358

کرنیلیاں

عرفِ عام میں اس فوجی عہدے کو "سی او" کہا جاتا ہے۔ بہت سے نوجوان افسر، سردار صاحبان اور فوجی جوان شاید عنوان پڑھ کر ہی یس سر، یس سر کی گردان کے ساتھ تین چار مرتبہ سلیوٹ 'مار' (کر) چکے ہوں۔ اور خدانخواستہ کہیں یہ تحریر کسی صوبیدار میجر کی نظر سے گذر گئی تو وہ فوراً اپنے سب کام چھوڑ چھاڑ ڈائری کھول کر پورے دن کی رپور تاژ پیش کرنا شروع کر دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہ تنبیہ بھی کر رہے ہیں کہ حاضر سروس سیکنڈ ان کمانڈ (2IC)، کواٹر ماسٹر (QM)، مکینیکل ٹرانسپورٹ افسر (MTO) اور ایڈجوٹنٹ تو اس تحریر کو ایسے نظر انداز کریں جیسے حکومتیں عوام کو کہ یہ بے چارے افسران اپنے اپنے سی او کے ساتھ ہی گزارہ کر لیں تو کافی ہے۔ 

نیا نیا لیفٹین جب پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول سے کمیشن حاصل کر کے پلٹن یا رجمنٹ میں وارد ہوتا ہے تو اس کو سب سے پہلے سکھائی جانے والی باتوں میں سے ایک بات یہ ہوتی ہے کہ "سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے"۔ اور کم از کم چھ مہینے سی او کے سامنے آنا نہیں ہے۔ گویا سر پہ فوجی نہیں بلکہ سلیمانی ٹوپی پہن کے رکھنی ہے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی سے پاس آوٹ ہونے تک جو کیڈٹ اپنے آپ کو بڑا تیس مار خان سمجھتا ہے وہی کیڈٹ جب لیفٹین بن کے یونٹ پہنچتا ہے تو فوراً یہ جان لیتا ہے کہ فوج میں تیس مار خان صرف اور صرف "سی او" ہی ہوتا ہے بشرطیکہ وہ دفتر میں ہی ہو ورنہ گھر میں سی او سے بھی بڑے تیس مار خان بلکہ تیس مار خانم کی موجودگی پہ تو تمام فوجی حضرات کا کثرتِ رائے سے اتفاق پایا جاتا ہے کہ جس کے سامنے سی او کی حیثیت بھی بے چارے لیفٹین کی سی ہوتی ہے۔ 

اپنے زمانے کے ایک ایسے ہی تیس مار خان کیڈٹ، جو بعد ازاں بطور بریگیڈیئر ہمارے باس گزرے ہیں دفتر میں صرف بلیک کافی ہی نوش فرماتے تھے۔ ایک دن انھوں نے خود ہی چائے نہ پینے اور صرف بلیک کافی پہ اکتفا کرنے کی کہانی سنا دی۔ موصوف پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول سے فارغ التحصیل ہو کے یونٹ پہنچے تو وردی پہ لگے کلف کا اثر گردن تک آگیا۔ لیفٹینی کے زعم میں مبتلا وہ جیسے ہی سی او کے آفس میں پہنچے تو سی او کے رعب اور دبدبے کو دیکھ کر کلف صرف وردی پہ ہی رہ گیا اور سٹی ایسے گم ہوئی کہ یس سر، یس سر کے علاوہ سب کچھ ہی بھول گیا۔ رسمی بات چیت کے دوران میس ویٹر چائے لے کے حاضر ہو گیا۔ اب سیکنڈ لیفٹیننٹ اور سی او کے دفتر میں وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ کے چائے پیئے۔۔۔ مارے خوف کے لیفٹین کو کچھ نہ سوجھا تو کہہ دیا: "سر معافی چاہتا ہوں میں چائے نہیں پیتا"۔ اور یہ دعویٰ ان کو پوری سروس بلکہ سروس کے بعد بھی نبھانا پڑا کہ اب ان کو بلیک کافی کا چسکا پڑ چکا تھا۔ تو یہ ہوتا ہے سی او کا رعب اور دبدبا۔ وہ آج بھی اپنے اس سی او کو یاد کرتے ہیں۔ ویسے کافی اور چائے والے واقعے کو ایک طرف رکھ بھی دیں تو یہ بات تو طے ہے کہ ہر افسر کو اپنا پہلا سی او ہمیشہ ہی یاد رہتا ہے۔ جیسا کہ میرے پہلے سی او آجکل آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور تیس سال بعد بھی ان سے عزت و احترام کا رشتہ قائم ہے۔ یہ بات میں ببانگ دہل کہہ رہا ہوں کہ وہ اس مضمون میں کی گئی سی او کی کردار نگاری سے یکسر مختلف انسان ہیں۔ بطور سی او وہ انتہائی خوش مزاج، ملنسار، شفیق اور کھلے دل اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے اور آج بھی ایسے ہی ہیں۔ یقیناً ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ 

