1318

ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کی کتاب فوجیانہ مزاح پہ تبصرہ

کہاں فوجی اور کہاں مزاح۔۔۔
یہ وہ عام تاثر ھے جو لوگوں کے ذھنوں میں عموماً پایا جاتا ھے۔ اور اس تاثر کو تقویت دینے میں ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کے پیٹی بند بھائی سب سے آگے ھیں۔

جی ہاں میں بات کر رہا ھوں واہگہ بارڈر پر تعینات پاکستان رینجرز پنجاب کے چاق وچوبند دستے کی۔ لمبی لمبی مونچھوں، سنجیدہ چہروں، شعلہ اگلتی آنکھوں اور گرجدار لب و لہجہ رکھنے والے ساڑھے چھ فٹ لمبے فوجی جو سروں پہ سجے پگڑ سمیت ساڑھے سات فٹ سے بھی لمبے دکھائی دیتے ھیں۔ اب ان کا رعب اور دبدبہ ھوتا تو ھے سرحد پار والوں کے لیے مگر ان کی باڈی لینگویج سرحد کے اندر رھنے والوں کے ذھنوں پر بھی ھم تمام فوجیوں کا ایک جیسا ھی تاثر قائم کر دیتی ھے۔ یوں ھم فوجیوں کی بیگمات کے علاوہ سب ہی ھم سے سہمے ھوئے رہتے ھیں۔

 اب جبکہ اس تاثر کہ فوجی حضرات تو  ھوتے ھی غصے اور نخرے والے ھیں اور حسِ مزاح تو ان کو چھو کر بھی نہیں گزری کو تقویت پاکستان رینجرز پنجاب نے دی ھے، تو اس کے ازالے کے لیے بھی رینجرز کا ایک باوردی نوجوان جس کے چہرے پہ طمانیت اور بھولا بن، لبوں پہ تبسم، آنکھوں میں امید، لہجے میں شائستگی، گفتار میں چاشنی، مزاج میں شگفتگی اور قلم میں روانی ھے یہ ذمہ داری بخوبی نبھاتا ھے۔ 

ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ سے میری شناسائی سنہ 2019 میں ھوئی۔ تب یہ آدھے ڈاکٹر تھے اور "فوجیانہ مزاح" بھی نامکمل تھی۔ اب سنہ 2022 میں مکمل کتاب جوئیہ صاحب کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی سند کے طور پہ میرے ھاتھ میں موجود ھے۔ میں ڈاکٹر صاحب کا شکر گزار ھوں کہ انھوں نے اس ناچیز کو کتاب دوست جانا اور پر خلوص جملوں اور اپنے دستخط کے ساتھ یہ کتاب مجھے ارسال کی۔ 

میں نے بھی خلافِ معمول ایک ھی نشست میں کتاب پڑھ ڈالی۔ کتاب مزاح کے حوالے سے ھے مگر اس کے انتساب میں شامل ایک جملے "پتر تیری کتاب کدوں چھپے گی" نے مجھے اور یقیناً تمام قارئین کو بھی اداس کر دیا ھو گا۔ ڈاکٹر صاحب کی ماں کی دعا سے کتاب تو چھپ گئی اور اسے پذیرائی بھی خوب ملی مگر دعا دینے والی ماں کی زندگی نے وفا نہ کی کہ وہ اپنے پتر کی پہلی کتاب دیکھ پاتیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ماں جی کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ 

