688

نیا طرز زندگی

سوائے ایک آدھ دن کے جو محض سیاسی تھی کبھی طویل اسیری کا اتفاق نہیں ہوا لیکن کرونا کے سبب قید تنہائی کی کیفیت سے بھی آشنائی ہوئی۔قید جیل کی ہو یا گھر کی انتہائی صبر آزما ہی ہوتی ہے۔جوں جوں وقت گزرتا ہے تو دونوں جگہوں پر ایک ہی طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تن بیتی کے سبب یہ احساس ہوا کہ وہ لوگ کتنے عظیم ہوتے ہیں جو طویل عرصہ تک اسیری کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔بھلا ہو حکومت کا کہ لاک ڈاون میں نرمی کے اعلان نے تو گویا زندگی کے آنگن میں روشنی کی شمع جلا دی ورنہ خود تو گھر کی بیکار شے کا درجہ پا چکے تھے انجام کار جن سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔

تنہائی کے ایام میں کتابیں بہترین ساتھی کے طور پر کام آتی ہیں۔ کچھ کتابوں کی پی ڈی ایف کاپی پڑھتے ہوئے وقت اچھا گزرا۔لیکن جو لطف کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ پڑھ کر آتا ہے وہ پی ڈی ایف سسٹم پر کبھی نہیں آ سکتا۔کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ تو اپنا اثر رکھتے ہیں۔یہ تو محض وقت گزاری والا کام لگا۔ نئی نسل میں تو مطالعے کا رجحان عنقا ہوتا جا رہا ہے لیکن کتاب بینی سے انسان کے اسلوب تحریر سمیت شخصیت میں بھی نکھار آتا ہے۔غریب آدمی تو کتابیں بھی نہیں خرید سکتا مطالعہ کیا کرے گا۔ اور پھر بد قسمتی کی انتہا دیکھیے کہ ہمارے ہاں معمولی قسم کے جوتے عالیشان شوکیس میں رکھ کر فروخت کیے جاتے ہیں اور انتہاء درجے کی قیمتی کتب فٹ پاتھ پر رل رہی ہوتی ہیں۔جس معاشرے میں کتاب کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جائے وہاں علم کیا خاک ترقی کرے گا۔

زندگی کو جیتنے کی دوڑ میں انسان سب کچھ بھول چکا تھا۔وباء کی وجہ سے زندگی کے اصل کی جانب لوٹے تو وہ تعلقات جو ترق تعلق کے قریب تھے کو از سر نو جوڑنےکا موقع ملا۔دنیا داری میں اس قدر کھوئے رہے کہ خود کو بھی کبھی دیکھنے کی فرصت نہیں ملی۔یہ تو کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ اب نصف النہار کی دہلیز پار کر چکے ہیں یہ عقدہ بھی اس دن کھلا جب اپنے گاوں والے گھر کے صحن میں کالے املوک کے درخت کے نیچے التی پالتی مارے ایک شام کو اترتے دیکھ رہا تھا کہ اچانک مطالبہ ہوا "اب بچوں کے لیے رشتے بھی دیکھ لینے چاہیے"۔یہ فہمائش تو گویا بجلی بن کر گری اس لیے نہیں کہ بچوں کے رشتے کرنے میں کوئی دشواری تھی بلکہ اس لیے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں جو تصورات قائم کیے تھے وہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئے۔اپنی پریشانی کو چھپاتے ہوئے میں نے جواب دیا کہ "آگ کے اس دریا میں جلنے کے لیے ساری زندگی پڑی ہے لہذا انھیں چار دن اور سکون سے جینے کا موقع دینا چاہیے"۔ غیر متوقع جواب نے حالات میں سراسیمگی پیدا کر دی تاہم کوئی واقعہ رو نماء نہیں ہوا۔

عالمی وباء کے دیگر فواید میں ایک یہ بھی ہوا کہ برداشت کے مادے میں اضافہ ہواہے۔چونکہ کسی بھی وباء سے فورا جان نہیں چھوٹتی۔ بہت سی وباہیں تو زندگی کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ 

خود ساختہ اسیری نے زندگی کے وہ اسلوب متعارف کروائے جنھیں ہم بھول چکے تھے۔وہ منظر دکھلائے جو محو ہو چکے تھے۔اور وہ یادیں یاد دلائیں کہ جو فراموش ہو گئی تھیں۔بچپن اور لڑکپن کے بیتے دنوں کی وہ حسیں یادیں جنھیں ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ بچوں کے مشاغل دیکھ کر اپنا بچپن شدت سے یاد آجاتا ہے بے پرواہئ اور بے فکری کے وہ خوبصورت دن وہ دیسی کھیل کھیلنا وہ تتلیوں کے پیچھے بھاگناکاش کہ وہ دن دوبارہ لوٹ آئیں۔

اب بھی گاوں کی خاموش راتیں خلوت کی زندگی کا حسن دوبالا کر رہی ہیں۔چاند کی دودھلی چاندنی سے پہاڑوں پر بکھرتے موتی زندگی میں نئی روح پھونک کر جذبوں کو جواں کر دیتے ہیں۔ ایک نئی امنگ اور نئی سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔ صبح کو پھوٹتی کرنیں اور شام کا ڈھلتا سورج احساس میں اتر کر اسلوب زندگی سنوار تے ہیں۔ بہت عرصے کے بعد کھیتوں کی مٹی  کی خوشبو سے کھیلتے ہوئے دہقان دیکھ کر عجیب فرحت محسوس ہو رہی ہے۔ وباء اگر عالمی سطح پر نہ پھیلتی تو کس نے یہ منظر دیکھنے تھے۔ منظر نہیں بلکہ دلکش نظارے جو زندگی کی حقیقت تھے جنھیں ہم بھول گیے تھے۔

بہت سی جفائیں جو زندگی میں ہم نے خود پالیں اور جن کے بغیر زندگی کا سفر محال نظر آتا تھا سب بے سود ثابت ہو گئیں۔ وہ طرز زندگی جس سے ہم جان چھڑا کر بھاگے تھے قدرت نے وہیں لا کر چھوڑا ہے۔ شاید زندگی کی اصل طرز  یہی تھی جس سے ہم نے منہ موڑ لیاتھا۔

یہ زبردست موقع ہے کہ ہم اصل اسلوب سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں جہاں محبت، خلوص ،چاہت،رواداری،ہمدردی اور احترام کی بنیادیں ہیں۔ مادی ترقی کے فریب سے دور  خود غرضی کے خول سے ہٹ کر عاجزی، انکساری اور احساس کی نعمتوں کے ساتھ اپنے مسقبل کو سنواریں۔مصنوعی زندگی کو چھوڑ کر حقیقت پسندی کے ساتھ زندہ رہیں۔

قدرت نے ہمیں پلٹنے کا موقع دیا ہے عالمی وباء کے اس دور کو ہم ایک  موقع سمجھ کر انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارنے کی بنیاد رکھیں۔ مصنوعی زندگی کا نظام رک گیا ہے لیکن اصل زندگی تو چل رہی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز