410

ماں! تم بن ادھورا ہوں میں


امی جی کو گزرے دو دھائیوں سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے۔ مگر کل ہی کی سی بات لگتی ہے۔ وقت شاید رک سا گیا ہے۔ یہ 5 محرم الحرام، 1420 ھ کی بے رحم شام تھی۔ ابھی شامِ غریباں میں چند روز باقی تھے مگر ھمارے پہ کربلا گزر چکی تھی۔۔۔

میں اُن دِنوں بطور کپتان جونیئر سٹاف کورس اور مڈ کیریئر کورس  کے لیے نوشہرہ کینٹ میں موجود تھا۔ پہلے کورس کے اختتام پہ میں ایک ہفتے کی چھٹیوں پہ راولپنڈی میں واقع اپنے گھر پہنچا۔ سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ھمارا چھوٹا سا گھر امی جی کی بدولت کسی جنت سے کم نہ تھا۔

میرے گھر پہنچنے پہ ان کا چہرہ دمک اٹھتا اور آنکھوں میں چمک نمایاں ہوتی۔ جب وہ میرے ماتھے کو پیار سے چومتیں تو ممتا کی تاثیر روح تک ایسے اترتی کہ سفر کی تھکان فوراً ہی اتر جاتی۔ پھر ان کی دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوتا تو رکنے کا نام ہی نہ لیتا۔

میں ہر دفعہ ان کو سرپرائز دینے کی  غرض سے بغیر اطلاع دیئے ہی گھر پہنچ جایا کرتا۔ چائے اور کھانے پہ اپنی من پسند چیزیں دیکھتا تو امی جی مسکرا رہی ہوتیں۔ ناجانے ان کو کیسے معلوم ھو جایا کرتا کہ ان کا "بلالی" (وہ مجھے پیار سے بلالی پکارا کرتی تھیں) ان سے ملنے آ رہا ہے۔ بھابھیاں مجھے بتایا کرتیں کہ امی جی صبح سے ہی ھمیں خبردار کر دیتیں کہ آج بلالی نے آنا ھے اس لیے اس کی پسند کا کھانا تیار کر لو۔ 

ھفتے بھر کی چھٹیاں اپنے اختتام کو تھیں، دل اداس تھا۔ شام کو ھم چاروں بھائی امی جی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک امی جی کے ہونٹ سفید ہو گئے۔ میں نے کہا امی جی آپ ٹھیک تو ہیں تو انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ سب ٹھیک ہے۔ وہ ماں تھی نا اس لیے اپنا درد بھی بچوں سے چھپا لیا۔ وہ اس وقت دل کے دورے سے گزر رہی تھیں، مگر اپنے درد کا ذکر تک نہ کیا۔ ان کی حالت دیکھ کے ھم ان کو لیکر قریبی اسپتال بھاگے۔

 وہ ویل چیئر پہ تھیں۔ درد کے باعث وہ گاڑی میں نہیں بیٹھ پا رہی تھیں تو میں ان کی ویل چیئر کو ھی دوڑاتا ھوا اسپتال کی طرف بھاگا۔ چھوٹا بھائی میرے ساتھ اور باقی دو بھائی گاڑی میں آہستہ آہستہ پیچھے آ رہے تھے۔ ابھی غالباً پانچ سو گز ہی گزرے ھوں گے کہ انھوں نے اشارے سے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے دل کے دورے کی تصدیق کر دی اور امی جی کو اسپتال میں داخل کر لیا۔ رات گئے امی جی کی طبیعت سنبھل گئی۔

جب وہ بولنے کے قابل ہوئیں تو میں نے ناراضی کا اظہار کیا کہ آپ نے اپنی تکلیف کا ذکر کیوں نہیں کیا تو وہ صرف اتنا بولیں کہ بس تم نے پریشان نہیں ھونا میں اب بالکل ٹھیک ھوں۔ لیکن میں جانتا ھوں کہ امی جی کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے اپنی تکلیف ظاہر نہیں کرتی تھیں۔