شاعروں اور ادیبوں کے لیے لکھنا لکھانا تو ایک عام سی بات ھے۔ شاعر کو آمد ھوتی ھے، وہ قلم اٹھاتا ھے ایک شعر تو کیا پوری غزل ھو جاتی ھے۔ ادیب سفر پہ روانہ ھوئے تو ڈائری ھمراہ رکھ لی۔ ایک ایک دن کی کارگزاری اس میں درج کر لی۔ پھر فرصت کے لمحات میں ان تمام واقعات کو ترتیب سے الفاظ میں پرو دیا، پس سفرنامہ تیار۔ لیکن یہی ادیب جب تحقیق اور تنقید لکھنے کا ارادہ کرتا ھے تو کئی مرتبہ سوچتا ھے کہ یہ کام کیا جائے کہ نہ کیا جائے۔ وجہ یہ ھے کہ تحقیق میں غلطی اور تنقید میں معافی کی گنجائش نہیں ھوتی۔ یعنی ناقد کا منافقت سے پاک ھونا ضروری ھے۔ تحقیق و تنقید دونوں کام ھی اصعب ھیں۔ مگر  ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کی تکمیل میں ان باتوں کا خاص خیال رکھا اور بڑی محنت اور دیانتداری سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جس پہ وہ دادِ تحسین کے مستحق ھیں۔  

پرفیسر ڈاکٹر نجیب جمال نے شاندار دیباچہ لکھ کر پوری کتاب کا تجزیہ ایسے کر دیا کہ دریا بلکہ یوں کہیے کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ھے۔ 

بریگیڈیئر صولت رضا کی "کاکولیات" عسکری مزاح میں اپنا خاص مقام رکھتی ھے۔ ایسے منجھے ھوئے لکھاری جن سے میرا نیاز مندی کا بھی رشتہ استوار ھے کہ وہ میرے مرحوم والدِ محترم جناب انوار فیروز کے دوستوں میں سے تھے، اس کتاب پہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ھوئے ڈاکٹر صاحب کی شاندار کاوش کو اس موضوع پہ آئندہ تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک معتبر حوالہ قرار دیتے ھیں۔

کرنل محمد اشفاق حسین ایسے معروف مصنف نے اس کتاب کو ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کی سجائی ھوئی عسکری مزاح نگاروں کی ملن تقریب سے تشبیہ دی ھے۔ اور اس ملن کے چیدہ چیدہ عسکری مزاح نگاروں سے قارئین کی ملاقات بھی کروائی ھے۔ 

اسی طرح کرنل ڈاکٹر اسد محمود، ڈاکٹر احمد حسین ہادی، بریگیڈیئر ڈاکٹر صفدر علی شاہ اور غلام اصغر بلوچ نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ھوئے ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کی کاوشوں کو سراہا۔

شفیق الرحمٰن، کرنل محمد خان، سید ضمیر جعفری اور بریگیڈیئر صدیق سالک کی مزاح نگاری کے بعد کرنل اشفاق حسین کی جنٹلمین سیریز کی تین کتابیں عسکری مزاح میں اپنا خاص مقام رکھتی ہیں۔ جوئیہ صاحب نے کتاب کے آغاز میں ھی کرنل اشفاق حسین صاحب کی تحاریر پہ تحقیقی و تنقیدی جائزہ اس خوبصورت انداز سے لیا ھے کہ جو لوگ اب تک ان بہترین کتب کے مطالعہ سے محروم تھے وہ ان کتب تک رسائی حاصل کرنے کی تگ و دو ضرور کریں گے۔ جوئیہ صاحب نے کرنل اشفاق حسین کی شگفتہ بیانی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی غرص سے ان کی کتب سے ایسے جاندار اقتباسات کا چناؤ کیا ھے جو جزو تحریر کے ساتھ ایسے منسلک ھو جاتے ھیں گویا وہ اقتباسات جوئیہ صاحب کی فرمائش پہ ھی ضبطِ تحریر میں لائے گئے ھیں۔

ھفت روزہ "ھلال" کے قارئین تو پہلے سے ھی صوبیدار محمد خالد کی ظرافت کے معتقد ھیں البتہ جوئیہ صاحب کی کاوشوں کی بدولت ان کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا۔ بقول جوئیہ صاحب، صوبیدار صاحب کا اسلوب پختہ اور انداز مزاحیہ ھے۔ وہ اپنی تحاریر میں اشعار کی پیروڈی سے مزاح کے رنگ بھی بھرتے ھیں:-
"جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دال چلے"۔

