542

“سرخ سویرا یا صبح نسیم”


حالیہ دنوں بسمل عظیم آبادی کی غزل کے اشعار:
سرفروشی کی تمنا اب ھمارے دل میں ھے
دیکھنا ھے زور کتنا بازوۓ قاتل میں ھے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رھا ھے باربار
آئیں وہ شوق شھادت جن کے جن کے دل میں ھے


اور اسکے ساتھ ھی "سرخوں" کے پرانے نعرے:
جب لال لال لہراۓ گا تب ھوش ٹھکانے آۓ گا
سرخ ھو گا سرخ ھو گا ایشیاء سرخ ھو گا


نے اسوقت کافی مقبولیت حاصل کی جب لاہور میں منعقد فیض میلہ کے دوران نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے مخصوص لیکن بلاشبہ سحر انگیز انداز میں انہیں دہرایا۔
چونکہ بنیادی طور پر ہم تماش بین واقع ھوے ھیں اسلیئے ھم نے  نگاہ کا زاویہ بدل بدل کر انداز و اطوار کو خوب اچھی طرح سے جانچنے کی کوشش کی۔طلبا کے مالی حالات انکے تعلیمی ادارے حتیٰ کے انکے پہناوے تک زیر بحث رھے۔
جب ان طلباء سے اس سرگرمی کے بارے میں استفسار کیا گیا انکے مطالبات یا مانگیں انکے نعروں سے180درجے مختلف یعنی روایتی طلباء تنظیموں کے دیرینہ مطالبات پر مبنی تھیں۔ اگرچہ ان مطالبات کے حق میں اور اختلاف میں سیر حاصل گفتگو کی جاسکتی ھے لیکن حکومتی حلقوں سے ان مطالبات کی کسی نا کسی حد تک مشروط حمایت دیکھنے کو مل رھی ھے یہی وجہ ھے کے اس پر لکھنا یا اظہار خیال کرنا وقت کا تقاضا ھے۔


نوجوان طلبا کے نعروں سے مطالبات تک ایک بات تو واضح ھو گئ ھے کے نا تو ان طلباء کو اتنی پذیرائی کی توقع تھی نا ھی وہ اسکے لیئے ذہنی طور پر تیار تھے اپنے الگ یا جدت سے آراستہ منشور کی کمیابی کی بدولت عجلت میں اپنا بیانیہ روائتی ھی رھنے دیا گیا۔یہاں یہ بات بھی کہی جاسکتی ھے کے ان طلباء کا لیفٹ ونگ، کسی مخصوص این جی او یا کسی بااثر گروہ  سے کوئی لینا دینا نہیں۔اسلیئے انکی نیت پر شک کی گنجائیش نہیں۔


لیکن یہاں یہ پہلو قابل غور ھے کے ناپختہ زہنوں سے پختہ باتوں نے جہاں کئی لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہیں اب شدت سے اس بات کا خطرہ ہے کے پرانے سرخے ان طلبا کے گرد جمع ھوں گے ہیں جو بزعم خود کارل مارکس کی اشتراکیت کے امین ھیں۔ پاکستان میں انکی کبھی نھی چلی اس لیئے عرصہ دراز سے روپوشی اختیار کیئے ھوے ھیں اور ذہنی طور پر مغرب کو آقا مان چکے ھیں۔کیپٹل ازم کے نام پر سرخ سویرے کا جھانسہ دے کر اپنی راتیں مہکانے والے سیکولرازم کی آڑ لے کر مذہب پر پھبتیاں کسنے سے باز نھی آتے۔ ہمارے نوجوان شاید سرخ سویرے کی    تاریخ  نہیں جانتے  کہ اس سے مراد بدترین   سرخ روسی انقلاب ہے 1917 میں روس اس انقلاب کی لپیٹ میں آچکا تھا۔  اس کے بعد ان سرخوں نے ترکستان کی جانب پیش قدمی کی ابتدای طور پر وہاں پر پہلے نظریاتی ہمنوا بناۓ گۓ اس کے بعد کمیونسٹوں نے ترکستان پر قبضہ کرتے ہوے ہر شے پر اپنا تصرف حاصل کر لیا ۔وہاں مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات تنگ ہو چکا تھا یہ انقلاب لینن اور اسکے حامیوں کی طرف سے تھا قصہ مختصر کہ وہاں انھوں نے عورت کی آزادی کے نام پر تمام مسلم عورتوں کو اکھٹا کرکے انکے دوپٹے جلا دیے اور یہ نعرہ لگایا کہ آج سے عورت آزاد ہوگی۔بدقسمتی سے آج طلبا یونین کی آڑ میں چند شدت پسند عناصر اسی چنگاری کو پھر سے ہوا دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں حالیہ ریلی میں طلبا و طالبات سرخ ماسک منہ پر چڑھاے اور اس ریلی کا حصہ بنے اس میں ایک ٹیبلو بھی پیش کیا گیا جس میں تین لڑکیاں ایک لڑکے کو مختلف اطراف سے پٹا ڈالے کھینچ رہی ہیں۔اس سے انکی مراد جو بھی ہو لیکن ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوے قرآن عظیم الشان جیسی مکمل راہنمای میسر ہونے کے باوجود عورت کی اس طرح کی آزادی کے نعرے سمجھ سے بالا تر ہیں۔وہ دین کہ اسنے عورت کو تب   ماں بہن بیٹی بیوی کا وقار دیا مان دیا تمام تر حقوق دلواے جب ان سرخوں کے آبا۶واجداد عورت کو محض ایک نجس و مکروہ شے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے تھے اوردرحقیقت آج بھی عورت کی آزادی کے نام پر جو عریانی و فحاشی فروغ پارہی ہے وہ زمانے کو صدیوں پیچھے واپس لے کر جارہی ہے جہاں عورت کو ایک استعمال کی چیز سمجھا جاتا تھا مغرب میں آج  بھی یہی کچھ ہورہا ہے جو چند  سرخے اب ناپختہ اذہان کو ورغلا کر کروانا چاہ رہے ہیں۔ ہاں 
ان دس نمبری لیفٹ ونگ کے مقابلے میں اگر نوجوان لیفٹ ونگ نمودار ھوتا ھےجو واقعتًا طلبا یونین کی بحالی چاہتے ہیں تاکہ اس کو مثبت مقاصد میں استعمال کیا جاسکے تعلیمی اداروں کے ہاتھوں طلبا و والدین کے استحصال سے بچا جاسکے اور اس طبقاتی فرق کو مٹایا جاسکے  تو  اسمیں  قطعًا کوئی مضائقہ نھی بشرطیکہ آج کے نوجوان ایک نمبر لفٹ ونگ والے گزرے دس نمبریوں میں شمولیت اختیار نا کرلیں۔


