قبلہ ایاز امیر صاحب بھی کمال انسان ہیں۔علم و ادب اور صحافت و سیاست کو وہ بلند مینار ہیں کہ مجھ جیسا آدمی جرات گفتار بھی نہیں کر سکتا لیکن جب سے کرونا سے بچنے کے لیے گوشہ نشین ہوئے تو چکوال میں علم و اددب کے شہسوار کو اشیا کی سپلائی کا عجیب مسلہ درپیش ہو گیا۔ چند روز قبل جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو ااور اپنی حالت غیر کے بارے میں اپنے ایک کالم میں احوال درج کر ہی دیے تو حالت حال کو الفاظ کے دیے گئے روپ کا وہ اثر ہوا کہ ان کے ایک دوست جو محکمہ ایکسائز میں ہوتے ہیں نے ان کے درد کی دواء کردی۔ جب سے اشیا کی سپلائی کا مسلہ حل ہوا ہے تب سے ان نے دیہات میں اپنے بقیہ کام کاج کی تکمیل کا ارادہ کر لیا ہے ورنہ عرصہ دراز سے تو ان کی زمین کی باڑ مکمل نہیں ہو رہی تھی۔ خوش قسمت ہیں کہ دانہ دنکا زمینوں سے آ جاتا ہے سبزی کے پیسے ان کے پاس موجود رہتے ہیں اور دودھ کے لیے ان نے بھینسوں کے مسکن کی تیاری کا بھی سوچ لیاہے۔ لیکن لگتا ہے جب تک وہ یہ کام شروع کریں گے رمضان شروع ہو چکا ہو گا رمضان میں تو کوئی کام ہوتا نہیں سوائے عبادت کے اور عید تک کرونا سے ویسے بھی جان چھوٹ جائے گی چونکہ بہت سوں کی غربت دور ہو ددچکی ہو گی لہذا اگر زندگی پھر مسکرائی تو قبلہ ایاز امیر پھر شہر کی طرف رخت سفر ہو نگے اور پھر یا روزی یا نصیب والی بات ہی ہوگی۔
ایک بات جو ان نے بہر حال خطرناک کی وہ یہ کہ اب دیہات میں ان کا دل لگ رہا ہے انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ سے کالم بھی بھیج دہتے ہیں ٹی وی پروگرام بھی ہو جاتا ہے گھنٹے ڈیڑھ میں اسلام آباد آ جا بھی سکتے ہیں اب برہمہ چاری ہی وہ واحد وجہ ہے جو ان کا شہر سے رشتہ جوڑے رکھے گی۔لیکن میرا نہیں خیال کہ شہروں کی چکا چوند روشنیوں کو وہ چھوڑ سکیں گے ویسے بھی شہر کی محفلوں کو ویران کر کے انھیں ویرانے میں کوں بسیرا کرنے دے گا اور میرا مشورہ بھی یہی ہے کہ وہ دل ناتواں کو زندہ و جاوید رکھنے کے لیے شہروں کی لذت آشنائی سے جڑے رہیں ورنہ دیہات کی تنہائی کا غلبہ تو انھیں جلد بوڑھا کر دے گا۔انھیں اشیاء کی سپلائی بھی جوان نہیں رکھ سکے گی اور برہما چاری بھی ناچار جان چھڑا دے گی۔
وبا کے اس موسم میں دیہات کی زندگی تو بہر حال بہتر ہے کہ بندہ پرانے دوستوں سے مل لیتا ہے بچپن کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں کھیتوں کھلیانوں کی چارہ گری کر لیتا ہے۔قرنطینہ کی کیفیت میں نہیں رہتا ورنہ اگر قبلہ شہر میں رہتے تو انھیں بھی مستنصر حسین تارڑ صاحب والی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتاکہ جن نے کہا کہ قرنطینہ کی وجہ سے گھر میں جب بھی بیگم میرے پاس سے گزرتی ہے تو میری طرف دیکھ کر کہتی ہے نجانے کب اس وبا ء سے جان چھوٹے گی۔
قبلہ ایاز امیر صاحب کی تو سپلائی لائین بحال ہو گئی ہے لیکن اس طرح کا مسلہ تو ان احباب کو بھی شدت سے لاحق ہے کہ جو بہار کے اس موسم میں کشمیر کے گلستانوں میں دواء دردِ دل کے بنا جی رہے ہیں۔ حکومت نے تو تمام لائنیں کاٹ رکھی ہیں جلد بحالی کے امکانات بھی معدوم ہیں اوپر سے ماہ با برکت کی بھی آمد ہے۔لہذاہجر کا یہ خیال اس قددر وحشت بن کر اترتا ہے کہ زندگی کی لائین ہی کٹتی محسوس ہوتی ہے۔وباء کے اس موسم میں دواء کا اس قدر قحط ہے کہ وہ احباب کہ جن کی محفل کا کبھی نور نظر تھے نظریں ملانے سے ہی قاصر ہیں آٹا چینی تو دے سکتے ہیں لیکن بوند بوند کو ترساء رہے ہیں
کاش کہ کوئی اوربھی زمین کی پیمائش کر سکتا،باڑ لگانے کی سوچ سکتا،سہانے موسم کی شام باہر بیٹھ کر اسلوب شب پر اتر سکتا،کتابوں کو سمجھ کر پڑ سکتا اور دیہات کی زندگی سے دل لگا کر شہروں سے معذرت کرسکتا لیکن اگر کوئی چارہ گر ہوتا تو!
896