222

یومِ مزدور: ایک دن نہیں، ایک تحریک کی تجدید

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

 

علامہ اقبال کا یہ شکوہ آج بھی مزدور کے حال پر صادق آتا ہے۔ وہ مزدور جو دن بھر مزدوری کرتا ہے، شام کو جب تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے، تو اس کے بچوں کی بھوک، بیماری اور تعلیم کی فیسیں اس کی مزدوری کا منہ چڑاتی ہیں۔ یومِ مئی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک مزدور کی زندگی نہیں بدلے گی، معاشرہ نہ ترقی کرے گا، نہ انصاف کا گہوارہ بنے گا۔

 

ہمارا دین، آئین اور قانون محنت کش کو حق دار تسلیم کرتا ہے۔ اسلام نے مزدور کو “اللہ کا دوست” قرار دیا اور فرمایا کہ اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں؟

 

ملک میں ای او بی آئی (EOBI) جیسا ادارہ موجود ہے جو ریٹائرڈ مزدوروں کو پنشن دیتا ہے، مگر اس پنشن کی رقم اتنی قلیل ہے کہ اس سے ایک انسان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں۔ کیا وقت نہیں آ گیا کہ اس پنشن کو کم از کم تنخواہ کے برابر کیا جائے؟ تاکہ ایک عمر خدمت کرنے کے بعد مزدور باعزت زندگی گزار سکے۔

 

دوسری طرف، لیبر ڈیپارٹمنٹ کا کردار انتہائی افسوسناک ہے۔ جو ادارہ مزدور کا محافظ بننا تھا، وہی استحصالی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ فیکٹریوں کی خانہ پُری رپورٹیں، جعلی انسپیکشن، اور “مال پانی” لے کر آنکھیں بند کر لینا معمول بن چکا ہے۔ نتیجتاً آجر کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ مزدور سے جب چاہے کام لے، جتنے گھنٹے چاہے، جتنی اجرت چاہے۔

 

آج مزدور یونینز کمزور کر دی گئی ہیں، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ سسٹم نے روزگار کو غیر یقینی بنا دیا ہے، سوشل سیکیورٹی صرف کاغذوں میں زندہ ہے، اور محنت کش کا بچہ تعلیم سے محروم ہے۔

 

یومِ مئی تقاضا کرتا ہے کہ:

• ای او بی آئی پنشن کو کم از کم تنخواہ کے برابر کیا جائے۔

• لیبر ڈیپارٹمنٹ کی تطہیر کی جائے، بدعنوان افسران کو برطرف کیا جائے۔

• فیکٹری انسپیکشن کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔

• مزدور یونینز کو دوبارہ فعال و خودمختار بنایا جائے۔

• ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ سسٹم کی جگہ مستقل روزگار کو فروغ دیا جائے۔

• مزدور کے بچوں کو مفت تعلیم اور صحت کی سہولت دی جائے۔

 

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب شکاگو کے مزدوروں نے جانوں کا نذرانہ دیا، تو وہ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں لڑے تھے، وہ انسان کی عزت، محنت کے وقار اور منصفانہ معاشرے کے لیے لڑے تھے۔

 

یومِ مئی ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے آتا ہے، یاد دہانی کے طور پر کہ ہم نے ابھی تک مزدور کا حق ادا نہیں کیا۔ آئیں اس دن کو صرف تقاریر کا دن نہ بنائیں، بلکہ عمل، قانون پر عمل درآمد، اور انصاف کی بحالی کا آغاز بنائیں۔

بشکریہ اردو کالمز