یونٹ میں تازہ تازہ وارد ہونے والا سیکنڈ لیفٹیننٹ جب پہلی بار سی او کے دفتر میں انٹرویو دینے جاتا ہے تو اس کے چہرے پہ خوشی اور ڈر کی ملی جلی سی کیفیت عیاں ہوتی ہے۔ خوشی تو شانوں پہ سجے لفٹینی کے پھولوں کی ہوتی ہے، مگر ڈر اور پریشانی کی کیفیت ایڈجوٹنٹ کو پریشان ہوتا دیکھ کر ہوتی ہے کہ وہ بھی سی او کے دفتر جانے سے پہلے دس مرتبہ اپنی وردی کو شیشے میں دیکھتا ہے ٹوپی اتنی بٹھا کے سر پہ رکھتا ہے گویا وہ سر کا ہی کوئی حصہ ہو۔ بہرحال ہر لیفٹین، سی او سے پہلے انٹرویو کے بعد دل میں یہی خواہش رکھتا ہے کہ وہ بھی اپنی یونٹ کا سی او بنے۔ مگر اپنی یونٹ کا سی او بننے کی خواہش سے حقیقت تک کا سفر نہ صرف طویل، مگر کٹھن اور دشوار بھی کہ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ کرنل تک کے اس سفر میں سولہ سترہ سال لگ جاتے ہیں۔ اس دوران کئی نشیب و فراز  کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کتنے ہی دشتوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے پھر کہیں جاکر سونا کندن بنتا ہے۔ 

ہاں تو بات ہو رہی تھی لیفٹین بادشاہ کی سی او سے پہلی ملاقات کی یا پہلی اور آخری ملاقات ہی کہہ لیں کیونکہ اس کے بعد لیفٹین اور سی او کا ٹاکرا عموماً سی او کی الوداعی تقریب پہ ہی ہوتا ہے جب لیفٹین صاحب سی او کی جیپ جس کو کسی دلہا میاں کی بگھی کی طرح سجایا گیا ہوتا ہے کے سامنے ایسے لڈی اور بھنگڑے ڈال رہے ہوتے ہیں جیسے سی او کی پوسٹنگ کی سب سے زیادہ خوشی انہی کو ہوئی ہے۔ حالانکہ اس خوشی میں اور بہت سے لوگ بھی شاملِ حال ہوتے ہیں۔ مگر فوجی سروس ان کو اتنی عقل دے دیتی ہے کہ وہ بھنگڑے اور لڈی گھر واپس پہنچ کر ڈالتے ہیں۔۔۔ 

ویسے سی او جب یونٹ میں کمانڈ کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے وہ ایک دربار منعقد کرواتا ہے جس میں وہ افسروں، سردار صاحبان اور جوانوں کو اپنی ترجیحات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس دربار  میں سی او عموماً جوانوں کی فلاح و بہبود کی بات کرتا ہے جبکہ حسبِ روایت افسر صاحبان کے لیے نظم و ضبط، وقت کی پابندی خاص طور پہ صبح جسمانی ورزش کے پیریڈ پہ حاضری کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ عموماً سی او خود تو اس جسمانی ورزش کے پیریڈ پہ تشریف نہیں لاتے لیکن اس پی ٹی پیریڈ پہ آنے کے لیے سی او کی نیند میں خلل اسی دن پڑتا ہے جس دن کم از کم دو سے تین افسران سردیوں میں رضائی اور گرمیوں میں ایئر کنڈیشنر کے ہاتھوں مجبور ہو کے بستر میں ہی دبکے رہتے ہیں۔ ویسے سی او کی غیر موجودگی میں سیکنڈ ان کمانڈ ان کی نمائندگی کے لیے عموماً لیفٹین بادشاہ سے بھی پہلے پی ٹی گراؤنڈ میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ "جاسوس" خفیہ طور پہ ان افسران پہ نظر رکھتے ہیں جن کے لیے اندھیرے منہ  پی ٹی پہ آنا دنیا کا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ مہینے کی پہلی غیر حاضری پہ ٹی بار میں ایک عدد ککڑ کی قربانی سے غیر حاضری کا کفارہ تو ادا ہو جاتا مگر دوسری غیر حاضری پہ سی او کی جانب سے سربمہر خاکی لفافے میں موجود "محبت نامہ" متعلقہ کلرک کے ذریعے افسر تک پہنچ جاتا ہے۔ عموماً یہ افسر لفافہ کھولنے سے پہلے ہی کلرک کو جوابی مراسلہ تیار کرنے کا حکم صادر فرما دیتے ہیں۔ کلرک تگڑا ہو تو وہ سی او کے محبت نامے کے ساتھ ہی ایک فائل کور میں افسر کا جوابی محبت نامہ بھی تیار کر کے لاتا ہے جس پہ صرف افسر کے دستخط ہی ہونا باقی ہوتے ہیں۔   

سی او کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی "خصوصیات" سے نوازا ہوتا ہے۔ سرکاری خط و کتابت میں اِملا کی غلطی ان سے کبھی نہیں بچ پاتی۔ ہمارے ایک سی او خط کو ہمیشہ الٹی طرف سے پڑھنا شروع کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح پڑھنے سے غلطی فوراً ہی پکڑی جاتی ہے۔ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی خط سی او کے دفتر سے سرخ رنگ کے نقش و نگار کے بغیر ہی واپس آ جائے۔ اور سی او جب کسی سرکاری خط کے اوپر اسٹاف افسر کے لیے Speak لکھ دے تو بے چارہ اسٹاف افسر جتنی مرضی تیاری کے ساتھ جائے سی او اس سے ہمیشہ ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے گا جس کا ریکارڈ تک تلف ہو چکا ہوتا ہے۔

یونٹ میں ٹیکنیکل انسپکشن کی تیاری ہو تو وہ چن کر ایسی گاڑی، ہتھیار یا آلات کا معائنہ کرتا ہے جس پہ نادانستہ طور پہ کوئی نہ کوئی کسر باقی رہ گئی ہو۔ یہی ماجرا ایڈم انسپکشن کے دوران پیش آتا ہے۔ فوجی جوان دن رات ایک کر کے پوری یونٹ کو کسی دلہن کی سجا دیتے ہیں لیکن سی او سیدھا جا کے ایسے کمرے کے آگے کھڑا ہوجاتا ہے جس کی مثال اس امتحانی سوال کی سی ہوتی جس کو طالب علم صرف اس لیے تیار نہیں کرتا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے کبھی بھی امتحان میں نہیں پوچھا گیا ہوتا مگر امتحان والے دن وہی سوال لازمی جزو کے طور پہ طالب علموں کے چھکے چھڑا دیتا ہے۔ 

سی او عموماً صبح آٹھ سے نو کے درمیان دفتر آنا پسند کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ خوشگوار موڈ میں یونٹ آتے ہیں مگر یہ خوشگوار موڈ اس وقت تک ہی ہوتا ہے جب تک یونٹ کے صوبیدار میجر صاحب اپنی ڈائری سمیت سی او کے دفتر میں نہیں پہنچ جاتے۔ سی او کی صوبیدار میجر سے ملاقات کی دیر ہوتی ہے کہ پھر ان کے موڈ کو اللہ جانے کیا ہوجاتا ہے کہ ایک ایک کر کے ہر افسر اور سردار صاحبان کی پیشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

