418

زخم اب بھی تازہ ہیں۔۔۔

بیٹا جلدی سے اٹھو اور اسکول جانے کی تیاری کرو۔۔۔۔ امی آج سردی بہت ہے مجھے اسکول سے چھٹی کرا دیں۔۔۔۔ میری جان، اب تو سردیوں کی چھٹیاں ہونے ہی والی ہیں پھر خوب آرام کرنا۔۔۔۔ اچھا اٹھتا ہوں مگر اس شرط پہ کہ آج آپ مجھے اسکول سے لینے خود آئیں گی اور مجھے اپنے ہاتھ سے چاکلیٹ بھی کھلائیں گی۔۔۔۔ اچھا بابا، ٹھیک ہے میں خود لینے آؤں گی اپنے لعل کو اور آپ کی پسند کی چاکلیٹ بھی لاؤں گی۔۔۔۔ پکا وعدہ؟؟؟؟ جی بالکل پکا وعدہ۔۔۔۔ یہ 16 دسمبر 2014 کی ایک بے رحم صبح تھی جب ایک ماں نے اپنے لختِ جگر کو اسکول سے واپسی پر خود لینے کا وعدہ کیا۔۔۔۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے وعدہ وفا کرنے پہنچ گئی۔۔۔۔ مگر اس کے لختِ جگر کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔ وعدہ تو پورا ہوا مگر آدھا کہ ماں اب چاکلیٹ کس کو کھلاتی۔۔۔ کہتے ہیں وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے۔ مگر سانحہ پشاور کے دیئے ہوئے زخم سالوں بعد بھی پہلے جیسے تازہ ہیں۔ زخم شاید بھر بھی جاتے ہیں مگر اپنا نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔ البتہ یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا منفرد زخم ہے جو صرف نشان ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ پوری ایک داستان بھی چھوڑ گیا ہے۔۔۔۔ بقول شاعر ؎ وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے آج شہداء پشاور کی یاد میں عجب کیفیت ہے کہ آنکھ بھی پرنم ہے اور دل بھی رو رہا ہے۔ اس قومی سانحہ پر پوری قوم ہی سوگوار ہے تاہم معصوم بچوں کے بچھڑنے کا اصل دکھ تو وہ والدین ہی سمجھ سکتے ہیں جن کے ناتواں کاندھوں نے پھولوں جیسے نازک بچوں کے بھاری بھرکم تابوت کا وزن سہارا ہو۔ گویا یہ سچ ہے کہ تابوت جتنا چھوٹا ہوتا ہے اتنا ہی بھاری بھی۔ ان ننھے فرشتوں کو ہم کبھی بھی بھلا نہ پائیں گے، مگر آج ان کی برسی کے موقع پر ان کی یاد مزید تازہ ہو گئی ہے کہ وہ دن بھی گویا کسی داستانِ کربلا سے کم نہ تھا۔ چھ سالہ خولہ آنکھوں میں کئی خواب سجائے بہت خوش تھی کہ اسکول میں اس کا پہلا دن تھا مگر وقت کی ایسی ستم ظریفی کہ وہی اس کی زندگی کا آخری دن بھی ثابت ہوا۔ آٹھویں جماعت کے عزیر علی میں علی المرتضی کی سی بہادری آمڈ آئی وہ کود کر اپنے دوست کو بجانے کی خاطر اس کے اوپر لیٹ گیا، گیارہ گولیاں کھا کر اس نے اپنے دوست کو تو بچا لیا مگر اس منظر کو دیکھنے والوں کو جیتے جی مار ڈالا۔۔۔۔اس نفسانفسی کے عالم میں بھی چودہ سالہ فہد حسین نے اپنے اوسان خطا نہ ہونے دیئے اس نے دروازہ پکڑ کر دوستوں کو باآسانی کلاس سے باہر نکلنے میں مدد کرتے کرتے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ اس دن 144 شہداء میں چھ سالہ معصوم بچی سے لیکر چونسٹھ سالہ پرنسپل طاہرہ قاضی، کئی استاتذہ، لیب اسسٹنٹ، کلرک، ڈرائیور، گارڈ اور مالی شامل تھے۔ ان میں سے کئی لوگ اپنی جانیں بچا سکتے تھے مگر پرنسپل طاہرہ قاضی اور ان جیسے اور بہت سے بڑوں اور بچوں نے ننھے فرشتوں کے ساتھ ہی شہادت حاصل کرنے کو بھاگ کر جان بچانے پر فوقیت دی۔ دشمن ایسی قوم کو کیسے ڈرا اور ہرا سکتا ہے جس کا ہر بچہ اس ملک کا سپاہی ہے۔ یقیناً شکست ان دہشتگردوں کا مقدر ہے۔ زخم اب بھی تازہ ہیں۔۔۔ آج بھی کسی شہید بچے کے کمرے میں رکھا خون آلود بستہ اس کے بہن بھائی کو اس کی یاد دلاتا ہو گا، کسی ماں کے لاڈلے کی آرٹ بک ایک ادھوری تصویر سمیت جو کبھی رنگارنگ تھی اب صرف لال رنگ سموئے میز پہ سجی ہو گی، کسی ننھی پری کی بارود سے اٹی اسکول ڈائری کل کے کام کے ورق سمیت اس کی گڑیا کے ساتھ ہی رکھی ہو گئی، کسی باپ نے اپنے بٹوے میں اب بھی اپنے شہزادے کا اسکول کارڈ رکھا ہو گا، کسی ماں کیلئے ننھی کلی کا خون آلود ہیئر کلپ ہی اس کا سارا سرمایہ ہوگا۔ اور ان جیسی بےشمار چیزیں ہوں گی جو اب صرف ایک یاد بن کر رہ گئی ہیں۔ اس اولاد کے بچھڑنے کا غم کیسا ہوگا کہ جس کی چھوٹی سی تکلیف بھی ہم سے برداشت نہیں ہوتی۔ زخم اب بھی تازہ ہیں۔۔۔۔ یہ ہمارا روشن مستقبل تھا جو اس تاریک دن کی نذر ہو گیا۔ آئیں آج ہم عہد کریں کہ ان ننھے فرشتوں کی شہادت کا بدلہ ہم روشن پاکستان کی شکل میں لیں گے۔ تعلیم اور شعور کو عام کریں گے۔ دشمن کے بچوں کو بھی تعلیم سے آراستہ کریں گے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایسے تاریک دن نہ دیکھ پائیں۔ مگر زخم اب بھی تازہ ہیں۔۔۔۔

بشکریہ اردو کالمز