جوئیہ صاحب نے اپنی کتاب میں صوبیدار مقرب آفندی مرحوم کو ایسا مزاح نگار مانا ھے جو بیک وقت سیف و قلم کے میدان میں مہارت رکھتے تھے۔ آپ کی شاعری میں وطن سے محبت کی عکاسی کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کا حسین امتزاج بھی پایا جاتا تھا۔ وہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں پائے جانے والے بگاڑ پہ ظنز و تنقید کرتے تو اس میں بھی خیر کا پہلو نمایاں ھوتا۔ جوئیہ صاحب کی تحقیق و تنقید سے یہ بات عیاں ہوتی ھے کہ آفندی صاحب کے زبان و بیان میں سادگی اور روانی بدرجہ اتم موجود تھی اور وہ فن تحریف نگاری میں بھی کمال مہارت رکھتے تھے۔ آپ کی کتاب "بارود کی خوشبو" اردو مزاح میں ایک معتبر حوالہ ھے۔

کرنل محمد خالد خان مہر کے بارے میں پڑھا تو ماضی کے دریچوں سے ٹھنڈی ھوا کے جھونکے چہرے پہ تبسم بکھیر گئے۔ تین دھائیوں قبل ھم جونیئر کیڈٹس اکیڈمی منگلا کینٹ میں کیپٹن خالد خان مہر سے شہریت کا مضمون پڑھا کرتے تھے۔ ھم تو بطور کیڈٹ بھی ان کی حسِ مزاح کے معترف تھے۔ بعدازاں ھفت روزہ "ھلال" ان کی پر مزاح تحاریر سے سجا ھوتا تو ھم بھی اس سے محظوظ ہو لیتے۔ جوئیہ صاحب کے مطابق آپ ایسے سخن ور ھیں جو نثر اور نظم دونوں میں کمال مہارت رکھتے ھیں۔ آپ کے مجموعہ کلام "پابہ گل"، "اناپ شناپ" اور " گلاب رہنے دو" کے بعد آپ نے اپنے مزاحیہ مضامین کو یکجا کر کے ایک کتاب شائع کروائی اور اسے "خاکی لفافے" کا نام دیا۔ اس کتاب کو اردو ادب اور عسکری مزاحیہ ادب میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ پس یوں سمجھ لیجئے کہ صرف لفافہ ھی خاکی تھا اس کے اندر موجود ھر تحریر اپنے اندر کئی کئی رنگ لیے موجود تھی۔ 

ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کی تحقیقی و تنقیدی جائزے سے یہ بات آشکار ھوئی کہ صوبیدار افضل تحسین کرداری مزاح کے بےتاج بادشاہ تھے۔ آپ کی طبیعت اور مزاج میں مزاح کوٹ کوٹ کے بھرا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کی بے مثال شاعری سے بہت سے اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کیے۔ آپ نے فوج کے تقریباً ہر کردار پہ ھی طبع آزمائی کی، یہی وجہ ھے کہ ان کے کردار ھمیں پاک فوج کے اندر عموماً نظر آ ھی جاتے ھیں۔ جوئیہ صاحب نے آپ کی نظم "لانگری نامہ" کا کچھ حصہ کتاب کی زینت بنایا ھے۔ اس نظم میں ایک لانگری کی ساری خصوصیات کو جناب افضل تحسین صاحب نے اس خوبصورت انداز میں یکجا کیا ھے کہ کبھی آپ کسی فوجی یونٹ کے لانگری کو دیکھیں تو آپ کو یہی محسوس ھوگا کہ یہ نظم اسی لانگری کے بارے میں لکھی گئی ھے۔  

ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ نے کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو انتہائی لطیف جذبوں کا مالک قرار دیا ھے۔ وہ لکھتے ھیں کہ کیپٹن ظفر نے راولپنڈی مقدمہ سازش کی اسیری کے دوران جو کچھ دیکھا اور جو کچھ ان پہ بیتا وہ سب ایمانداری سے مزاح کا تڑکا لگا کر اسے کتابی شکل دے ڈالی اور اس کو "زندگی زندہ دلی کا نام ھے" کے عنوان سے چھپوا لیا۔ یہ کتاب واقعاتی مزاح سے بھرپور ھے اور قارئین کو خوش رھنے کا سبق دے رہی ھے۔ مصنف نے تمام تر واقعات کو نرم لہجے میں بیان کیا ھے البتہ قارئین کو کہیں کہیں تیز، تیکھے اور نوکیلے جملے بھی پڑھنے کو مل جاتے ھیں۔

مرزا محمود سرحدی صاحب مشکل حالات کے باوجود زندہ دل انسان تھے۔ ڈاکٹر اسماعیل جوئیہ صاحب نے مرزا محمود سرحدی کے دو شعری مجموعوں کا ذکر کیا۔ ان کے دوسرے شعری مجموعے کا پیش لفظ میجر سید ضمیر جعفری نے تحریر کیا۔ مرزا صاحب کی شاعری میں قارئین کو طنز قدرے زیادہ ملتا ھے۔ انھوں نے بھی دیگر شعراء کی طرح اپنی شاعری میں پیروڈی کا استعمال کیا ھے۔ جوئیہ صاحب نے سرحدی صاحب کی مختلف موضوعات پہ شاعری کو اپنے مضمون کا حصہ بنایا ھے اور مرزا محمود سرحدی کو اردو کے اعلیٰ مزاح نگاروں کی صف میں شامل کیا ھے۔ 

جوئیہ صاحب کرنل اسد محمود خان کی تیسری کتاب "کپتان سے کیپ تان" کو زیرِ بحث لاتے ھوئے اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ھیں۔ وہ لکھتے ھیں کہ کرنل اسد نے کیڈٹ کہانی کو سادہ اور عام فہم انداز میں لکھا ھے۔ کرنل اسد کا شگفتہ اور دلکش انداز اور لفظی ھیر پھیر ان کی تحریر کی پہچان ھے۔ وہ قاری کی انگلی پکڑ کر پی ایم اے کے گیٹ سے کپتان بننے تک کا سفر ایسے کراتے ھیں کہ قاری کسی جگہ بھی انگلی چھڑانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ جوئیہ صاحب نے مضمون کے آخر میں ان کی گزشتہ کتب "کاکول پریڈ" اور "لاف ٹین" کا بھی تذکرہ کیا ھے جن کی بدولت کرنل اسد بھی صفِ اول کے عسکری مزاح نگاروں کے اسکواڈ کا حصہ بن گئے ھیں۔

لیفٹیننٹ کرنل سکندر بلوچ کی کتاب "سولجرنامہ" جو بنیادی طور پر ایک سفرنامہ ھے کے بارے میں جوئیہ صاحب کی رائے ھے کہ یہ نہایت لطیف اور دلچسپ انداز میں لکھی ھوئی کتاب ھے۔ اس میں مصنف نے پاکستان اور سعودی عرب کے رسم و رواج کا موازنہ کیا ھے۔ کرنل سکندر بلوچ نے دونوں ممالک کے حالاتِ زندگی کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کیا ھے۔ بقول جوئیہ صاحب مصنف کا اسلوب ان کے چھوٹے اور سادہ جملوں کی بدولت منفرد ھے۔ ان کی تحریر میں سادگی، روانی اور تازگی پائی جاتی ھے۔ وہ منظر نگاری میں بھی مہارت رکھتے ھیں جو کسی بھی سفر نامے کا خاصہ ھوتی ھے۔ اسی لیے کتاب "سولجر نامہ" ادبی اور مزاح کی دنیا میں ایک معتبر حیثیت رکھتی ھے۔

