628

جہانگیر ترین کی قربانی۔۔کیا عمران خان بچ پائیں گے؟

تحریر:۔ راجہ عابد علی عابد
اپنی تمام تر طلسماتی شخصیت کے باوجود 2011  ء سے قبل عمران خان سیاست کے کار زار میں فٹ پاتھ پر پیدل جوتے چٹخا رہے تھے۔ جس جدو جہد کا انہیں بہت زعم ہے کہ ان نے سترہ سال کی لازوال جدو جہد کی بنیاد پر پاکستان میں اقتدار حاصل کیا اگر دیکھا جائے تو اپریل 1996ء میں لاہور میں قائم کی گئی تحریک انصا ف 2011تک پاکستان کی سیاست میں کوئی با معنی یا قابل ذکر وجود نہیں رکھتی تھی۔مولانا فضل الرحمان عمران خان کو پاکستان کی سیاست کا غیر ضروری عنصر قرار دیتے تھے۔  2002ء میں عمران خان ممبر اسمبلی بھی بنے اور بعد ازاں مشرف ان جیسے آدمی پر مہربان بھی بننا چاہتے تھے۔ لیکن عمران خان کی سوچ اور مزاج کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب مینار پاکستان میں تحریک انصاف نے اپنا پہلا عوامی قوت کا مظاہرہ کیا تھا۔ مینار پاکستان کے سبزہ زار میں ہزاروں لوگوں نے  مجتمع ہو کر سیاسی قوتوں کو پہلی بار یہ پیغام دیا تھا کہ، نہیں!اب تحریک انصاف ایک قوت ہے۔ اور تابناک مستقبل کی خواہاں ہے۔ اس وقت تک پاکستان سے کچھ معروف شخصیات بھی پاکستان تحریک کا حصہ بن چکی تھیں لیکن اس کے باوجودد عمران خان کو ان گلیوں سے شناسائی نہیں تھی کہ جن سے گزر کر پاکستا ن میں اقتدا ر کی منزل حاصل کی جا سکتی تھی۔ انقلابی اور جذباتی لوگوں کی ایک تعداد نعرے لگا کر جلسوں میں خوب رونق لگ سکتی تھی لیکن پاکستان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی اور مضبوط سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں  اقتدار تک پہنچنا اتنا آسان کام نہیں تھا۔پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کو اس وقت قوت ملی جب پنجاب سے جہانگیر خان ترین کی قیادت میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شمولیت کی۔
جہانگیر ترین نے پارٹی میں شامل ہونے کے بعد تن من دھن پارٹی کے لیے وقف کیا۔ صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے  پاکستان میں پارٹی کو منظم کرنے اور پارٹی کو اقتدار کے راستے پر ڈھالنے کے لیے وہ تمام ذرائع اختیار کیے جو ضروری تھے۔لیکن بدقسمتی سے 2017ء میں عمران خان کا مستقبل بچانے کے لیے جہانگیر ترین کو تاحیات ناہل قرار دے کر ان سے پہلی قربانی لی گئی۔میاں نواز شریف کے مقابلے میں تحریک انصاف کے دوسرے بڑے اور بااثر ترین آدمی کو نااہل قرار دے کر احتساب کے نظام کو شفاف دکھلانے کی کوشش کی گئی۔یہ الگ بات ہے کہ لوگ اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہیں کہ ملک پاکستان میں احتساب کس قدر شفاف ہو رہا ہے۔
  جہانگیر ترین کو اگر نااہل نہ قرار دیا جاتا تو عمران خان پھنس رہے تھے لیکن کیا بات ہے جمائمہ کی وفاداری کا کہ جن نے تمام قانونی کاغذات بھیج کر عمران خان کو بچا لیا۔ اور جہانگیر ترین اپنی تمام منی ٹرائل کے ثبوت دے کر بھی  اپنے مستقبل کو نہ بچا سکے۔ جہانگیر خان کی اس پہلی قربانی نے عمران خان کے اقتدار کے راستے میں رکاوٹوں کو دور کر دیا۔ جہانگیر ترین کانٹے چن چن کر اپنی جھولی میں ڈال کر عمران خان کا راستہ صاف کرتے رہے۔ 2018 ء میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور اپنے عرصہ ڈیڑھ سال کے قیام کے بعد بری حکومتوں کی ایک مثال بن گئی۔ لوگوں سے جو وعدے وعید کر کے اقتدار حاصل کیا گیا تھا وہ تو خیر کیاپورے ہوتے۔الٹا ملک بد حالی اور تاریخی معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ اپنی خراب کارکردگی کو چھپانے کے لیے شوگر سکیندل کو جس طریقے سے اچھالا گیا۔ تاریخ میں اس    واردات کی مثال نہیں ملتی۔ حکومت خود چینی پر سبسڈی دے کر پھر اس کی تحقیقات کرواتی ہے۔اور اس کا ملبہ جہانگیر ترین پر ڈال کر یہ باور کروانے کوشش کر رہی ہے کہ عمران خان شفافیت کے اتنے سخت قائل ہیں کہ اپنوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔
سبسڈی سے متعدد لوگ مستفید ہوئے۔لیکن بدنامی ساری جہانگیر ترین کے کھاتے میں ڈالی گئی۔اس طرح جہانگیر خان ترین کو دوسری بار قربانی کا بکر بنا کر تحریک انصاف نے شفاف احتساب کی چھتری تلے چھپنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ اس خیرات سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ مستفید ہونے والے خسرو بختیار بدستور کابینہ کا حصہ ہیں۔جہا نگیر ترین کے پاس نہ تو کوئی پاٹی کا عہدہ ہے اور نہ ہی حکومت کا۔ لیکن حکومت کی ذمہ داری کا مظاہرہ دیکھیں کہ فوری طور پر ٹی وی پر خبر چلا دی گئی کہ جہانگیر خان ترین سے عہدہ وآپس لے لیا گیا۔ جس پر جہانگیر خان ترین کو میڈیا پر آکر کہنا پڑا کہ میرے پاس تو کوئی عہدہ تھا ہی نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں شوگر مافیا بہت با اثر ہے اور حکومتیں پر ان کا بڑا عمل دخل رہتا ہے۔اورجہانگیر ترین نے بھی اگر کوئی غلطی کی ہے تو انھیں ضرور سزاء ملنی چاہیے لیکن حکومت اس طرح کب تک لوگوں کو گمراہ کرتی رہے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شوگر مافیا کو نوازا گیا تو کوئی تو ہو گا جس نے یہ نوازش کی۔کوئی تو ہو گا جس کے فیصلے سے یہ نوازشات کی گئیں۔کوئی تو ہو گا جس نے اس نواش کے لیے کاغذات پر دستخط کیے ہوں گے۔کیا ان کو کوئی پوچھے گا؟اگر ان سے پوچھ ہوئی تو کیا عمران خان بچ پائیں گے؟عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے برے وقت کے لیے کچھ ساتھیوں کو ضرور اپنے ساتھ رہنے دیں۔ ایسا نہ ہو کہ کل جب ان پر مشکل وقت آئے (جو کہ بہت جلد آنے والا ہے) تو ان سے ہمدردی کرنے والا بھی کوئی نہ ہو۔

بشکریہ اردو کالمز