اس پارے کا پہلا پاؤ سورة المائدہ پہ مشتمل ہے مذکورہ سورت کی آیات نمبر87 میں ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والوں تم ان پسندیدہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو جنہیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کر دیا ہے۔
اس آیت کا مطلب ہے کہ جس حلال چیز کی طرف دل مائل ہو اس سے خود کو یہ سمجھ کر روکنا کہ یہ تقوی ہے درست نہیں یہ روش عیسائی راہبوں اور ان کے علماء کی تھی وہ خود پہ کھانے پینے کی لذیذ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے تھے
آج بھی بہت سارے لوگ تصوف کے نام پہ بہت ساری حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں علامہ اقبال رحہ نے ایسے تصوف کو عجمی تصوف کہا ہے
آیت نمبر 89 میں قسم کا کفارہ بیان کیا گیا ہے
فرمایا بے مقصد قسموں پہ تمہاری گرفت نہیں کی جاۓ گی البتہ تمہاری پختہ قسموں پہ گرفت کی جاۓ گی
کفارہ قسم دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اوسط درجے کے مطابق
یا دس مستحق افراد کو لباس فراہم کرنا ہے
یا پھر ایک غلام آزاد کرنا ہے اور اگر کوئی مذکورہ تین طریقوں پہ عمل نہ کرسکتا ہو تو وہ تین روزے رکھے یہ قسم کا کفارہ ہے ایسی پختہ قسم کے جسے کھا کر توڑ دیا گیا ہو
سورة الانعام کا آغاز اس پارے کے پہلے پاو کے بعد ہوتا ہے انعام کا معنی ہے مویشی اس سورت کا نام الانعام اس لیے رکھا گیا ہیکہ اس کہ اندر ان مشرکین کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے از خود چند جانوروں کو اپنے اوپر حلال کر لیا تھا اور چند کو حرام
کفار مکہ کا مطالبہ تھا کہ کوئی لکھی ہوئی کتاب نازل ہو اور ساتھ میں فرشتہ بھی ہو جو کہ آپکی نبوت کی تصدیق کرے تب ہم ایمان لائیں گے آیت نمبر 7 میں اللہ تعالی نے کفار کی اس شرط کا ذکر کرتے ہوۓ جوابا فرمایا کہ اے محبوبﷺ اگر ہم آپ پہ کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب نازل کردیں اور وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو لیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے
آیت نمبر پچاس میں ارشاد فرمایا کہ آپ فرمادیجیئے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں از خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ دعوی کرتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں میں تو فقط اس چیز کی پیروی کرتا ہوں کہ جسکی میری طرف وحی کی جاتی ہے
مذکورہ آیت کے تین جملے دراصل مشرکین کے تین سوالوں کے جوابات ہیں
1مشرکین کہتے تھے کہ اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو پھر ہمارے لیے دنیا کے منافع اور اچھائیاں طلب کریں
اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں تمام بھلائیاں اللہ کے ہاتھ میں ہے
2مشرکین کہتے تھے کہ اگر آپ رسول ہیں تو پھر ہمیں مستقبل کے بارے میں خبر دیں کہ آنے والے وقتوں میں کیا فائدے ہونگے اور نقصانات کا کس قدر امکان ہے تاکہ ہم تیاری کر سکیں
اللہ نے فرمایا آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ میں از خود غیب نہیں جانتا تم مجھ سے ان امور کا مطالبہ کیسے کرتے ہو؟
3مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے بازاروں میں بھی چلتا ہے اور ازدواجی زندگی بھی بسر کرتا ہے اور لوگوں کے ساتھ بھی رہتا ہے
تو اللہ نے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ میں فرشتوں میں سے نہیں ہوں
اللہ تبارک وتعالی نے آپ علیہ السلام سے ان تین امور کی نفی کیوں کروائی اسکی کئی حکمتیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہیکہ نبی علیہ السلام اپنی طرف سے اللہ کی جناب میں تواضع اور خضوع کا اظہار کریں تاکہ لوگ آپﷺ کے متعلق وہ اعتقاد نہ کر لیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کیا گیا تھا نصاری نے انکے ساتھ اتنا غلو کیا کہ معاذ اللہ انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا
خلاصہ یہ ہیکہ اللہ تعالی نے رسولوں کو اس لیے بھیجا ہے کہ وہ خوشخبری سنائیں اور ڈرائیں نہ اس لیے کہ کفار ان سے من مانے اور فرضی معجزات طلب کریں انبیاء کرام صرف انہی معجزات کو پیش کرتے ہیں کہ جنکی اللہ کی طرف سے اجازت ہوتی ہے