بریگیڈیئر گلزار احمد کی کتاب "تذکرۂ ایام" جو ان کی آپ بیتی ھے پہ ڈاکٹر اسماعیل جوئیہ کی تحقیق و تنقید لاجواب ھے۔ وہ مصنف کی منظر نگاری سے متاثر ھوئے ھیں۔ اس آپ بیتی میں مصنف نے کتاب میں اپنی پیدائش سے لیکر اپنی تعلیم اور سروس کا ذکر کیا ھے۔ جوئیہ صاحب کے مطابق ان کی تحریر میں اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان کا تڑکا بھی ھے۔ کتاب سے بہت ھی عمدہ اقتباسات چنے گئے ھیں۔ جوئیہ صاحب لکھتے ھیں کہ بریگیڈیئر گلزار نے سنجیدہ واقعات کو بھی مزاح کے پردوں میں لپیٹ کر پیش کیا ھے جس کی بنا پر ان کی آپ بیتی مزاح کا ایک حسین مرقع ھے۔

"تذکرۂ ایّام" کے بعد تذکرہ ھوتا ھے "آئینہ ایّام" کا۔ ڈاکٹر اسماعیل جوئیہ نے کرنل غلام سرور کی اس آپ بیتی پہ اپنے تحقیقی و تنقیدی جائزے میں ھمیں بتایا ھے کہ کرنل غلام سرور کا اسلوب دلکش و رنگین ھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے حالات و واقعات کو چلبلے انداز میں بیان کیا ھے۔ ان کی تحریر صاف گوئی پہ مبنی ھے۔ کتاب کو انتہائی سادہ مگر مزاحیہ انداز میں لکھا گیا ھے۔ کرنل صاحب نے اپنی تحریر میں شائستگی کا دامن نہیں چھوڑا مگر کہیں کہیں تعریض و تنقیص کا رنگ غالب ھے۔ جوئیہ صاحب نے کتاب سے ایسے اقتباسات اٹھائے ھیں جن میں لفظی ادل بدل، طنز و تضحیک، بزلہ سنجی اور کرداری مزاح کی مثالیں موجود ھیں۔ غرض کرنل صاحب کی پوری کتاب رنگا رنگ واقعات کا حسین امتزاج ھے۔

کتاب کے آخر میں تذکرہ ھے لیفٹیننٹ کرنل نجم نواز کی کتاب "بیتیاں" کے بارے میں۔ جوئیہ صاحب لکھتے ھیں کہ مصنف ان لکھاریوں میں سے ھیں جنھوں نے بہت کم لکھا مگر جو کچھ لکھا معیاری لکھا۔ اس کتاب میں زیادہ تر لوگوں کے خاکے ھلکے پھلکے انداز میں بیان کیے گئے ھیں۔ مصنف نے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ھے۔ ان کے لکھنے کا انداز خالصتاً اپنا ھے جس پہ کسی اور عسکری ادیب کی چھاپ نہیں۔ کرنل صاحب کو عارضۂ قلب لاحق تھا تو ان کے زیادہ تر واقعات ھسپتال کے متعلق ھیں۔ آپ کی تحریر میں برجستہ گوئی پائی جاتی ھے۔ آپ کی تحریر مبالغہ آرائی، چٹکلہ بازی، لطیفہ گوئی، پھکڑ پن اور ابتذال سے پاک ھے۔ جوئیہ صاحب نے لیفٹیننٹ کرنل نجم نواز کو ایک عمدہ عسکری مزاح نگار کا درجہ دیا ھے۔ 

ڈاکٹر اسماعیل جوئیہ نے پوری کتاب لکھنے پہ یقیناً بڑی محنت کی ھو گی۔ کسی بھی شخصیت کے بارے میں تحقیق اور تنقید کے لیے اس کے بارے میں ہر قسم کی معلومات کا حصول انتہائی ضروری امر ھے۔ اور جب کسی کی تحریر اور اس کے اسلوب کا جائزہ لینا ھو تو پھر اس تحریر کو صرف پڑھنا ھی کافی نہیں بلکہ تحریر کا باریک بینی سے مشاہدہ اور اس کو ھر پہلو سے پرکھنا بھی ضروری ھوتا ھے۔ 