پھر میں نے کہا امی جی آپ ویل چیئر پہ تھک گئی تھیں شاید تبھی آپ گاڑی میں بیٹھ گئیں تو وہ بولیں نہیں میں نہیں تھکی تھی میرا بلالی تھک گیا تھا اس لیے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ اس وقت میں ان کے پاؤں پکڑ کر خوب رویا کہ اس تکلیف میں بھی ان کو اپنے بیٹے کی پھولتی سانس اور تھکاوٹ کی فکر تھی۔ مائیں آخر ایسی کیوں ہوتی ہیں؟؟؟

اسی لیے تو کہتا ھوں کہ ماں! تم بن ادھورا ھوں میں۔۔۔

1995 میں امی جی کو فالج کا حملہ ہوا تو جسم کے بائیں حصے نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ میں ان دنوں لاھور میں تعینات تھا۔ بڑی ھمشیرہ نے فون کر کے مجھے چھٹی لے کر گھر آنے کا کہا۔ میں راولپنڈی میں اپنے گھر پہنچا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ امی جی کو فالج کا حملہ ھوا ھے۔ میں رو پڑا تو انھوں نے مجھے گلے لگا کر تسلی دی۔ میں فوراً امی جی سے ملنے اسپتال گیا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ میں مسلسل رو رہا تھا تو وہ اپنا دایاں بازو ہلا کر مجھے دکھاتی رہیں کہ دیکھو کچھ بھی نہیں ھوا۔ ان کو بولنے میں دقت ہو رہی تھی تو اشارے سے کچھ کہا تو بھائی نے سمجھایا کہ امی جی کہہ رہی ہیں کہ فوجی ھو کے رو رہے ھو۔ میں نے کہا کہ کیا کروں فوجی کو تو میں لاھور چھوڑ کے آیا ھوں یہاں تو صرف امی جی کا  بلالی آیا ھے۔۔۔

امی جی کا بہتر سے بہتر ڈاکٹر سے علاج کروایا۔ ھم ان کی صحتیابی اور دوبارہ سے اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے کی دعا کرتے رہے۔ پھر ایک وقت یہ آیا کہ ھم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور صرف یہ دعا کرتے کہ ھمارے سر پہ امی جی کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھنا۔  

1997 میں میری تعیناتی سیاچن ہوئی تو میں چھٹی لیکر گھر آگیا کیونکہ سیاچن تک کا سفر راولپنڈی سے ہی شروع ہونا تھا۔ امی جی کی بیماری کو مدِنظر رکھتے ہوئے ھم نے ان کو یہ بتایا مناسب نہیں سمجھا کہ میں سیاچن جا رہا ہوں۔ جس صبح میں نے دیگر کورس میٹس کے ساتھ گلگت روانہ ہونا تھا تو وہ امام ضامن تھامے میری منتظر تھیں۔ مجھے امام ضامن باندھ کر پیار کیا اور ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۔ اس دفعہ بھی ھمارے بتائے بغیر ان کو معلوم تھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ اِس حس سے بھی اللہ تعالیٰ نے صرف ماں کو ہی نوازا ہے۔ 
 
ماضی کے دریچوں کو کھولوں تو دھندلے سے منظر میں بھی امی جی کا چہرہ نمایاں نظر آتا ھے۔ امی جی کی انگلی پکڑ کر ھم ساتوں بہن بھائی اسکول گئے۔ وہ ھم سب بہن بھائیوں کو ھم نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں مدد کرتیں۔ یہی وجہ ھے کہ ھم سب بہن بھائی تقریری اور دیگر مقابلوں خصوصاً مشاعروں میں انعامات حاصل کرنے میں کامیاب ھوتے۔ 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کے ھاتھ میں جو ذائقہ دیا تھا اس کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔ ان کے ہاتھ کے بنے ہوئے کوفتے، شامی کباب، پلاؤ، دلیم، بھنڈی، کریلے، گھیا کدو اور میٹھے میں چنے کی دال کا حلوہ میری کمزوری تھی۔ ایک تو امی جی کے ہاتھ میں ذائقہ تھا تو دوسری طرف وہ غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلا کر سکون اور خوشی محسوس کرتیں۔ مہمانوں کو وہ اللہ کی رحمت سمجھتیں اور ان کی خوب آو بھگت کرتیں۔

