برادر بزرگ نے ایک پائے کا کالم باندھا ہے۔ ’واٹر لو تو ہوچکا‘۔ حضرت نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع کے پس منظر میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی تصویر کھینچتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کی خارجہ کامیابیوںکےنتیجے میں تحریک انصاف کے بیانیے کا واٹرلو ہو گیا ہے۔ اگرچہ ہمارے والٹر لپ مین نے اپنے استعاراتی بیان میں 18 جون 1815 کے فاتح فیلڈ مارشل ویلنگٹن کا صراحت سے ذکر نہیں کیا لیکن محترم صحافی کا اشارہ واضح ہے۔ انہوں نے حالیہ قومی سیاسی تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے میانوالی کے’ انقلابی‘ اور اسکے حامیوں کی پے در پے ناکامیوں کی فہرست بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’مسیحا خان‘ کا واٹر لو ہو گیا ہے۔ گزارش ہے کہ محترم صحافی نے اپنے مصور شاہکار کا کینوس ازرہ سہولت محدود رکھتے ہوئے نتائج اخذ کرنے میں کسی قدرعجلت دکھائی ہے۔حضرت فرماتے ہیں کہ لمحہ موجود میں سیاست نہیں، بین الاقوامی امور ترجیح بن چکے ہیں۔ نیز یہ کہ دفاع کو اہمیت نہ دینےوالی ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ ان فرمودات میں کینیڈا سے درآمد شدہ اس خود ساختہ شیخ الاسلام کی بازگشت سنائی دیتی ہے جس نے جنوری 2013 میں ملک عزیز پر دھاوا بول کر اعلان کیا تھا کہ ’سیاست نہیں، ریاست بچاؤ‘۔ ماڈل ٹاؤن کی وہ خود ساختہ مشیخیت ان دنوں کینیڈا کی پرفضا دنیا میں ’علمی اشغال‘ میں مصروف ہے۔ ہماری ریاست آج بھی بفضل خدا قائم ہے اور سیاست بدستور کرہ ٔہوائی میں معلق ہے۔ ریاست یا سیاست میں موازنہ سرے سے خلط مبحث ہے۔ قوم کا وقار اغیار تسلیم نہیں کیا کرتے۔ احترام کی یہ فصل اپنے کھیت میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس بیان کو سمجھنے کیلئے نپولین اور واٹر لو کی طرف پلٹنا ہو گا۔ 19ویں صدی کے یورپ کی تاریخ تین قدآور شخصیات کے سائے میں لکھی گئی۔ نپولین بونا پارٹ، پرنس میٹرنخ اور آٹو فان بسمارک۔ انقلاب فرانس سے برآمد ہونیوالے نپولین نے عسکری طاقت کے بل پر اپنے اقتدار کی بنیاد رکھی۔ نپولین بوناپارٹ درحقیقت ایک صدی بعد آنیوالے کارپورل ہٹلر کی پیش گفتہ تمثیل تھا۔ نپولین بھی یورپ تسخیر کرنے نکلا تھا اور جیسا کہ ہمارے صاحب علم مؤرخ نے بیان کیا، اس نے بیس برس میں کوئی ساٹھ لڑائیاں لڑیں ۔ ہٹلر ہی کی طرح نپولین نے بھی برطانیہ پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ہٹلر جرمن فضائیہ کے ہاتھوں ناکام ہوا۔ نپولین بوناپارٹ کو اسکی بحریہ لے ڈوبی۔ برطانیہ کی تسخیر میں ناکامی پر ہٹلر نے 22 جون 1941 کو روس پریلغار کر دی۔نپولین نے بھی 24 جون 1812 کو روس کی سرحد عبور کی تھی۔ نپولین بھی ماسکو سے گرتے پڑتے واپس لوٹا۔ ہٹلر بھی ماسکو کے دروازے سے واپس لوٹا۔ ہٹلر ہی کی طرح نپولین کی سیاست بھی قوم کی تعمیر کی بجائے دنیا کی تسخیر کے خواب میں ملبوس تھی۔ نپولین عسکری اور انتظامی اعتبار سے عالی دماغ تھا لیکن اسکی کامیابیوں پر حتمی ناکامی کی مہر ہے۔ نپولین کا قانونی بندوبست آج تک مثالی سمجھا جاتا ہے۔ اسکی انتظامی صلاحیت حیران کن تھی۔ اس نے عام شہریوں کو تعلیم فراہم کی۔ جاگیرداری کا خاتمہ کیا۔ مذہبی پیشواؤں پر ریاست کی عمل داری قائم کی۔ مذہبی اقلیتوں کو امتیازی سلوک سے نجات دلائی۔ کلیسائی احتساب کا خاتمہ کیا لیکن جنگ پر نپولین کا ارتکاز ایک تباہ شدہ یورپ پر منتج ہوا۔ اس کی میراث ان گنت شہروں اور آبادیوں کا ملبہ تھی۔ وہ آزادی صحافت کا مخالف تھا۔ وہ منتخب نمائندوں کی بالادستی سے خائف تھا اور سیاسی مخالفین کو بندی خانوں میں رکھنے کا قائل تھا۔ حتمی تجزیے میں نپولین ناکامی کا استعارہ ہے۔ یہ ناکامی واٹرلو سے بحیرہ روم کے جزیرے البا اور بحیرہ اوقیانوس کے جزیرے سینٹ ہیلنا تک پھیلی ہوئی ہے۔ نپولین کا موازنہ 19ویں صدی ہی کے یورپ میں پرنس میٹرنخ اور چانسلر بسمارک سے کیجئے۔ دونوں مدبر تلوار کی بجائے پیداواری سیاست میں یقین رکھتے تھے۔ سفارت کاری کی میز پر انکا ثانی نہیں تھا۔ میٹرنخ نے نپولین کے تباہ شدہ یورپ میں 1815 سے 1848 تک طاقت کا توازن قائم کیا۔ بنیادی طور پر قدامت پسند سیاست دان میٹرنخ کے کارناموں میں جنگی فتوحات نہیں ہیں لیکن وہ ایسا سیاسی بندوست قائم کرنے میں کامیاب رہا جس کی بنیاد تدبر اور صنعتی پیداوار تھی۔ میٹرنخ 1848 کے انقلابی ابھار میں ڈوب گیا۔ میٹرنخ کے بعد یورپ پر جرمن مدبرآٹوفان بسمارک نمودار ہوا۔ بسمارک نے کسی فوج کی کمان نہیں کی۔ کبھی جنگی نقشوں پر غور نہیں کیا۔ وہ سفارت اور سیاست کے بل پر اپنی قیادت منوانا جانتا تھا۔ اس نے جرمنی کو ایک قومی ریاست کی شکل دی ۔ وہ کارل مارکس جیسے انقلابی مفکر اور گلیڈ سٹون جیسے برطانوی مدبر کے مقابلے میں بیس برس تک یورپ کا بے تاج حکمران رہا۔ بسمارک بھی قدامت پسند تھا بلکہ محنت کشوں کے حقوق اور فلاح کا سوال ہی بسمارک کی سیاست کا خاتمہ ثابت ہوا۔ ہمارے قابل احترام بھائی نے تاریخ کی گہرائیوں سے واٹرلو برآمد کیا ہے لیکن انہیں میٹرنخ اور بسمارک کے کارناموں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں میانوالی کا ’یوسف ثانی‘ تو خطہ پوٹھوہار کا دست کاشتہ پودا ہے۔ عمران خان اور اسکے حامیوں کا بیانیہ تو کسی بوناپارٹ کی شجاعت ، کسی ظہیر الاسلام اور فیض حمید کی انگلیوں سے بندھے دھاگوں کا ناٹک ہے۔ پاکستان کا واٹرلو نہیں ہوا۔ ہمارا یدھ تو اسکندر مرزا اور ایوب خان کے گٹھ جوڑ سے چلتا ہوا آج تک پہنچا ہے۔ پاکستان عالمی نقشے پر معاشی اعتبار سے کمزور حیثیت رکھتا ہے اور اسکی سیاسی تاریخ میں وسیع رخنےہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں حاصل ہونے والی اہمیت میں ہماری معاشی ترقی کی ضمانت نہیں۔ ہمارے تمدن میں داخلی توانائی نہیں آئی ۔ ہماری سیاست ابھی بند دروازوں کے پیچھے سرگوشیوں میں ملفوف ہے۔ ہمارے بچوں کی تعلیم ایک خواب ہے۔ ہمارے چالیس فیصد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندہ ہیں اور ہمارے آدھے بچے کمزور غذائیت اور معاشی بدحالی کے ہاتھوں دماغی کمزوریوں کا شکار ہیں۔ ہمارے مفروضہ واٹرلو میں کسی خود کاشتہ بیانیے کی شکست حتمی تجزیے میں ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔ قوموں کی منزل واٹرلو میں نہیں ، معاشی ترقی اور عوام کے تحفظ میں پائی جاتی ہے۔ ہم وقت سے پہلے اس فتح کا رجز گا رہے ہیں جس میں ابھی ہم نے قدم ہی نہیں رکھا۔
8