اکثر ایک ھی تحریر میں آپ کو اسلوب کے مختلف رنگ اور زاویے دیکھنے کو ملتے ھیں۔ مزاحیہ تحریر میں بھی کہیں کہیں سنجیدگی کا عنصر پایا جاتا ھے۔ کہیں مزاح انتہائی سادہ اور لطیف ھوتا ھے تو کہیں اس میں طنز کا تڑکا بھی ملتا ھے۔ کہیں طنز میٹھی اور رس بھری تو کہیں کٹیلی اور کسیلی ھو جاتی ھے۔ اس لیے تنقید کے لیے پوری تحریر کو غور سے پڑھنا ضروری ھو جاتا ھے۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسے پہلو ھیں جن کو کسی بھی تنقیدی جائزہ لکھنے سے قبل جاننا انتہائی ضروری ھے۔ 

اسی طرح ھر لکھاری کا اپنا اندازِ بیان ھوتا ھے۔ کوئی ادیب کردار نگاری کا ماہر ھوتا ھو تو کسی کو منظر نگاری پہ عبور حاصل ھوتا ھے۔ کوئی واقعاتی مزاح کو حاصلِ تحریر بناتا ھے تو کوئی لفظی ھیر پھیر پہ یقین رکھتا ھے۔ کوئی مزاح میں لطفیہ گوئی کا قائل ھے تو کوئی سنجیدہ واقعات کو مزاح کا لبادہ اوڑھا دیتا ھے۔ کہیں انتہائی سادہ مزاح پڑھنے کو ملتا ھے تو کہیں ظنز کے نشتر اور الفاظ کے تیر بھی چلائے جاتے ھیں۔ 

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ تحقیق میں غلطی اور تنقید میں معافی کی گنجائش نہیں ھوتی تو ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ نے تنقیدی جائزے میں اس اصول کو ملحوظِ خاطر رکھا ھے۔ جہاں ان کو لگا کہ تحریر شائستگی کے میعار پہ پورا نہیں اتر رھی وہاں انھوں نے اس کا برملا اظہار بھی کیا ھے۔ 

جہاں تک عسکری مزاح نگاروں کے تعارف اور ان کے حالاتِ زندگی کے بارے میں تحقیق کی بات کی جائے تو میرا ذاتی خیال ھے کہ اس موضوع پہ مزید کام کی ضرورت ھے۔ ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ چونکہ اس موضوع پہ کام کر چکے ھیں تو میں سمجھتا ھوں کہ اگر وہ اس کارِ خیر کا بیڑہ اٹھا لیں تو ان کی تصانیف میں اضافہ بھی ھو جائے گا اور ھم ایسوں کو ان مزاح نگاروں کے بارے میں جاننے کو بہت کچھ مل جائے گا۔ عصرِ حاضر کے عسکری شعراء اور ادباء کرام کو ایک تیار شدہ سوال نامہ ارسال کر کے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ھیں۔ اسی سوال نامے کے آخر میں ان حضرات کا موجودہ اور مستقل پتہ، رابطہ نمبر، سماجی رابطے اور ای میل آئی ڈی کے کالم بھی شامل کر لیے جائیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے باآسانی رابطہ قائم کیا جا سکے۔ 

آخر میں میں ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کا ایک دفعہ پھر سے شکریہ ادا کرتا ھوں اور اس شاندار تحقیق و تنقید نگاری پہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ھوں کہ ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ اپنے منفرد اندازِ بیان کی بدولت ایک منجھے ھوئے محقق و نقاد کے طور پہ ابھر کے سامنے آئے ھیں۔ 

لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان (ریٹائرڈ)
23 اگست 2022
کراچی
0340 4303030
0333 4403030
abrarkhan30c@gmail.com

بشکریہ اردو کالمز