشرف کی 8 سالہ حکومت میں ڈالر کی قیمت قدرے مستحکم رہی اس کے بعد ڈالر کے قیمت بڑھتی رہی 

2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کے ایوان پر پہنچ گئی تو ڈالر نے اونچی اُڑان بھر لی ڈالر کی قیمت 60.83 سے بڑھ کر 78 روپے ہوگیا یعنی پی پی پی کے پہلے سال حکومت میں ڈالر کی قیمت میں 22.19 فیصد اضافہ ہوا 2009 میں ڈالر 84 روپے ہوگیا اس سال ڈالر کی قیمت میں 7.69 فیصد اضافہ ہوا 2010 میں ایک ڈالر 85.75 روپے اور 2011 میں 88.6 روپے ہوگیا 2012 مین ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی ایک ڈالر 98 روپے ہوگیا یہی نہیں 2013 میں ڈالر کی قیمت 108 روپے تک پہنچ گئی تھی

یوں 2007 میں ڈالر کی قیمت 60.64 روپے تھیں جو پیپلز پارٹی حکومت کے خاتمے تک بڑھ کر 108 روپے ہوگیا یعنی اس دوران ڈالر کی قیمت میں 78 فیصد اضافہ ہوا 2013 مین جب مسلم لیگ نون کی حکومت بنی تو 2014 میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بڑی مہارت سے ڈالر کی قیمت 108 سے کم کر کے 103 روپے کردیا نومبر 2015 میں ڈالر کچھ دنوں کیلئے 105 روپے ہوگیا مگر دسمبر 2016 میں ایک ڈالر 104 روپے ہوگیا 2018 میں ڈالر کی قیمت بڑھ کر 115.20 روپے ہوگئی جو اب 156 روپے ہوگئی پاکستان تحریک انصاف کے دس ماہ حکومت کے دوران ڈالر کی قیمت 36.52 فیصد بڑھی

کرہ ارض میں جب بھی سیاسی استحکام رہا ہے تو ڈالر کی قیمت بھی مستحکم رہی ہے مگر جہاں کہیں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا ہے وہاں ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے تو ملکی معشیت کو مضبوط کرنے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام لازمی ہے

بشکریہ اردو کالمز