363

وفاقی کابینہ میں تبدیلوں کا  موسم۔۔۔

گزشتہ سال انہی دنوں اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور مخالفین کے خوب لتے لینے والےوزیر اطلاعات ونشریات فوادچویدری کو اچانک انکے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا فوادچویدری کو تو دوسری وازرت مل گئی تھی لیکن اسد عمر کی کافی عرصے تک کابینہ سے مکمل چھٹی رہی تاہم بعد میں انہیں منصوبہ بندی کا وزیر بنا دیا گیا
اسکے علاوہ بھی جب سے یہ حکومت بنی ہے تب سے لیکر دو دن قبل تک کوئی نا کوئی وزارت بدلتی رہتی ہے اگر دیکھا جاۓ تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ عمران خان نے شروع میں کہہ دیا تھا کہ کوئی بھی وزیر اپنے آپکو مستقل نہ سمجھے  
 وزیر اعظم کم از کم اپنے اس وعدے پہ پورے پورے اترتے ہوۓ نظر آرہے ہیں  اسکا  مزیدثبوت دو دن قبل انہوں نے اپنی معاون خصوصی براۓ اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو انکے عہدے سے ہٹا کر دیا ہے
فردوس عاشق اعوان بھی فواد چوہدری کی طرح مخالفین کی خوب خبر لیتیں تھیں پتہ نہیں کس کی بدعا لگی کہ انکا یہ مشن قبل از وقت ہی اختتام کو پہنچ گیا
اب انکی جگہ شبلی فراز نے لی ہے جنہیں پی ٹی آئی کا حقیقی چہرہ مانا جاتا ہے شبلی فراز معروف شاعر احمد فراز کے بیٹے ہیں سو ان کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے ہے جہاں بولنے سے پہلے جملوں کو سو بار تولہ جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اسمیں تو بغیر کسی رعایت کے اپوزیشن پہ ہر وقت گولہ باری کرنا ہوتی ہے لہذا اس اعتبار سے انکے لیے یہ ایک مشکل کام ہوگا البتہ دیکھنا یہ ہیکہ انہیں کتنا عرصہ درکار ہو گا مذکورہ وزارت کی مانگ پہ یورا پورا اترنے کے لیے تاہم اس مشن میں وہ اکیلے نہیں ہیں انکے ساتھ معاونت کے لیے پاک فوج کے سابق ترجمان عاصم سلیم باجوہ کو لایا گیا ہے یہ بھی ایک باصلاحیت انسان ہیں اگر یہ کہا جاۓ تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک طرح سے بانی بھی ہیں انہوں نے اس شعبے کو نئی جہتوں سے روشناس کروایا ہے
 بہرحال تبدیلی کا سلسلہ جاری وساری ہے یہ کہاں پہ جا کہ تھمتا ہے اس بارے کوئی بھی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہو گی

بشکریہ اردو کالمز