سی او کے موڈ کے بارے میں آگاہی کے لیے افسر صاحبان زیادہ تر میس ویٹر یا سی او کے دفتر پہ تعینات اردلی سے ہی پوچھتے ہیں۔ اگر سی او ایڈجوٹنٹ کو سرکاری فون کالز ملا کے دینے کے بجائے فون کا سوئچ اپنی طرف کروا کے خود فون کرنا شروع کر دے، میس ویٹر کو چائے میں کوئی نقص نکال کر واپس بھجوا دے یا اردلی کو ڈاک لے کر دفتر آنے سے منع کر دے تو افسران سمجھ جاتے ہیں کہ آج گرج چمک کا قوی امکان ہے۔ اور جب سی او کا موڈ زیادہ خراب ہو تو تمام افسر صاحبان، سیکنڈ ان کمانڈ کو اپنا نمائندہ بنا کہ بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لیتے ہیں۔ اس ڈپلومیسی سے بھی بات نہ بنے تو پھر مجبوراً سی او کے بھی سینئر سے گزارش کرنی پڑتی۔ اس کے بعد سی او کا غصہ جھاگ کی طرح ایسے بیٹھتا ہے جیسے وہ کبھی غصہ میں تھے ہی نہیں۔ جلد ہی تمام افسران کو ٹی بار میں اکھٹے ہونے کا حکم موصول ہو جاتا ہے اور چائے کا دور چلتا ہے۔ اسی دوران سی او افسران سے انتہائی عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ یار دفتر کی بات دفتر میں ہی رہنے دیا کرو اپنی بھابھی سے اس کا ذکر نہ کیا کرو۔

افسران بھی کوشش کرتے ہیں کہ بھابھی کو کم سے کم زحمت دیں مگر جب کبھی کوئی سی او تین بجے کے بعد بھی دفتر بیٹھا رہے تو ایڈجوٹنٹ کو مجبوراً ایک فون پھر کرنا پڑ جاتا ہے جس کے بعد دو منٹ کے اندر سی او کی جیپ گھر روانگی کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ 

یونٹ کا سی او اگر گھڑ سواری، پولو اور گالف کا ذوق و شوق رکھتا ہو تو یہ افسران کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا کہ ایسے سی او عموماً سوا یا ڈیڑھ بجے ہی دفتر سے اٹھ جاتے ہیں۔ لیکن اگر سی او تاش کے کھیل برج کا شوقین ہو تو پھر تو اللہ کی پناہ۔ سرکاری مصروفیات اور کانفرنس کے نام پہ لمبی لمبی بازیاں چلتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ایڈجوٹنٹ کو صرف فون ہی نہیں کبھی کبھار چھاپہ بھی پڑوانا پڑ جاتا ہے۔ 

یہاں ہم سی او کا دوسرا روپ بھی بتانا ضروری سمجھتے ہیں۔ سی او کا یہ عہدہ عموماً دو سالہ عرصے پہ محیط ہوتا ہے اس دو سال کے عرصے میں وہ یونٹ کے ایک ایک افسر، سردار صاحبان، سپاہیوں اور سول ملازمین کے سامنے ڈھال بن کے کھڑا ہوتا ہے۔ بریگیڈ کمانڈر ہو یا جنرل آفیسر کمانڈنگ وہ سب کے سامنے اپنی یونٹ کا دفاع کرتا ہے۔ کھیلوں کے میدان ہوں یا دیگر مقابلوں میں کامیابی ان سب کا سہرا جوانوں اور افسران کو دیتا ہے۔ جبکہ یونٹ کی کسی بھی قسم کی کوتاہی کی ذمہ داری  کھلے دل سے اپنے اوپر لیتا ہے۔ دشمن کی للکار پہ سی او افسران، سردار صاحبان اور بہادر سپاہیوں کے نہ صرف شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے بلکہ سب سے آگے قیادت کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ غرض جو کردار گھر میں سربراہ یعنی والد کا ہوتا ہے وہی کردار سی او یونٹ میں نبھا رہا ہوتا ہے کہ ہماری یونٹ بھی ہمارا گھر ہوتا ہے۔

سی او کی میز کی دوسری طرف سے دیکھنے والوں کو سی او کی چم چماتی چیپ، دفتر کے باہر موجود کلف شدہ سجی سجائی وردی میں ملبوس مستعد اور چاق وچوبند اردلی، خوبصورت لان والا گھر کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ کر دے کہ بظاہر شان و شوکت والا عہدہ چم چماتی چیپ سے شروع ہو کے اسی جیپ پہ کتنے ہی پیچیدہ اور مشکل فیصلوں کی ذمہ داری نبھاتے نبھاتے کیسے گزر جاتا ہے یہ میز کے دوسری طرف سے دیکھنے والوں کو تب معلوم ہوتا ہے جب وہ خود میز کے دوسری طرف سی او کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔   

بشکریہ اردو کالمز