خریدار ذہن کا معاشرہ اپنے عروج پر بھی فروخت کرنے والے ھی پیدا کر سکتا ھےایسے میں انقلابی ذہنوں کی جہاں حوصلہ افزائی ہونی چاہیے وھیں انہیں یہ احساس بھی دلاتے رھنا چاھیے کے کہیں نام نہاد سرخے لبرلز انھیں اپنی آخری امید جان کر انکے کندھوں پہ سوار نا ھونے پائیں۔ انقلاب کے نام پر بے راہ روی کو عروج نا ملنےپاۓ عریانی و فحاشی کو انقلاب کا لبادہ میسر نھی آنا چاھیئے۔


ہماری لاکھ کوتاہیوں کے باوجود آج بھی مملکت خداداد کی اساس اللہ ﷻ اور اسکے رسول ﷺ کی محبت پر قائم ھے دینی اقدار کی پاسداری غیرت و حمیت شرم و حیا ہمارا اثاثہ ھیں لوگوں کی مذہبی حساسیت کا اندازہ لگانا مشکل ھی نھی ناممکن ھے کے جذبات کو ماپا جاے ایسا پیمانہ شاید سرے سے وجود میں ہی نہیں آسکا
مذہبی شعار و اقدار کو جس جس نے روندا اسنیں نقصان ہی اٹھایا ھےلہذا نوجوان انقلابیوں کو مذہبی سماجی اخلاقی روایات سے تصادم کی بجاۓ معاشرے کے پسے ھوے طبقے کی آواز بننا ھو گا۔طبقاتی یا سرمایہ دارانہ نظام کبھی بھی عوام الناس کا حتمی انتخاب نھی رھا لیکن پہلے طے ھو جانا چاھیئے کے کہیں انقلاب کی آڑ میں ففتھ جنریشن وار کے آلہ کار تو نھی بننے جارھے۔
سیاسی مخالفت اور مختلف بیانیہ کی گنجائش ہر وقت موجود رھتی ھے لیکن اینٹی سٹیٹ یا اینٹی ڈیفنس راۓ عامہ کی ترویج قابل قبول نھی۔


سوچ کی ترقی اور فکر کی آزادی کو یہ معاشرہ ضرور سراھے گا لیکن کیا ہی اچھا ھو اگر نوجوانوں کا نعرہ
 سرخ سویرے کی بجاے صبح نسیم کا ھو
جس سے عمومی تاثر یہ رہے کے ایشیاء لال (خون آلود)نھی ھونے جارھا۔
کیونکہ یہاں معاشی نظام ہمیں چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی احمد مجتبی محمد مصطفیﷺ  بذریعہ قرآن عطا فرماگۓ ہیں کہ جو زکوٰة و عشر کا نظام ہے مالدار طبقے پر زکوٰة و عشر لازم کیے گۓ ہیں تاکہ دولت گردش میں رہے معاشی نظام کو قوت ملے غریب کا استحصال نہ ہو اور طبقاتی فرق سے بچا جا سکے ۔آج بھی اگر مملکت خداداد میں اسلامی معاشی نظام مکمل طور پر ترویج پاجاتا ھے تو پھر صبح نسیم کو آنے سے یہ سرخے بھی نہیں روک سکتے۔ ان شاء اللہ
 

بشکریہ اردو کالمز