جب میں جونیئر کیڈٹس اکیڈمی، منگلا اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں بطور کیڈٹ تربیت حاصل کر رہا تھا تو ان کے ہاتھ کے بنے ھوئے مزیدار حلوے خوب مزے لے کر نہ صرف خود کھاتا بلکہ یار دوستوں کو بھی کھلاتا۔ دورانِ تربیت جب میں منگلا اور کاکول سے گھر آتا تو ویک اینڈ پہ میری پسند کا خاص خیال رکھا جاتا۔ 

اپنی وفات سے تقریباً دس روز قبل ہی انھوں نے اپنی بہو پسند کر لی تھی اور میرے نوشہرہ میں جاری کورس کے دوران ہی ایک دن میری منگنی کر ڈالی مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انھیں اتنی مہلت نہ دی کی وہ اپنے بلالی کے سر پہ سہرا دیکھ سکیں۔ 

امی جی کی بیماری اور اسپتال داخلے کی وجہ سے مجھے دورانِ کورس ایک دن کی اضافی چھٹی مل گئی۔ چھٹی کے اختتام پہ میں واپس نوشہرہ پہنچ گیا مگر دل امی جی کے پاس ہی لگا ہوا تھا۔ 

میں اگلے ہی دن کلاسز لینے کے بعد راولپنڈی آ گیا۔ سیب کا تازہ جوس لے کر سیدھا اسپتال پہنچا۔ امی جی کی مسکراہٹ سے ہی تھکاوٹ دور ہو گئی۔ ان کی طبیعت دیکھ کر دل مطمئن بھی ہوا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے ان کو جوس پلایا۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے مجھے آرام کرنے زبردستی گھر بھیج دیا میں بھی گھر آ گیا کہ رات امی جی کے ساتھ اسپتال میں رکوں گا۔ ابھی گھر آئے ھوئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا ہو گا کہ بھائی کا فون آگیا۔۔۔۔

امی جی شاید مجھ سے ملنے کا ہی انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔مغرب ہو چکی تھی۔۔۔۔آسمان پہ لالی تھی۔۔۔۔ھماری شامِ غریباں ہو چکی تھی۔ 

شام  ڈھلے  اک  ویرانی سی  ساتھ مرے  گھر  جاتی  ہے
مجھ سے پوچھو اس کی حالت جس کی ماں مر جاتی ہے

یہ کہانی صرف میری نہیں بلکہ  لاکھوں کروڑوں انسانوں کی ھے کہ مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ ان کی محبت کا انداز مختلف ہو سکتا ہے مگر میعار نہیں۔

وقت واقعی رک سا گیا ھے۔۔۔ آج تیئیس سال بعد بھی لگتا ھے کہ میں اسپتال کے اسی کمرے میں موجود ھوں جہاں امی جی نے ماتھے پہ مجھے آخری بوسہ دیا تھا۔۔۔امی جی کا ماتھے پہ یہ بوسہ پہلے تو مجھے مکمل کر دیتا تھا مگر اب کی بار یہ بوسہ مجھے ادھورا کر گیا۔۔۔۔

لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان (ریٹائرڈ)
5 محرم الحرام، 1444 ھ
کراچی

ایک دفعہ سورة الفاتحة اور تین مرتبہ سورة الاخلاص پڑھ کر دعائے مغفرت کی التماس ہے۔

بشکریہ اردو کالمز